Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

”غیر معیاری مصنوعات مت خریدیں“ ٹک ٹاک پر انفلوئنسرز کے مقابلے میں ’ڈی انفلوئنسرز‘ بھی میدان میں

By Akhtar Rasool
فروری 19, 2023 4 Min Read
0

انفلوئنسرز آج کل سوشل میڈیا خاص طور پر ٹک ٹاک پر چھائے ہوئے ہیں، جو اپنی تشہیری مہم کے ذریعے لوگوں کو مختلف اشیا خریدنے کی طرف راغب کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن اب ایسے لوگ بھی سامنے آ رہے ہیں، جو لوگوں کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سی اشیا اور مصنوعات معیاری نہیں ہیں اور ان کو نہیں خریدنا چاہیے

سوشل میڈیا کے ذریعے مصنوعات کے غیر معیاری ہونے کی نشان دہی کرنے کے ٹرینڈ کو ’ڈی انفلوئنسنگ‘ کا نام دیا گیا ہے، اور اس سے جڑے افراد کو ’ڈی انفلوئنسرز‘ کہا جاتا ہے

واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر ’ٹک ٹاک میڈ می بائے اٹ‘ (#TikTokMadeMeBuyIt) کا ٹرینڈ مشہور تھاز جہاں صارفین بتاتے تھے کہ سوشل میڈیا کے زیرِ اثر انہوں نے کس کس چیز کی خریداری کی ہے

اب ٹک ٹاک پر وڈیوز بنانے والے بعض صارفین اپنے فالورز کو بتا رہے ہیں کہ کن مصنوعات سے پرہیز کر کے وہ اپنے پیسوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے

یہ ڈی انفلوئنسرز صارفین کو مقبول ٹرینڈز سے متاثر نہ ہونے اور خود کو خریداری سے روکنے کی ترغیب دے رہے ہیں

کچھ میک اپ کی ان مصنوعات سے آگاہ کر رہے ہیں، جنہوں نے دعوے تو بڑے کیے لیکن ان کا معیار ناقص ہے، جبکہ دوسرے ان بالوں کے اسٹائل اور پانی کی بوتلوں جیسی اشیا سے باز رہنے کا کہہ رہے ہیں، جنہیں ٹک ٹاک کے ذریعے ہی پذیرائی ملی ہے

ڈی انفلوئنسگ کے اس نئے رجحان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ او کے تحت ہیش ٹیگ #Deinfluencing پر موجود وڈیوز کو محض چند مہینوں میں اب تک پندرہ کروڑ بار دیکھا جا چکا ہے

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اس ہیش ٹیگ پر موجود ابتدائی وڈیوز میں سے ایک میک اپ مصنوعات کی فروخت کرنے والی کمپنی الٹا اور سیفورا کے ایک سابق ملازم پیج پریچرڈ کی جانب سے بنائی گئی تھی، جس نے اکثر لوٹائی جانے والی مصنوعات کی تفصیل بتائی تھی

پیج پریچرڈ نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ یہ بہت خوش آئند ہے کہ صارفین نے اس مکالمے کی ابتدا کی

پیج پریچرڈ خرچے کی عادتوں کو بہتر کرنے کی ٹک ٹاک پر کوچنگ وڈیوز بناتی ہیں اور لوگوں کو مالی مشورے دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کریئر تب منتخب کیا تھا، جب کالج سے پاس آؤٹ ہونے کے اگلے برس ہی انہوں نے ساٹھ ہزار ڈالر کی آمدن کپڑوں، میک اپ اور بالوں کی مصنوعات پر خرچ کی تھی

اُس وقت پیج اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی تھیں اور اپنا ’اسٹوڈنٹ لون‘ واپس کرنے کی کوشش میں تھیں۔

وہ بتاتی ہیں ئں یوٹیوب پر ایسے انفلوئنسرز کی وڈیوز سے متاثر تھی، جو معاوضہ لے کر مختلف برینڈز کی مصنوعات کی تشہیر کرتے تھے۔ میں جب بھی کپڑوں کے برینڈز کے اسٹورز میں جاتی تو پانچ سو ڈالرز تک خرچ کر آتی تھی“

وہ کہتی ہیں ”جب اپنا گھر لینے کا وقت آیا تو مجھے خیال آیا کہ میرے پاس تو رقم باقی نہیں رہی اور سال کے آخر میں اپنے والدین کا گھر چھوڑنا میرے بس سے باہر تھا۔۔ تب مجھے کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ میرے لیے فیصلہ کن لمحہ تھا“

ایسے ہی ایک صارف تیئیس سالہ اسٹیفنی ٹیران کا کہنا ہے کہ جب ان کی بھابھی نے انہیں بتایا کہ وہ ٹک ٹاک پر مشہور ’اسٹینلی کپ‘ خریدنا چاہتی ہیں۔ لیکن وہ تمام فروخت ہو چکے ہیں۔ اسٹیفنی کے بقول انہوں نے اپنی بھابھی کو کہا کہ وہ کسی بھی اسٹور پر جا کر عام سا کپ خرید سکتی ہیں

ڈی انفلوئلنسنگ کے رجحان کے حوالے سے یونیورسٹی آف ایسیکس میں مارکیٹنگ کے لیکچرار ابھیشیک کنار نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ جہاں ٹک ٹاک پر ٹرینڈ آتے جاتے رہتے ہیں، وہیں کنزیومر ازم پر تنقید بھی نئی نہیں ہے

ان کا کہنا ہے کہ ایسے انفلوئنسر جو آج ڈی انفلوئنسنگ کے ٹرینڈ پر سوار ہو رہے ہیں، ان کے پاس موقع ہے کہ وہ صارفین کا اعتماد حاصل کر سکیں

ابھیشیک ’جنریشن زی‘ اور کانٹینٹ کریٹرز کے تعلق پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کے بقول بعض دوسرے محققین کے ساتھ کی گئی ان کی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’جنریشن زی‘ یا نئی نسل ایسے انفلوئنسرز کی مہم پر توجہ نہیں دیتے، جن کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ ان کی رائے بڑی کمپنیوں کے زیرِ اثر ہے

ان کے مطابق صارفین اصل رائے کو پذیرائی دیتے ہیں اور ایسے انفلوئنسرز، جن کی رائے کسی کمپنی کے زیرِ اثر ثابت ہو، وہ اعتماد کھو بیٹھتے ہیں

حال ہی میں ٹک ٹاک پر ایک کروڑ چوالیس لاکھ فالورز والی کانٹینٹ کریٹر میکیلا نوگوریا پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’لوریئل‘ نامی کمپنی کے مسکارا کی ایک مہم کے دوران انہوں نے مصنوعی آئی لیشز کا استعمال کیا۔ ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق میکیلا کے ترجمان نے تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا

ابھیشیک کا کہنا ہے کہ اگرچہ انفلوئنسرز ابھی بھی بہت اہم ہیں، البتہ ان پر صارفین کے اعتماد میں کمی آتی جا رہی ہے۔

Tags:

de-influencingde-influencing - why is it going viral?de-influencing makeupdeinfluencingdeinfluencing makeupdeinfluencing skincarefashion tips tiktokhigh end tiktok makeup not worth itinfluencinginfluencing peoplekorean skin care asmr tiktokover hyped tiktok makeupTiktoktiktok beautytiktok cult productstiktok failstiktok made me buy ittiktok marketingtiktok new trendtiktok trendtiktok trendsviral tiktoks
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایک ایسی نایاب بیماری، جس میں انسان اجنبی لہجے میں گفتگو کرنے لگتا ہے۔۔

Next

اصلی زلزلے اور جگاڑو دنیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme