Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

فضائی آلودگی، مستقل نابینا پن کی وجہ بن سکتی ہے

By Akhtar Rasool
فروری 18, 2021 2 Min Read
0

فضائی آلودگی کا ایک نیا ہولناک پہلو سامنے آیا ہے کہ یہ بالخصوص ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد کی بصارت چھین سکتی ہے

ایک طویل سروے سے معلوم ہوا ہے کہ آلودہ ہوا میں پائے جانے والے باریک ذرات دھیرے دھیرے آنکھوں کو نقصان پہنچا کر اس ناقابلِ تلافی کیفیت تک لے آتے ہیں جسے ’میکیولرڈی جنریشن‘ (ایم ڈی) کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں مستقل نابینا پن بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

برطانیہ اور امریکہ کی مختلف جامعات اور سائنسی اداروں کی ایک ٹیم نے 2006ع سے اب تک 116,000 افراد کا مطالعہ کیا ہے۔ ان میں مختلف عمروں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ ان تمام افراد سے کہا گیا کہ اگرڈاکٹر ان کی آنکھوں میں میکیولر ڈی جنریشن مرض تشخیص کریں تو وہ فوراً اس کی اطلاع دیں۔ تاہم اس دوران 52 ہزار سے زائد افراد کی آنکھوں کا مسلسل معائنہ بھی کیا گیا جن میں ان کے ریٹینا کی موٹائی میں کمی بیشی اور نظر کا معائنہ بھی کیا جاتا رہا

واضح رہے کہ میکیولرڈی جنریشن عمررسیدہ افراد میں مستقل نابینا پن کا ایک مرض ہے جس میں آنکھوں کی پشت پر خون کی باریک رگیں رسنے لگتی ہیں اور اور ان میں چربی اور پروٹین کے باریک لوتھڑے جمع ہونے لگتے ہیں

اس صبرآزما مطالعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ فضائی آلودگی والی جگہوں پر ایک عرصے تک رہ رہے تھے انہوں نے خود بتایا کہ وہ ایم ڈی کے شکار ہوئے ہیں۔ اس طرح ایک لاکھ سے زائد افراد پر تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فضائی آلودگی کے ذرات دھیرے دھیرے آنکھوں میں آکسیجن کا نفوذ کم کر دیتے ہیں

پھر سب سے بڑھ کر فضا میں موجود گرد، دھویں اور کہر جیسی آلودگیوں کے پی ایم 2.5 (ڈھائی مائیکرومیٹر باریک)  ذرات سب سے ذیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ایک جانب تو یہ آنکھوں کو متاثرکررہے ہیں تو دوسری جانب یہ سانس کی نالی سے پھیپھڑوں اور قلب کو بھی متاثر کررہے ہیں

تاہم ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے شہروں اور ممالک سے فضائی آلودگی پر قابو پائیں تو صحت کے ان مسائل کو بڑی حد تک کم کیا جاسکے گا.

Tags:

Air PollutionEnvironmentIndustrial Pollution
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ﺑﮭﺎﺭﺕ، ﺍٓﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﮩﻠﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ

Next

ﺣﻠﯿﻢ ﻋﺎﺩﻝ ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮈﮐﺸﻦ ﺍٓﺭﮈﺭ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﻣﺴﺘﺮﺩ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme