Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

فیض محمد بلوچ: ایک شہسوار کی کتھا

By Akhtar Rasool
اگست 22, 2023 4 Min Read
0

تقسیمِ ہند سے پہلے اور قیام پاکستان کے بعد 60 کی دہائی تک کراچی شہر میں گھوڑ دوڑ مقبول کھیلوں میں شامل تھا۔ خوبصورت پارکوں، سنیماؤں اور تفریح گاہوں کی طرح کراچی ریس کورس میں بھی بڑی گہماگہمی رہتی تھی۔

صحتمند اور تربیت یافتہ گھوڑوں کی ملکیت تو اس وقت کے نامور سیاستدانوں، امیر کبیر لوگوں کی ہوتی تھی لیکن گُھڑ سوار (جیکی) زیادہ تر یورپ اور آسٹریلیا سے یہاں آتے تھے یا تو پھر یہ جیکی مقامی آبادی سے لئے جاتے تھے۔ لیاری میں تو نوا لین کے آخر میں واقع جیکی پاڑہ آج بھی مشہور ہے۔

1917 میں کراچی میں پیدا ہونے والا فیض محمد بلوچ ابھی کم سن ہی تھا کہ اس کے چچا علی بخش (جیکی) اسے اپنے ساتھ کراچی ریس کورس لے گئے، جہاں فیض نے 13 سال کی عمر میں ’رائیڈر بوائے‘ کا لائسنس حاصل کیا۔ اس کے بعد جیسے کہتے ہیں ”اس نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا!“

نوجوانی کی عمر تک ان کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیلی ہوئی تھی۔ 1937 میں انہیں باقائدہ طور پر ’بالغ جیکی‘ تسلیم کیا گیا۔ پھر نہ صرف کراچی بلکہ لاہور، بمبئی، مدراس، پونا، بنگلور، لکھنؤ اور میرٹھ میں بھی انہوں نے ٹاپ موسٹ گُھڑ سوار ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ البتہ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور اور کراچی تک ہی محدود رہے، جہاں وہ کئی اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جن میں ٹاپ ’قائداعظم گولڈ کپ‘ بھی شامل ہے۔

جب 1964 میں 47 سال کی عمر میں چست و توانا فیض محمد نے آخری مرتبہ گُھڑ سواری کی تو اس وقت تک وہ مسلسل 20 سال تک کراچی ریس کورس میں ’دی چمپین‘ اور ’دی لٹل ایمبیسیڈر‘ رہے۔

فیض بلوچ نے پروفیشنل جیکی ہونے کی اپنی خاندانی روایت جاری رکھی اور ان کے تین جیکی بیٹوں شیر محمد، طارق اور علیم نے کراچی اور لاہور ریس کورس میں کافی شہرت حاصل کی۔

اپنی طالب علمی کے زمانے میں ہم نے اس جیکی خاندان کے بارے میں سن رکھا تھا لیکن 70 کی دہائی کے دوران لیاری میں سماجی تقاضوں کی تبدیلیوں اور سیاسی ہلچل میں فیض محمد جیکی کا نام لوگوں کے ذہنوں سے ماؤف ہوتا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ 1973 میں جیکی خاندان اس علاقے سے پی ای سی ایچ سوسائٹی شفٹ ہو گیا۔

موسیقی کے شعبہ سے وابستہ جیکی خاندان کے جمیل مگسی کے ذریعے فیض محمد بلوچ کے بیٹوں طارق اور علیم سے ایک دوست افسر رؤف بلوچ کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی تب پتہ چلا کہ واجہ فیض محمد لیاری کے گمنام ہیروز میں سے ایک تھے۔

فیض محمد جیکی بہت ہی بااخلاق، بلند کردار اور بہت ہی شائستہ انسان تھے۔ وہ سماجی اور اجتماعی طور پر امدادی کاموں میں بھی سرگرم رہتے تھے۔ وہ ملیر تھانو یونین کونسل کے چیرمین بھی منتخب ہوئے تھے۔ بنیادی طور پر ملیر کے کلمتی خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن بعد میں مگسی خاندان سے رشتہ جوڑنے کے بعد وہ لیاری کے ہو کر رہ گئے۔

ریس کے پروفیشنل گھڑ سواروں کو اس دور میں کراچی کے معزز شہریوں کا درجہ حاصل تھا۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا اس وقت کے بڑے لوگوں کے ساتھ تھا۔ غیر ملکی سفارتخانوں کی دعوتوں میں بھی ان کو مدعو کیا جاتا تھا۔ فیض محمد اس سرکل میں جہاں جاتے، ان کی بڑی آؤ بھگت ہوتی تھی۔

ان کے بہت ہی قریبی دوستوں میں آسٹریلیا کے جیکی اور ٹرینر ٹی جے رسل شامل تھے، جو کئی سالوں سے کراچی میں گھوڑے دوڑاتے تھے۔ ان دونوں دوستوں میں بڑی ذہنی ہم آہنگی تھی

مسٹر رسل کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ یکم جون 1964 کو پہنچا، جب ان کے سامنے ان کے قریبی دوست فیض محمد بلوچ ریس کے دوران گھوڑے سے گر پڑے اور سر پر سنگین چوٹ لگنے کے سبب 32 گھنٹے بیہوش رہنے کے بعد یہ دنیا چھوڑ گئے۔

اس ناگہانی حادثہ نے پورے کراچی کو سوگوار کردیا تھا۔ ڈیلی ڈان نے جلی سرخیوں میں چمپین فیض محمد کی موت کی خبر دے کر اپنے رپورٹر علیم احمد کی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی اور تین دن تک اسپورٹس کے صفحات میں مرحوم فیض کے بارے میں خبریں چپھتی رہیں۔

مسٹر ٹی جے رسل نے کراچی کی قدیمی بستی لیاری آکر اپنے دوست فیض کی میت کے جلوس میں جم غفیر دیکھا، جس کا ایک سرا ان کی رہائش گاہ چاکیواڑا نمبر 2 میں جبکہ دوسرا سرا ٹرام جنکشن میں تھا۔

فیض کے ان ہزاروں چاہنے والوں میں عام شہریوں کے علاوہ کراچی شہر کے نامور سیاستدانوں، سماجی رہنماؤں، اسپورٹس اور کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں سابقہ مئیر کراچی اور گورنر سندھ محمود ہارون اور سابق مرکزی وزیر زین نورانی بھی شامل تھے، جو اپنے آنسوؤں پر اس دن قابو نہ پاسکے تھے۔

فیض محمد کی موت کے تیسرے دن اپنے دوست کی یاد میں مسٹر ٹی جے رسل کا ایک آرٹیکل ڈیلی ڈان میں چھپا جس کا عنوان تھا: Faiz Was A Gentleman اسی آرٹیکل کے آخر میں انہوں نے گُھڑ دوڑ سے ریٹائر ہونے اور پاکستان سے اپنے وطن آسٹریلیا جانے کا اعلان کیا۔

Tags:

abu lahab storybom diggy diggy version 2 0 romantic love story mix bk mazari balochhackle of suleimanhackle sulemani ki historyhaikal sulemani history in urduhistory of taboot e sakina and haikal sulemaniking of tiktokerliaquat ali khan historyliaquat ali khan storylove storynational college of arts lahorerana liaquat ali khan life storytaboot sakina history in urduwho was behind of assassination of liaquat ali khan?zack knight
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے خلاف لڑنے والے جنگجو روپلو کولہی کی کہانی

Next

اقلیت کو ہونا ہی نہیں چاہیے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme