Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Palestine-The-largest-laboratory-of-new-weapons
کالماہم ترینتازہ ترین

فلسطین؛ نئے ہتھیاروں کی سب سے بڑی تجربہ گاہ

By Akhtar Rasool
فروری 28, 2024 5 Min Read
0

ایک جرمن آسٹریلوی یہودی محقق اینٹنی لینشٹائین کی کتاب ’’فلسطین لیبارٹری‘‘ بیسٹ سیلر فہرست میں شامل ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت غزہ میں اسرائیل کی نسل کش مہم کے سبب اور بڑھی ہے۔

لینشٹائین کا خیال ہے کہ بہت کم ممالک ہیں، جنہیں واقعی مقبوضہ فلسطین کی آزادی سے کوئی حقیقی دلچسپی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین نئے ہتھیاروں اور جنگی ٹیکنالوجی کو حقیقی جنگی حالات میں آزمانے کی لیبارٹری ہے۔ جیتے جاگتے انسانوں پر آزمائش کے بعد اسرائیل اپنا سامانِ مرگ اس اعتماد کے ساتھ دنیا کو فروخت کرتا ہے کہ یہ کوئی تجرباتی کھلونے نہیں، بلکہ میدانِ جنگ میں آزمودہ ہتھیار اور آلات ہیں۔

شاید آپ کو یاد ہو کہ دو ہزار چودہ میں غزہ کے ساحل پر فٹ بال کھیلنے والے چار بچوں کو ایک اسرائیلی ہرمیز ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ بظاہر عالمی سطح پر اسرائیل کی مذمت کی گئی، مگر اس واردات کو بھی بطور تجارتی اشتہار استعمال کیا گیا اور مسلح اسرائیلی ڈرونز کی عالمی فروخت میں تب سے چھ فیصد سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔

اسرائیلی ہتھیار ساز کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ایک سے ایک تباہ کن ہتھیار، نگرانی کے نت نئے آلات اور مصنوعی ذہانت کے جنگی استعمال پر کام کرنے والی کمپنیوں میں اسرائیلی فوج کی مالی شراکت بھی بڑھ گئی۔

گزشتہ برس یہ خبر سامنے آئی کہ ہرمیز ڈرون کا ایک نیا ورژن (ہیرون) تیار کر لیا گیا ہے، جو ایک ٹن ایمونیشن کا لوڈ لے کر ایک ہزار کلومیٹر کے دائرے میں مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہیل فائر میزائلوں سے مسلح امریکی ریپرز اور پریڈیٹرز کے برعکس ہیرون کی بھنبھناہٹ بھی سنائی نہیں دیتی اور اس کے ذریعے سرسراہٹ سے پاک گریوٹی بم گرائے جا سکتے ہیں، جن کی آواز تب ہی سنائی دیتی ہے، جب وہ نشانے پر لگ جائیں۔

اسرائیل نہ صرف امریکا اور برطانیہ بلکہ بحرین، متحدہ عرب امارات اور مراکش کو بھی ہرمیز ڈرونز فراہم کر رہا ہے اور اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ڈرون ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور آپریٹر ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلا ملک ہے جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو حقیقی جنگی مشنز میں بھرپور طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ غزہ میں اے آئی کی مدد سے اہداف کا انتخاب کیا جاتا ہے اور پھر انہیں انسانوں سمیت نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گویا جیتے جاگتے انسانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ اب مشینی ذہانت کے ہاتھ میں ہے۔

دو ہزار چودہ سے قبل اسرائیل کو پچاس ہدف چننے میں لگ بھگ ایک ماہ کا عرصہ لگتا تھا۔ اب یہی ڈیٹا اے آئی سسٹم کو فیڈ کر دیا گیا ہے تو ایک دن میں سو سے زائد ہدف چنے جا سکتے ہیں۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اب تک غزہ میں بیس ہزار اہداف کو ٹارگٹ بنایا ہے تاکہ حماس کا چھوٹے سے چھوٹے لیول کا جنگجو بھی نہ بچ سکے۔ بھلے ایک جنگجو کو ہلاک کرنے کے عوض سیکڑوں شہریوں کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔

اب ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرجیکل اسٹرائکس میں کم سے کم جانی نقصان کو یقینی بنانے کے بجائے آس پاس کے پورے پورے محلوں کو ہی صفحہِ ہستی سے مٹانا ہے تو پھر جدید ٹیکنالوجی اور دوسری عالمی جنگ کی اندھا دھند بمباری میں کیا فرق ہوا؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے بہانے اصل مقصد تیز رفتار صنعتی پیمانے پر انسانوں کی نسل کشی ہے۔

مقبوضہ علاقوں کو اپنے پنجے تلے رکھنے کے لیے اسرائیل نگرانی اور انفرادی ہلاکت کے لیے جو آلات دو عشروں سے استعمال کر رہا ہے، ان پر بھی محاذِ جنگ میں استعمال شدہ کا ٹیگ لگا کے لگ بھگ ایک سو تیس ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔

زیادہ تر ممالک ان آلات کو اپنے سیاسی و عسکری مخالفین کی نگرانی، بیخ کنی یا آزادانہ مواصلاتی رابطوں میں مجموعی رکاوٹ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

مثلاً ایک اسرائیلی کمپنی نے فون ٹیپنگ کے لیے دو ہزار گیارہ میں پیگاسس نامی جو سسٹم تیار کیا، اس کا اب تک موثر توڑ سامنے نہیں آ سکا۔ پیگاسس سسٹم کے ذریعے بند موبائل فون کو بھی آپ کے علم میں آئے بغیر ہائی جیک کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اس وقت مصر، خلیجی ریاستیں، انڈیا اور میکسیکو سمیت متعدد ممالک استعمال کر رہے ہیں۔

اگرچہ سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی یلغار نے اسرائیل کے اس امیج کو زبردست جھٹکا دیا کہ وہ اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے عسکری استعمال کا امام ہے، مگر اسرائیل اس جھٹکے کی جھینپ مٹانے کے لیے جس طرح غزہ کے قتلِ عام میں نت نئے اسمارٹ بموں، ڈرونز اور سراغ رسانی کے آلاتی استعمال کو تجارتی تشہیر کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس کا مقصد آمریت پسند ریاستوں کی مارکیٹ کو برقرار رکھنا ہے۔

دو ہزار چودہ میں غزہ کے مکینوں پر تین ماہ کی فوجی یلغار میں تقریباً نو ہزار فلسطینیوں کو شہید کرنے کے لیے جو نئے ہتھیار اور ٹیکنالوجیز آزمائی گئیں اور ان کی جس طرح تشہیر کی گئی، اس کا فائدہ (اسرائیل کو) یہ ہوا کہ اسرائیلی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی برآمد میں پچپن فیصد کا اضافہ ہوا۔ سب سے بڑا گاہک انڈیا تھا، جس نے کل اسرائیلی عسکری ہتھیاروں اور آلات کی برآمد کا پینتیس فیصد خریدا۔ مودی حکومت اسرائیل سے خریدے گئے نگرانی کے آلات کو کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں کے علاوہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بھی چابک دستی سے استعمال کر رہی ہے۔

دو ہزار بائیس میں اسرائیل نے ساڑھے بارہ ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ اور ٹیکنالوجی فروخت کی۔ توقع ہے کہ غزہ کی جنگ میں عام لوگوں کو مٹانے کے لیے نئے آلات بالخصوص اے آئی کا عسکری استعمال اسرائیلی اسلحہ ساز صنعت کے لیے پہلے سے زیادہ زرِ مبادلہ لائے گا۔

فلسطین صرف اسرائیل کی ہی تجربہ گاہ نہیں بلکہ مغربی بالخصوص امریکی، برطانوی اور فرانسیسی ہتھیاروں کی بھی گزشتہ پچھتر برس سے ’’اصل حالات میں اصل آزمائش‘‘ کا میدان ہے۔ اور اس آزمائش کے لیے اسرائیل سے زیادہ سفاک آپریٹر بھلا کون ہو سکتا ہے اور فلسطین سے بڑی لیبارٹری اور کہاں ملے گی؟ اگر فلسطین خودمختار ہو گیا تو اسرائیل کہاں اتنی آزادی سے اپنی اور اپنے دوستوں کی جنگی ٹیکنالوجی آزمائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ کسی انسانی گروہ کے بارے میں فرض کر لیں کہ یہ نیم انسان ہیں تو پھر انہیں لیبارٹری میں استعمال ہونے والے جانوروں کی طرح برتنا آسان ہو جاتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

aljazeera latestantony loewenstein the palestine laboratoryazadi e sahafatbaat se baat wusatullah khangaza latest newsisrael and palestine historyisrael latest newsisrael palestineisrael palestine conflictisrael palestine conflict historyisrael palestine newsisrael palestine news todayisrael palestine tensionsisrael palestine warisrael vs palestinelatest column of wusatullah khanlatest newsmillat ka pasbanMuhammad Ali JinnahPalestinepalestine and israelpalestine israelpalestine laboratorypalestine warrana sana ullahtalu e sahr hay sham e qalanderthe palestine laboratorywasatullah khanwasatullah khan |talk |ayaz melo 2018Weaponswusatullahwusatullah bbcwusatullah dawnwusatullah dawn newswusatullah interviewwusatullah khanwusatullah khan baat se baatwusatullah khan baat se baat latestwusatullah khan fanswusatullah pervaizzara hat kayzara hat kay dawn
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-experts-who-landed-in-the-sea-drowned-in-the-sea-of-surprise.-Historical-discovery-of-more-than-a-hundred-new-aquatic-life-in-the-sea-of-Chile
Previous

سمندر میں اترنے والے ماہرین حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے۔۔ چلی کے سمندر میں سو سے زائد نئی آبی حیات کی تاریخی دریافت!

Decline-in-food-production-and-our-inefficiency
Next

خوراک کی پیداوار میں کمی اور ہماری نا اہلی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme