Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Why-dont-students-sit-tight-in-class
کالماہم ترینتازہ ترین

طلبہ کلاس میں ٹِک کر کیوں نہیں بیٹھتے؟

By Akhtar Rasool
اپریل 19, 2024 4 Min Read
0

ہماری خوش قسمتی کہہ لیجیے یا بدقسمتی کہ ہم پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد اپنی مادرعلمی جامعہ پنجاب کے اسکول آف کمیونیکیشن سسٹڈیز میں پڑھا رہے ہیں۔

ہمارے طالب علموں کا کہنا ہے کہ ہم ان سے زیادہ جوش و خروش سے یونیورسٹی آتے ہیں۔ اب انہیں کیا بتائیں کہ ہم نے چین میں اپنے کسی پروفیسر کو کلاس میں داخل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہم جب بھی کلاس میں جاتے تھے، چاہے وہ وقت کلاس شروع ہونے سے دس منٹ پہلے کا ہی کیوں نہ ہوتا، استاد وہاں موجود ہوتا تھا۔

ہم ان کی طرح وقت سے بہت پہلے تو نہیں لیکن دو چار منٹ پہلے کلاس میں پہنچ جاتے ہیں۔ دو چار طالب علم پہلے سے بیٹھے ہوتے ہیں، کچھ ہمیں دیکھ کر اندر آ جاتے ہیں تو کچھ کلاس کا تھوڑا سا وقت گزر جانے کے بعد تشریف لاتے ہیں تو کچھ آنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔

جب ہم طالب علم تھے تو ہمیں اپنے اساتذہ اور جامعہ میں کافی مسائل دکھائی دیتے تھے۔ اب جب ہم خود استاد بن چکے ہیں تو ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ مسائل تو ہمیشہ سے دو طرفہ رہے ہیں۔

پہلے یہ ادارہ تھا۔ اب ایک اسکول بن چکا ہے۔ اس اسکول میں کئی ڈیپارٹمنٹ بن چکے ہیں۔ ہر ڈیپارٹمنٹ کو علیحدہ کرنے کے لیے عمارت کو عجیب طریقے سے تقسیم کر دیا گیا ہے۔

اس وقت طالبات کے لیے عمارت کے پچھلے کونے میں ایک کامن روم ہوتا تھا۔ اب اسے ایک کمرہ جماعت بنا دیا گیا ہے جبکہ اوپر کی منزل پر بڑے بڑے ہال نما کمروں کو چھوٹے چھوٹے ڈربہ نما کمرہ جماعتوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

طالب علموں کے بیٹھنے کے لیے یا تو اسکول کی لائبریری بچی ہے یا اسکول کے باہر موجود ہرا بھرا گھاس کا لان جو آنے والے دنوں میں گرمی کی وجہ سے بیٹھنے کے قابل نہیں رہے گا۔

دوسری طرف اسکول میں کافی اچھی تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ بہت سے نئے پروگرامز اور کورسز متعارف کروائے گئے ہیں جو موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ کچھ پروگرامز میں خرابیاں بھی ہیں۔ جیسے ایک پروگرام کے بچے فطری سائنس کے مضامین پڑھ رہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے، یہ معلوم ہوئی تو ضرور بتائیں گے۔

استاد بننے کے بعد ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ طالب علموں کا رویہ بھی اساتذہ اور ادارے کی بہت حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

ہم پڑھا رہے ہوں تو وہ سننے کا تکلف نہیں کرتے۔ ہم اسائنمنٹ دیں تو کر کے نہیں لاتے، وجہ پوچھیں تو کسی کا فون چوری ہو گیا تھا تو کسی کا کزن حادثے کا شکار ہو گیا تھا تو کوئی نئے گھر منتقل ہو رہا تھا۔

ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے لڑکوں کو لیکچر کے دوران بہت سے کیڑے کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ ان سے دس منٹ بھی کلاس میں آرام سے بیٹھا نہیں جاتا۔ دو منٹ بعد کوئی نہ کوئی اٹھ کر آتا ہے کہ اسے اسی وقت کسی ہنگامی صورت حال کو نبٹانے جانا ہے۔ ہم اسے جانے کی اجازت دے دیں اور حاضری بھی لگا دیں۔

پہلے ہمیں خود پر شک ہوا کہ شاید ہم انہیں اچھا نہیں پڑھا رہے پھر ان میں سے بہت سوں کی زبانی معلوم ہوا کہ انہیں اس سمسٹر پڑھانے والے اساتذہ میں سب سے اچھے ہم ہی ہیں۔

پھر ہمیں یقین ہو گیا کہ ان طلبہ میں ہونے والی بے چینی کی وجہ کچھ کیڑے ہیں، جن کا علاج پاکستانی طریقے سے ہی ہو سکتا ہے۔

ہم نے انہیں کہہ دیا کہ جس نے جانا ہے جائے، حاضری اس کی لگے گی جو کلاس کے آخر تک موجود رہے گا۔

ایک بار حاضری کو اسائنمںٹ سے جوڑ دیا تو ایک طالبہ جو اسائنمںٹ نہیں کر کے آئی تھی، کہنے لگی، ’میں کلاس میں کیوں بیٹھوں اگر حاضری نہیں لگنی؟‘

ہم نے کہا، ’یہ رہیں آپ، وہ رہا دروازہ۔‘ اٹھیں اور اس سے باہر نکل جائیں۔ وہ پہلے کچھ ہچکچائیں، پھر بڑے اعتماد سے اٹھیں اور کلاس سے باہر نکل گئیں۔

ہم نے ان کے جانے کے بعد باقیوں سے کہا کہ انہیں اطلاع دے دیں کہ وہ آئندہ ہماری کلاس میں نہ آئیں۔ انہیں اطلاع موصول ہوئی تو تھوڑی دیر بعد ’سوری‘ کے ساتھ دروازے پر آن موجود ہوئیں۔ ہم نے کہا نہ جناب، اب اس دروازے سے باہر ہی رہیں۔ خیر، اگلے ہفتے سے انہیں کلاس میں بیٹھنے دیا۔

اسائنمنٹ نہ کرنے والوں کو تھوڑی سی وقت میں رعایت دی۔ جب انہوں نے اس کا بھی خیال نہ کیا تو ان کے سارے نمبر کاٹ لیے۔ پھر دھڑا دھڑ ان کی اسائمنٹس آنے لگیں۔ کچھ کاپی شدہ تھیں تو کچھ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی تھیں۔ انہیں دیکھ کر ہم نے سر پکڑ لیا۔

پھر ہم مکمل دیسی استاد بن گئے۔ اس دن سے بچوں کا حال قدرے بہتر ہے۔ وہ وقت سے کلاس میں آ جاتے ہیں۔ جو کام دیا جائے کر لیتے ہیں۔ کچھ پھر بھی ڈھٹائی کی معراج پر ہیں۔ انہیں ان کی ڈھٹائی کا نتیجہ اپنی ٹرانسکرپٹ پر مل جائے گا۔

ہمارا کیا ہے، ہماری پی ایچ ڈی تو ہو چکی۔ جتنی دیانت داری سے ہم پڑھا سکتے ہیں، پڑھا رہے ہیں۔ آگے کوئی پڑھنے والا یا محنت کرنے والا نہ ہو تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے۔

تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ادارے اور اس کی انتظامیہ کو برا کہنا بہت آسان ہے لیکن اس ادارے میں موجود سب سے اہم طبقے ’طالب علموں‘ کے رویے کو بھی دیکھنا بہت ضروری ہے۔ ادارہ ان کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کام کے مکمل طور پر نتائج دیکھنے کے لیے انہیں خود بھی اپنے لیے کام کرنا پڑے گا۔ اس کے بغیر ان کا کیا اس ملک کا مستقبل بھی تاریک ہی رہے گا۔

بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

aim high classesaim high classes by roma khareasmr choosing classesasmr new studentclass 10 scienceclassic popdefinition of the word sit tightfix tight hamstringsgentle yoga classgentle yoga for stiff neck adn tight shouldersgentle yoga for stiff neck and tight shouldersgood night sleep tightgoodnight sleep tighthow to fix tight hamstringsinternational studentmoney's too tight (to mention)money's too tight (to mention) official videomoneys too tightsimply red money's too tight (to mention)sit tightsit tight idiomStudentStudentsstudy in depththe lexical meaning of the word sit tighttight hamstrings solutiontight hipstight skirttight up skirtwhat does the word sit tight meanwhen the narcissist can't control youyoga classesyoga for tight hipsyoga for tight musclesyoga for tight shouldersyoga for tight shoulders and chestyoga for very tight hips
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Pakistans-Critical-Turn-for-75-Years-Becomes-a-Case-Study-of-Harvard-Business-School
Previous

پاکستان کا ’75 برسوں سے جاری نازک موڑ‘ ہارورڈ بزنس اسکول کی کیس اسٹڈی بن گیا!

Brain-damaging-food-which-is-very-popular-among-young-people-today
Next

دماغ کے لیے نقصان دہ وہ غذا، جو آج کل نوجوانوں کو بہت زیادہ پسند ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme