Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ضلع ملیر میں سرکاری اسکولوں کی تعمیر و مرمت،21 کروڑ کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ

By Akhtar Rasool
جنوری 19, 2021 2 Min Read
0

ایجوکیشن ورکس ڈپارٹمنٹ ضلع ملیر کے 21 کروڑ روپے کے ٹھیکوں کی مبینہ خرید و فروخت کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق وزیر تعلیم سندھ کے نام پر من پسند ٹھیکیداروں کو مبینہ بھاری نذرانوں کے عیوض ٹھیکے دیے گئے ہیں

اس حوالے سے ایکسیئن ملیر پر کرپشن اور بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، دیگر ٹھیکیداروں نے تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ  کیا ہے، جب کہ معروف این جی او بھی ٹھیکوں کی بندر بانٹ کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے

اس ضمن میں موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے ایجوکیشن ورکس ڈپارٹمنٹ کے کرپٹ افسران نے کمیشن اور رشوت کے عوض اسکولوں کی تعمیر و مرمت کے21 کروڑ کے ٹھیکوں کی مبینہ خرید و فروخت کر کے اسکولوں کی تعمیر اور اس کے معیار کو داؤ پر لگا دیا ہے

موقر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجوکیشن ورکس ڈپارٹمنٹ ضلع ملیر کے ایکسیئن خالد ظفر شیخ کی جانب سے بن قاسم اور گڈاپ ٹاؤن میں موجود اسکولوں اور کالجوں کی تعمیر ومرمت کے لیے 21 کروڑ روپے کی لاگت کے ٹینڈرز طلب کیے تھے، جو 14 جنوری کو کھولے جانے تھے. لیکن محکمے کے افسران نے مذکورہ کاموں کا اوپن کمپٹیشن کرائے بغیر ہی اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو مبینہ بھاری نذرانوں کے عوض کامیاب قرار دے کر کروڑوں کے ٹھیکے دے دیے

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینڈرز میں حصہ لینے کے خواہش مند دیگر ٹھیکیداروں کو ٹینڈرز میں حصہ ہی نہیں لینے دیا گیا، جس پر ٹھیکیداروں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ضلع ملیر کے ایکسیئن خالد ظفر شیخ نے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا نام استعمال کر کے من پسند ٹھیکیداروں کو غیر قانونی طور پر ٹھیکے الاٹ کیے ہیں اور اس سلسلے میں بھاری نذرانے وصول کیے گئے ہیں

ٹھیکیداروں نے اس سلسلے میں وزیر تعلیم سندھ سعید غنی سے موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور کروڑوں کے ٹھیکوں میں کی جانے والی لوٹ مار کی تحقیقات اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

دوسری جانب شہر کی معروف این جی او نے بھی اسکولوں کی تعمیر و مرمت کے ٹھیکوں میں کی جانے والی لوٹ مار کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

Tags:

CorruptionEducationMalirSchool
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ارنب گوسوامی اسکینڈل نے بھارت میں بھونچال برپا کر دیا

Next

بھارتی کسانوں کا احتجاج جاری، نئی دلی کی طرف ٹریکٹر مارچ کی تیاریاں عروج پر

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme