Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

غصہ قابو میں رکھنا بھی چینیوں سے سیکھ لیں

By Akhtar Rasool
دسمبر 19, 2022 3 Min Read
0

جس طرح شوگر کوئی مرض نہیں مگر اسے ام المرائض کہا جاتا ہے۔ اسے بروقت نہ سنبھالا جائے تو رفتہ رفتہ گردہ، دل، بینائی اور دیگر اعضاِ رئیسہ و خبیثہ ناکارہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور انسان موت کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔

بیعنہی غصہ کوئی نفسیاتی بیماری نہیں بلکہ ناپسندیدگی کی انتہائی شکل پر مبنی ایک جبلی ردِعمل ہے۔

لیکن اگر اس پر دھیان نہ دیا جائے اور سیلف کنٹرول کے نسخے سے اسے قابو میں نہ رکھا جائے تو پھر یہ سب سے پہلے بینائی پر حملہ آور ہو کر ٹنل ویژن کا سبب بنتا ہے۔

پھر یہ ٹنل ویژن قوتِ فیصلہ پر حملہ آور ہوتا ہے۔ قوتِ فیصلہ ناکارہ ہو جائے تو یہ دماغ پر پوری طرح قبضہ کر کے انسان کو بربادی کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

انسان برباد نہ بھی ہو تو ذلت و رسوائی، اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور خود ندامتی سے ہرگز نہیں بچ سکتا۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ غصہ کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ، لیٹے ہو تو آنکھیں موند لو اور سوچو کہ اس کا متبادل اور کیا کیا ممکن ہے۔

غصے کا اسٹرٹیجک استعمال دانا دشمن کا سب سے موثر پھندہ ہے جس میں نادان دشمن کو بہت آسانی سے جکڑ کے یرغمال بنا کے رگیدا جا سکتا ہے۔ غصہ ریموٹ کنٹرول ہے جس کا ذہین استعمال کر کے مخالف کو آسانی سے اپنی مرضی کے میدان میں نچا کے تماشا بنایا جا سکتا ہے۔

تمام چھوٹی بڑی لڑائیاں غصے سے شروع ہو کر کسی ایک فریق یا فریقین کی ندامت پر ختم ہوتی ہیں۔

غصہ طاقت کی نہیں کمزوری کی نشانی ہے۔ غصہ سب سے پہلے آپ کے اعصاب کو آپ کا دشمن بنا دیتا ہے اور پھر یہ اعصاب آپ کو کھلونے کی طرح دشمن کے آگے ڈال دیتے ہیں۔

غصہ فرد کو تو آ سکتا ہے مگر ریاست، حکومت، جج اور لیڈر کو تو بالکل نہیں آنا چاہیے۔ فرد کا غصہ ایک خاندان کو تباہ کر سکتا ہے مگر ریاست، حکومت، جج اور لیڈر کو آ جائے تو مملکت، گورننس کا ڈھانچہ، سماج اور انصاف برباد ہو سکتا ہے۔

لہذا ہر ریاستی عہدیدار اور ذمہ دار کو نادیدہ روشنائی سے موٹا موٹا لکھ کے دیوار کے پیچھے اور آنکھوں کے سامنے لگا دینا چاہیے کہ کچھ بھی ہو جائے غصے میں نہیں آنا۔ آ جائے تو پی جانا ہے یا اسے من کے ریفریجریٹر میں رکھ چھوڑنا ہے اور بہت ہی ناگزیر ہو جائے تو ٹھنڈے ٹھنڈے تھوڑی تھوڑی مقدار میں استعمال کرنا ہے۔

طاقتور تو شاید غصے کے نقصانات عارضی طور پر جھیل جائے مگر کمزور کو اگر باعزت طور پر اپنی خودداری برقرار رکھتے ہوئے زندہ رہنا ہے تو اسے اپنی حکمتِ عملی میں سے سب سے پہلے غصے کو خارج کرنا پڑے گا۔

معیشت کمزور ہے کوئی بات نہیں۔ کل ٹھیک بھی ہو سکتی ہے۔ بس ایک کام کرنا ہے، طیش میں نہیں آنا اور اعصاب کو بے قابو ہونے سے بچانا ہے۔

طالبان پھر سے طاقت پکڑ رہے ہیں اور حکومتی رٹ کے گلے میں ایک بار پھر اوجھڑی ڈال کے کھینچنا چاہ رہے ہیں۔ غصہ آئے گا تو اسٹرٹیجک صبر کو کام میں لاتے ہوئے ان سے نپٹنا اور مشکل ہو جائے گا۔

ایسے مرحلے پر نہ اپنی پرانی کامیابیوں کو رائیگاں ہوتے دیکھ کے کفِ افسوس ملنا ہے اور نہ ہی اس افسوس کو جھنجھلاہٹ اور پھر اس جھنجھلاہٹ کو غصے میں تبدیل کر کے ان کے ایجنڈے کا قیدی بننا ہے۔

بس یہ جائزہ لینا ہے کہ اتنی محنت کے باوجود دہشت گردی کی بیخ کنی کیوں نہیں ہو پائی اور پھر خود احتسابی کے آئینے میں اپنی شکل دیکھ کے الزام تراشی میں قیمتی قوت ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ ڈرائنگ بورڈ پر بیٹھ جانا ہے۔

انڈیا کے ساتھ چھیچھا لیدر کے تازہ دور میں داخل ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔کرنے کو بہت سے اہم کام ہیں۔ بہترین انتقام خاموشی ہے۔ اگر آپ اندر سے طاقتور ہیں تو اپنی اینٹیں اور پتھر آڑے وقت کے لیے بچا کے رکھیں۔ نرم گرم ہو کر خود کو ہلکان نہ کریں۔دشمن کو دشمنی کرنے دیں آگے بڑھ کے اس کے ایجنڈے کا ایندھن نہ بنیں۔

آپ کو چین بہت پسند ہے نا۔ چینیوں نے اعصاب کو قابو میں رکھنے کے مسئلے پر پچھلے ڈھائی ہزار برس میں بہت کام کیا ہے۔ اس کا پھل انھیں آج مل رہا ہے۔ اس بابت تھوڑی بہت تعلیم چینیوں سے ہی لے لیں۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

Chinese
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

انسان اور جنگلی حیات کا تصادم

Next

کُوچ کا سمے (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme