Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

قبائلی ضلع خیبر میں دو خاندانوں کی پینتیس برس پرانی خونی دشمنی کے دوستی میں بدلنے کی کہانی

By Akhtar Rasool
دسمبر 30, 2022 3 Min Read
0

قبائلی دشمنی کسی جنگ سے کم نہیں ہوتی، یہ لڑائی جتنی پرانی ہوتی جاتی ہے اتنی ہی خونریزی زیادہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے

ایسی ہی ایک دشمنی خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں پینتیس برس پہلے اس وقت شروع ہوئی، جب تحصیل لنڈی کوتل کے دو بااثر اور طاقتور خاندانوں میں 1986ع میں معمولی تنازع پر دشمنی کا آغاز ہوا اور یہ ایک طویل لڑائی کی صورت اختیار کر گئی

دونوں خاندانوں کی دشمنی میں نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ دونوں فریقین کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
مقامی سماجی رہنما نعیم شنواری بتاتے ہیں ”ان خاندانوں کی لڑائی سے پورے علاقے میں خوف کی فضا قائم رہی۔ جب سے دشمنی کا آغاز ہوا، دونوں گھرانوں نے اپنے حُجروں اور رہائش گاہوں کے باہر سکیورٹی برج قائم کیے۔ اس کے علاوہ بھی سکیورٹی کے لیے ہر غیر معمولی انتظامات کیے گئے“

ان خاندانوں کے بیشتر افراد علاقہ چھوڑ کر پشاور اور دیگر شہروں میں آباد ہو گئے مگر گھر کے سربراہ اپنے حجروں میں ہی موجود رہ کر حریف کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے

نعیم شنواری کے مطابق ”جب بھی دونوں گھرانوں میں کسی کا قتل ہوتا، پورے گاؤں میں سوگ کا سماں ہوتا۔ علاقے کے مشران اس خونی دشمنی کو ختم کرکے امن قائم کرنے پر زور دیتے تھے“

خونی دشمنی دوستی میں کیسے تبدیل ہوئی؟

لنڈی کوتل کے دو بڑے خاندانوں کے درمیان طویل دشمنی بدھ کو جرگے کی مدد سے دوستی میں بدل گئی۔ جرگہ کے مشران دو سال کی مسلسل کوشش سے دونوں فریقین کو ایک جگہ بٹھانے میں کامیاب ہوئے

صلح کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں خاندانوں کے افراد آپس میں بغل گیر ہوئے، ایک دوسرے کو دل سے معاف کیا اور آئندہ بھائیوں کی طرح رہنے کا عہد کیا

تقریب میں سابق وفاقی وزیر نورالحق قادری، ڈی پی او خیبر اور دیگر عمائدین شریک ہوئے۔ شرکاء نے کہا کہ فریقین نے جرگہ ثالثوں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا اور دونوں طرف سے صلح کی خواہش تھی اور اپنی ضد اور انا سے پیچھے ہٹ گئے تھے

شرکا نے بتایا کہ جرگہ ممبران نے طویل جدوجہد کے بعد فریقین کی دشمنی کو دائمی دوستی میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی

ڈی پی او خیبر عمران خان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی پرانی اور بڑی دشمنی سے پورے علاقے میں امن و امان کی صورتحال بگڑ جاتی ہے، اس لیے پولیس کی کوشش ہوتی ہے کہ مقامی جرگہ سسٹم کو استعمال کر کے فریقین میں صلح صفائی کروائی جائی

پولیس کے مطابق دونوں خاندانوں کی لڑائی میں اب تک بارہ افراد جان سے گئے ہیں اور گیارث افراد زخمی ہوئے

جرگے میں ثالثی کے طور پر مشران نے اہم کردار ادا کیا تاہم پولیس کی جانب سے جرگے مشران کو مکمل تعاون حاصل رہا

ڈی پی او خیبر کے مطابق خیبر پختونخوا صوبے میں ضم ہونے سے پہلے معمولی تنازعات دشمنیوں میں بدل گئے تھے۔ پولیس نظام نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات کے ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ ان ضم اضلاع میں پولیس آنے کے بعد کافی حد تک ایسے معاملات حل کر لیے گئے ہیں

دشمنی کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟

اس حوالے سے مقامی صحافی عبدالقیوم آفریدی کا کہنا ہے ”زیادہ تر دشمنی کی وجہ اراضی کے تنازعات ہوتے ہیں جو کہ نسلوں تک چلی آتی ہیں۔ ایسے خاندان بھی موجود ہیں، جن کے سرابراہ خود تو دنیا سے چلے گئے مگر ان کی نسلیں دشمنی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں“

انہوں نے بتایا ”دشمنی کا آغاز ہوتے ہی فریقین کے بعض افراد بیرون ملک روزگار کے لیے چلے جاتے ہیں جو خاندان کے دیگرافرار کو باہر سے پیسے بھیجتے رہتے ہیں تاکہ وہ گھر میں رہ کر دشمنوں کے لیے میدان خالی نہ چھوڑے۔ دشمن ایک دوسرے کے خلاف مورچے بھی قائم کر لیتے ہیں علاقہ چھوڑ کر نہیں جاتے اور کوشش کرتے ہیں جہاں دشمن نظر آئے اور اپنا بدلہ لے“

صوبے میں ضم ہونے کے باوجود جرگہ نظام کی بدولت ایسے معاملات کا حل نکالا جا رہا ہے اور اس میں انتظامی افسران بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں

صحافی عبدالقیوم آفریدی کے مطابق رواں سال بارہ ایسے کامیاب جرگے ہوئے، جس میں پرانی دشمنیاں ختم ہوئیں۔

Tags:

a short history of the worlda short history of the world audiobooka short history of the world by hg wellsa short history of the world by hg wells reviewbattle of panipat 1761 history in marathifall of civilisationsfall of civilizations indiaHistoryhistory in hindihistory of pashtunshistory of the bengal sappershistory of the bombay sappershistory of the pashtunindia pakistan partition history in englishthe pakistani girl shot in taliban attack
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

گوگل کروم کا غیر محفوظ انٹرنیٹ کنیکشنز سے حفاظت کا فیچر

Next

دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود گوادر میں احتجاج جاری، سو سے زائد مظاہرین گرفتار

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme