Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

’ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئی ہوں گی، لیکن غدار اور سازشی نہیں ہو سکتے‘ ڈی جی آئی ایس آئی

By Akhtar Rasool
اکتوبر 27, 2022 3 Min Read
0

پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس ایجنسی (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا ہے کہ ’سچ کی لمبی خاموشی بہتر نہیں ہوتی لیکن جب جھوٹ کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے تو خاموش نہیں رہا جا سکتا۔‘

جمعرات کو پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا ’میرا منصب اور میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ میری ایجنسی کو پس منظر میں رہنا پڑتا ہے۔ میں اپنے محکمے کے لیے آیا ہوں، جس کے افسر اور ایجنٹس پوری دنیا میں اس ملک کی پہلی دفاعی لائن بن کر کام کرتے ہیں۔‘

لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے ابتدائی کلمات کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کا تعارف کروایا اور میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے موجودہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو پریس کانفرنس میں شرکت کا کہا اور اب وہ براہ راست مخاطب ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے ارشد شریف کی ہلاکت کے حوالے سے کہا کہ ’معلومات اور تحقیق کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ اُن کی زندگی پاکستان میں محفوظ تھی۔‘

’کینیا کی پولیس نے کہا کہ شناخت کی غلطی کے باعث حادثہ پیش آیا ہے لیکن حکومت اور ہم اس بات سے مطمئن نہیں ہیں اس لیے تحقیقات کے لیے درخواست کی۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ ارشد شریف کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے وزارت داخلہ کی جانب سے تشکیل کردہ ٹیم میں سے ’دانستہ طور پر آئی ایس آئی کے افسروں کو نکالا ہے تاکہ غیرجانبدار تفتیش کو ممکن بنایا جا سکے۔‘

ڈی جی آئی ایس آئی نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے متعلق کہا کہ ’لسبیلہ میں ہمارے کور کمانڈر اور ان کے ساتھ جوان شہید ہوئے اور ان کا مذاق اڑایا گیا۔‘

’میر جعفر کہنا، میر صادق کہنا، نیوٹرل کہنا اور جانور اس لیے کہا گیا کہ آرمی چیف اور ان کے ادارے نے غیرقانونی کام کرنے سے انکار کیا۔‘

انہوں نے کہا ’آپ ہمارا محاسبہ کیجیے، صبح و شام کیجیے مگر پیمانہ یہ رکھیے کہ میں نے ملک و قوم کے لیے کیا کیا، یہ نہ رکھیے کہ میں نے کیا کیا۔‘

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا کہنا تھا کہ غیرجانبدار رہنا صرف آرمی چیف جنرل باجوہ اور کسی ایک شخص کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ پورے ادارے کا فیصلہ تھا

انہوں نے کہا کہ مارچ میں آرمی چیف جنرل باجوہ کو عہدے کی مدت میں غیرمعمولی توسیع کی پیشکش ان کے سامنے کی گئی تھی۔
انہوں نے ادارے پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’اگر آپ کا دل مطمئن ہے کہ آپ کا سپہ سالار غدار ہے تو اس کی تعریفوں کے پُل کیوں باندھتے رہے۔ آج بھی پس پردہ کیوں مل رہے ہیں۔ یہ نہ کریں کہ رات کو بند دروازوں کے پیچھے ملیں اور دن کو غدار کہیں۔ قول و فعل میں اتنا بڑا تضاد درست نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خطرہ اندرونی عدم استحکام سے ہے۔ نفرت اور تقسیم کی سیاست سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ معاشی مسائل کے باعث عدم استحکام سے خطرہ ہے

انہوں نے کہا ’آئی ایس آئی کے ادارے نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ صرف وہ کام کریں گے، جو قوم کے مفاد میں ہے اور آئین کے مطابق ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے پریس کانفرنس میں شرکت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ’پریس کانفرنس سے صحافیوں کو حیران و پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایجنسی کے کچھ پوشیدہ معاملات ہوتے ہیں جن کو کہنے کی ذمہ داری میں خود اٹھانا چاہتا تھا اس لیے پریس کانفرنس میں آنا پڑا۔ جھوٹ کے جواب میں کسی نے تو سچ کی چُپ توڑنے کی ذمہ داری اٹھانا تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر میری ذات کے خلاف مہم چلائی گئی مگر میں نے کارروائی کرنے سے منع کر دیا تھا۔‘

صحافیوں پر لگنے والے الزامات سے متعلق ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ ’صحافیوں کو لفافہ کہنے کے نظریے کے خلاف ہوں۔ پاکستان کے صحافی بہت مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔ اس نظریے کی مذمت کرتا ہوں۔‘

’ہمارا ایسا کوئی صحافی نہیں، جس کو میں بحیثیت ڈی جی آئی ایس آئی لفافہ کہہ سکوں۔‘

Tags:

DG ISIISIPakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ارشد شریف: لانگ مارچ سے قبل فیصل واوڈا کی نیوز کانفرنس سے پاکستان میں نئی سیاسی ہلچل

Next

پہلے انٹرنیٹ پھر پولیو کے قطرے۔۔ جنوبی وزیرستان میں پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme