Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

عمران خان کے خلاف توہینِ مذہب کا قانون بطور ہتھیار استعمال کیا گیا: امریکی کمیشن کی رپورٹ

By Akhtar Rasool
مئی 2, 2023 3 Min Read
0

امریکہ کے کمیشن برائے مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے 2022 میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے ارکان کے خلاف توہینِ مذہب کے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی 2022 کے واقعات پر مبنی رپورٹ میں جن 12 ملکوں کو سی پی سی کی فہرست میں شامل رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ان میں پاکستان، چین، سعودی عرب، ایران، روس، تاجکستان، ترکمانستان، شمالی کوریا، کیوبا، برما اور ایریٹیا شامل ہیں

واضح رہے کہ سی پی سی ایسے ملکوں کو کہتے ہیں، جن کے بارے میں مذہبی آزادی کے حوالے سے خصوصی خدشات پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں سی پی سی ان ممالک کو کہا گیا ہے جہاں حکومت مذہبی آزادیوں کی مخصوص اور انتہائی درجے کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہو یا انہیں برداشت کرے

ان بارہ ملکوں کے علاوہ پانچ مزید ملکوں کو سی پی سی میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے، جن میں بھارت، افغانستان، نائیجیریا، شام اور ویتنام شامل ہیں

رپورٹ میں بھارت سے متعلق کہا گیا ہے کہ 2022 میں بھارتی حکومت نے ہر سطح پر مذہبی امتیاز پر مبنی پالیسیوں کو بڑھاوا دیا اور انہیں نافذ کیا، جس نے مسلمانوں، مسیحیوں، سکھ اور دلت برادری پر منفی اثرات ڈالے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے تنقیدی آوازیں دبانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اس کے لیے ہراسانی، نگرانی اور املاک ڈھانے کا حربہ استعمال کیا گیا

خیال رہے کہ یو ایس سی آئی آر ایف نے گزشتہ برس بھی بھارت کو اس فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی تاہم بائیڈن انتظامیہ نے اسے مذہبی آزادی کے حوالے سے خدشات والے ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا تھا

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے اپنی رپورٹ میں 2022 کے دوران پاکستان میں پیش آنے والے اہم واقعات کا حوالہ دیا ہے

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ مذہبی اقلیتوں پر حملوں یا انہیں دھمکیاں ملنے کے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کو توہینِ مذہب کے الزامات سمیت ٹارگٹ کلنگ، ہجوم کے تشدد، ماورائے آئین قتل، جبری تبدیلیٔ مذہب، عبادت گاہوں کی توہین سمیت خواتین اور لڑکیوں کو جنسی ہراسانی کا سامنا ہے۔ پاکستان میں توہینِ مذہب کے مقدمات مذہبی آزادی کے لیے بدستور خطرہ ہیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے ارکان کے خلاف توہینِ مذہب کے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے

رپورٹ میں پاکستان میں پیش آنے والے کچھ واقعات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ گزشتہ برس فروری میں ایک عدالت نے سندھ کے ضلع گھوٹکی کے ایک نجی اسکول پرنسپل نوتن لال کو توہینِ مذہب کے الزامات پر آرٹیکل 295 سی کے تحت عمر قید کی سزا سنائی

مذکورہ پرنسپل پر ایک طالب علم نے تین برس قبل توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا تھا، تاہم سزا کے خلاف نوتن لال کی اپیل اب تک زیرِ التوا ہے

رپورٹ کے مطابق فروری میں ہی پنجاب میں ایک ہجوم نے پتھر مار مار کر محمد مشتاق نامی شخص کو قتل کر دیا، جس کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ مشتاق پر قرآن نذرِ آتش کرنے کا الزام تھا۔ لگ بھگ تین سو افراد پر مشتمل ہجوم نے اس الزام میں مشتاق کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش درخت سے لٹکا دی تھی

کمیشن برائے مذہبی آزادی نے امریکی حکومت کو چند تجاویز بھی پیش کی ہیں، جن میں چار ملکوں سے متعلق امریکی پالیسی پر نظر ثانی کرنا بھی شامل ہے۔ ان ملکوں میں پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں

کمیشن نے سفارش کی ہے کہ مذکورہ ملکوں سے متعلق معنی خیز نتائج اور انہیں مثبت تبدیلیوں کے لیے آمادہ کرنے کے لیے پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔

Tags:

atrocities against minorities in pakistanblasphemyblasphemy in pakistan 2021blasphemy law pakistanchinese national blasphemyImran Khanimran khan on sialkotmishal khan blasphemy casepakistan blasphemypakistan blasphemy lawpakistan blasphemy lawspakistan pm imran khan speech live urdupakistan violence against franeprime minister imran khanprime minister imran khan addressprime minister imran khan speechwhat are pakistan's blasphemy laws
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

صرف دو ماہ میں کسی بڑے امریکی بینک کی ناکامی کا تیسرا واقعہ

Next

وائٹ ہاؤس میں عید ملن پارٹی، مسلمان میئر کو شرکت سے روک دیا گیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme