Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

لمپی اسکن وائرس: مقامی سطح پر تیار کی گئی سستی ویکسین جلد دستیاب ہوگی

By Akhtar Rasool
ستمبر 28, 2022 2 Min Read
0

محکمہ لائیو اسٹاک سندھ کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی لمپی اسکن بیماری کی ویکسین جلد ہی مارکیٹ میں آ جائے گی، جس کی قیمت تقریباً پچیس روپے فی ڈوز تک ہوگی

تفصیلات کے مطابق سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نظیر حسین کلہوڑو کا کہنا ہے کہ سندھ میں رواں سال کے آغاز سے گائے میں پھیلنے والے وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے نو مہینے کا ٹاسک رکھا گیا تھا، مگر یہ ویکسین پانچ مہینے میں ہی تیار ہو گئی ہے

ڈاکٹر نظیر حسین کلہوڑو نے بتایا ”لمپی وائرس کی ویکسین کے تیاری کے نو مراحل ہیں اور یہ ویکسین نو مہینے میں تیار ہونی تھی، مگر پانچ مہینوں میں اس ویکسین کے سات مراحل مکمل کرلیے گئے ہیں۔ جلد ہی یہ ویکسین مارکیٹ میں موجود ہوگی“

ان کا کہنا تھا ”بیرون ملک سے آنے والی ویکسین کی ایک ڈوز کی قیمت ڈھائی سو روپے ہے، مگر مقامی طور پر بننے والی اس ویکسین کا ایک ڈوز صرف پچیس روپے کا ہوگا“

ڈاکٹر نظیر حسین کلہوڑوکے مطابق یہ ویکسین سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کراچی میں تیار کی گئی ہے

یاد رہے کہ حالیہ سال کے آغاز سے سندھ میں مویشیوں خاص طور پر گائے میں لمپی اسکن وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس وائرس سے سندھ میں ہزاروں جانور متاثر ہوئے۔ کچھ عرصے بعد یہ وائرس دیگر صوبوں میں بھی پھیلنے لگا

اس وائرس سے متاثرہ جانور کے جسم پر پھوڑے، گانٹھ اور دانے نمودار ہوتے ہیں۔ ان دانوں میں پیپ بھی پڑ جاتی ہے جو کہ گائے کی کھال سے گوشت تک سرایت کر جاتی ہے۔ اس وائرس سے بچنے کے لیے بیرون ملک سے ویکسین منگوائی گئی تھی

مقامی طور پر ویکسین کی تیاری میں شامل سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کے ریسرچ اینڈ سرویلینس کی انچارج بے نظیر کنول شیخ کے مطابق ”ویکسین کی تیاری کے لیے ان کے شعبے نے ملک بھر سے لمپی وائرس سے متاثرہ گائے کے نمونے لے کر اس کے بعد یہ ویکسین تیار کی ہے“

بے نظیر کنول شیخ کا کہنا ہے ”عام طور پر کسی ویکسین کی تیاری کے لیے ایمبریو یا انڈی پر ویکسین تیار کی جاتی ہے، مگر اس ویکسین کے لیے جانور کا اصلی خون اور عضو لے کر ان پر ویکسین تیار کی گئی ہے، جو وائرس سے متاثر جانوروں میں موثر ہوگی“

Tags:

Lumpy Skin DiseaseLumpy VirusPakistanTreatmentVIRUS
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

میٹا نے فیسبک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپ سے چلانے کے فیچر کی آزمائش شروع کر دی

Next

انگلینڈ کی اپنے ملک میں پاک بھارت ٹیسٹ سیریز کی پیشکش، کیا یہ ممکن ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme