Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

لندن: سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس رپورٹ، ملک بھر میں پھیلنے کا خطرہ

By Akhtar Rasool
جون 23, 2022 3 Min Read
0

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں سیوریج کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس رپورٹ ہوا ہے، جس کے بارے میں حکام نے کہا ہے کہ یہ 1980ع کی دہائی کے بعد پہلا موقع ہے کہ وائرس ملک بھر میں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، لیکن تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا

غیر ملکی خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (یو کے ایچ ایس اے) نے کہا ہے ”ایک فیصد سے کم کیسز میں بچوں میں معذوری کا سبب بننے والی اس بیماری سے انفیکشن کا خطرہ دراصل ویکسنیشن کی زیادہ شرح کی وجہ سے بھی کم ہوگیا ہے“

لیکن اس کے باوجود ہیلتھ ایجنسی نے والدین کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گندے پانی کی معمول کے مطابق معائنے سے وائرس کی دریافت کے بعد ویکسین لگانے کو یقینی بنائیں اور خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے کورونا کی ویکسین نہیں لگوائی

رپورٹ کے مطابق وائرس پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں ویکسینیشن کی سطح 90 فیصد سے زیادہ درکار ہے لیکن حالیہ برسوں میں لندن میں بچوں کی ویکسینیشن کی شرح اس سے نیچے گر گئی ہے

نیشنل ہیلتھ سروس شہر میں ان پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین سے رابطہ کرے گی، جن کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے

رپورٹ کے مطابق ”پولیو بنیادی طور پر فضلے کی آلودگی سے پھیلتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں سالانہ ہزاروں بچے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ ہزاروں معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں، ابتدائی طور پر اس کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن ویکسینیشن نے دنیا کو جنگلی یا قدرتی طور پر ہونے والی اس بیماری کے خاتمے کے قریب پہنچا دیا ہے“

ہیلتھ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس سے عام طور پر سالانہ ایک سے تین کے درمیان سیوریج میں پولیو وائرس کے نمونے ملتے ہیں، جو کہ پہلے نہ ہونے کے برابر تھے

رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں سال، اس کا ایک نمونہ فروری میں مشرقی لندن کے بیکٹن ٹریٹمنٹ ورکس میں پایا گیا تھا اور اسی پلانٹ میں اپریل سے اب تک تقریباً چالیس لاکھ افراد کی خدمت کرنے والے پلانٹ میں ابھی تک کیسز سامنے آ رہے ہیں

ہیلتھ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس طرح ہوتا تھا کہ جو فرد بیرون ملک سے براہ راست زبانی پولیو ویکسین کے ساتھ ویکسین کے ذریعے واپس آتا یا ملک کا سفر کرتا تھا اور مختصر طور پر اپنے فضلے کے ذریعے وائرس کا اخراج کرتا تھا تو پھر وائرس ظاہر ہوتا تھا

ہیلتھ ایجنسی کا خیال ہے کہ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے لیکن اہم فرق یہ ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر آپس میں جڑے ہوئے لوگوں کے درمیان بھی ممکنہ طور پر پھیل چکا ہے اور اسے ’ویکسین سے حاصل کردہ پولیو وائرس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو بیماری کا سبب بن سکتا ہے، ایجنسی نے کہا کہ کمیونٹی ٹرانسمیشن کی تحقیقات کی جا رہی ہے

اگرچہ برطانیہ میں اس قسم کا واقعہ مؤثر طریقے سے قابل غور نہیں اور ویکسین سے پھیلنے والے پولیو وائرس کے طور پر ہی جانا جاتا ہے، اس وائرس کا عالمی سطح پر ان ممالک میں خطرہ ہے جہاں حفاظتی ٹیکوں کی پہنچ کم ہے جس کی وجہ سے یہ وائرس پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے اور یوکرین اور اسرائیل میں بھی حال ہی میں اس وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ نائیجیریا اور یمن جیسے ممالک میں یہ وبا زیادہ عام ہے

برطانیہ میں پولیو کا آخری کیس 1984ع میں سامنے آیا تھا، اور یہ ’جنگلی‘ پولیو اب صرف افغانستان اور پاکستان میں پایا جاتا ہے، تاہم 2022ع میں ملاوی اور موزمبیق میں وائرس کے پھیلنے کی اطلاع ملی ہے، جو باہر سے آیا

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاس نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا ”پولیو کے خاتمے کے لیے نگرانی، ویکسینیشن اور سرمایہ کاری اہم ہے۔ ہیلتھ ایجنسی برطانیہ کے ساتھ تعاون کرکے کام کر رہی ہے“

Tags:

LondonPolioPolio VirusSewerage
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ٹوئٹر پر ڈھائی ہزار الفاظ پر مشتمل ‘نوٹس’ فیچر کی آزمائش شروع

Next

سری لنکا: ایندھن، گیس، بجلی، خوراک نہیں، پوری معیشت تباہ۔۔۔ کیا پاکستان بھی اسی طرف جا رہا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme