Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سڑکوں پر جھاڑو لگانے والی چنتا دیوی انتخابی میدان میں بھی جھاڑو پھیر کر ڈپٹی میئر بن گئیں

By Akhtar Rasool
جنوری 6, 2023 4 Min Read
0

شمالی بھارت کی ریاست بہار کے گیا شہر کی سڑکوں پر گزشتہ چالیس برس سے جھاڑو دینے والی چنتا دیوی انتخابات جیت کر اسی علاقے سے ڈپٹی میئر منتخب ہو گئی ہیں

تفصیلات کے مطابق میونسپلٹی کے حالیہ انتخابات میں چنتا دیوی نے اپنے قریبی حریف کو لگ بھگ پندرہ ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ یہ سیٹ ’ایس سی‘ یعنی شیڈول کاسٹ (نچلی ذات سمجھے جانے والے ہندو) خواتین کے لیے مخصوص ہے اور ان کی حریف بھی ’ایس سی‘ خواتین ہی تھیں

واضح رہے کہ ’شیڈول کاسٹ‘ (ایس سی) زمرہ میں وہ ذاتیں شامل ہیں، جنہیں نے تاریخی طور پر مذہبی، معاشی اور سماجی امتیاز کا سامنا ہے۔ حکومت نے ان کے لیے انتخابات اور ملازمتوں میں ریزرویشن جیسے اقدامات متعارف کرائے ہیں

ساٹھ سالہ چنتا دیوی کی جیت اس لیے بھی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے کیونکہ وہ ’نچلی ذات‘ سے تعلق رکھتی ہیں، جس کی وجہ اس انہیں ہر قدم پر جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں اپنے بچپن میں ہی والدین کے سائے سے محروم ہونا پڑا تھا، وہ گذشتہ دو دہائیوں سے بیوہ ہیں اور ان کے تین میں سے دو بیٹے بھی صفائی کا کام کرتے ہیں

ان کے پوتے راہول کمار بتاتے ہیں ”سنہ 2020ع میں ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے انہی گلیوں میں سبزی بیچنا شرع کر دی، لیکن سبزی بیچنے والوں کے خلاف میونسپلٹی کی بے جا کارروائیوں نے انہیں انتخابات میں اترنے پر مجبور کر دیا۔ افسر اکثر آ کر بازار میں غریب سبزی فروشوں کو کسی نہ کسی بہانے سے پریشان کرتے تھے۔ انہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی“

گزشتہ برس ایسے ہی ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے چنتا دیوی کہتی ہیں ”ایک بار میونسپلٹی والے آئے اور میری اور دوسرے سبزی والوں کی ٹوکریوں کو اپنے کچرے کے ٹرک میں ڈال دیا لیکن اس کے باوجود بھی ان سبزی والوں میں آواز اٹھانے کی ہمت نہیں تھی۔ میں نے اپنے دم سے اپنی ٹوکری اتاری اور ساتھ میں دوسروں کی ٹوکریاں بھی لے کر آئی۔ اس کے بعد سب نے مجھے الیکشن لڑنے کی ترغیب دی“

انہوں نے دیوی سے کہا کہ انہیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے، جو ان کی طرف سے ان کے حقوق کی لڑائی لڑ سکے

لیکن دیوی کے پاس الیکشن لڑنے کے وسائل نہیں تھے۔ ”میں نے کہا کی میری اوقات کہاں ہے کہ میں الیکشن لڑوں۔ لوگوں نے بولا کہ آپ لڑیں، ہم چندہ کریں گے آپ کے لیے“

وہ کہتی ہیں ”میں نے اس سے پہلے کبھی بھی الیکشن نہیں لڑا تھا لیکن ہمیشہ جتنا کر سکتی تھی، اتنا لوگوں کی مدد کی۔ اگرچہ مجھے متعدد برادریوں کے ووٹ حاصل ہوئے لیکن صفائی ملازم کی یونین اور سبزی والوں نے میری بھرپور حمایت کی“

واضح رہے کہ میونسپلٹی کے ان انتخابات میں سیاسی پارٹیاں باقاعدہ حصہ نہیں لے سکتیں لیکن وہ اپنے پسندیدہ امیدواروں کی پشت پناہی ضرور کرتی ہیں۔ دیوی کو مقامی جماعتوں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یونائیٹڈ اور قومی پارٹی کانگریس کی حمایت حاصل تھی

گیا شہر کے جس میونسپلٹی سے دیوی نے کامیابی حاصل کی ہے، وہ ریاستی اسمبلی کے اس حصے میں آتا ہے، جہاں سے بی جے پی لیڈر پریم کمار تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جیت رہے ہیں

ان کی جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے گیا شہر کے نئے میئر گنیش پاسوان نے میڈیا کو بتایا ”گیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ ‘اینلائیٹمینٹ’ کے لیے آتے ہیں اور یہ وہ جگہ بھی ہے، جہاں سے ایک موسہر خاتون لوک سبھا میں جا سکتی ہے“

واضح رہے کہ موسہر ‘ایس سی کٹیگری’ یعنی ‘نچلی ذات’ میں بھی سب سے زیادہ پسماندہ برادری میں سے ہیں، جن میں بہت سے لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے چوہے مارنے اور کھانے کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ دیگر لوگ، جیسے کہ چنتا دیوی، روزی روٹی کے لیے بیت الخلا اور گلیوں کی صفائی کرتے ہیں

نئے میئر گنیش پاسوان نے مزید کہا ”اس بار یہاں کے لوگوں نے چنتا دیوی کو منتخب کر کے شاید پوری دنیا کے لیے ایک مثال قائم کی ہے، جو یہاں صفائی کے عملے کے طور پر انسانی فضلے کو اپنے سر پر اٹھاتی تھیں، جب یہاں بیت الخلا کی تعداد کم تھی۔ یہ ایک تاریخی قدم ہے“

ریاست بہار میں روایتی طور پر ذات پات کے نام پر امتیاز اور تشدد کے خلاف تحریک شروع ہوئی۔ اس کے خلاف چلنے والی تحریک بھی کئی دفعہ پرتشدد ہو چکی ہے، بشمول گیا ضلع کے کچھ حصوں میں بھی جہاں بہت سے لوگوں نے زمیندار اعلیٰ ذات کی برادریوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے

2000ع کی دہائی کے اوائل سے تشدد میں بڑی حد تک کمی آئی ہے، لیکن معاشرے میں ‘نچلی‘ ذات کے خلاف کسی نہ کسی شکل میں امتیازی سلوک جاری ہے

تاہم 1990ع کی دہائی سے ریاست میں بلا روک ٹوک غیر اعلیٰ ذات کی جماعتیں جیسے لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتا دل اور نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ کے سیاست دان حکومت چلا رہے ہیں

دیوی کا ضلع گیا بدھ مت کے لیے ایک اہم زیارت گاہ ہے، جہاں گوتم بدھ کو روحانی معراج حاصل ہوئی تھی۔ یہ شہر ہندو مت میں بھی ’پنڈ دان‘ رسم کے لیے اہم ہے, جس سے مردے کو حتمی نجات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے

چنتا دیوی اب میونسپلٹی کے کارکنوں کی بروقت تنخواہ، ٹھیلے والوں کے حقوق جیسی معاملوں کے لیے لڑنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ”فٹ پاتھ پر دُکان لگانے والوں کی مدد کروں گی کیونکہ ان کے گھروں میں کمانے والا ایک ہے، کھانے والے دس ہیں۔ گلی اور نالیاں بنواؤں گی، بہت سارے مندر مسجد ٹوٹے پھوٹے ہیں، انہیں بھی ٹھیک کرانا ہے“

چالیس سال تک اس شہر کی سڑکوں کی صفائی کرنے والی چنتا دیوی ڈپٹی میئر بننے کے بعد اپنے شہر کی تعمیر کے بارے میں اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں ”گیا کو ایسا بنانا ہے کہ اگر دیش ودیش سے لوگ آئیں تو کہیں کہ یہ گیا نہیں ہے، یہ دلی ہے“

Tags:

ap local body electionselection commission of indiaelection resultsindia todayindia today newskerala local body electionslocal bodies electionlocal bodies election newslocal bodies election news todayLocal Body ElectionLocal Body Electionsmp local body electiontamil nadu local body election resultstamil nadu local body electionstamil nadu urban local body electiontoday local bodies election news
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا پاکستان میں نیا طبی بحران جنم لے رہا ہے؟

Next

ارجنٹائن: لیونل میسی کی ’پیدائش میں سات سو فی صد اضافہ‘

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme