Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

مشہور کہاوتیں اور ان کے پس منظر میں چھپی کہانیاں-2

By Akhtar Rasool
نومبر 4, 2021 4 Min Read
0

کہاوت نمبر 1:
تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو

مطلب :
اگر کسی بات کا نتیجہ موافق مقصود ظاہر نہ ہو رہا ہو تو کہتے ہیں، یعنی صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اچھے وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔

پس منظر :
اس کہاوت کے وجود میں آنے کا سبب ذیل میں دی گئی حکایت ہے:
’’ایک راجا نے اپنے دربار میں چار مشیروں کی تقرری کی۔ ان میں سے ایک سپاہی تھا، دوسرا برہمن تھا، تیسرا اُونٹ والا اور چوتھا تیلی تھا۔ کچھ دنوں کے بعد ایک دوسرے راجا نے اس پر چڑھائی کر دی۔ راجا فکر مند ہوگیا۔ اس نے اپنے چاروں مشیروں کو دربار میں بلوایا اور سب سے الگ الگ رائے مانگی کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے؟ سپاہی نے فوراً جواب دیا، حضور سوچتے کیوں ہیں؟ اس کے خلاف ہمیں لڑنے کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔ اس کے بعد راجا نے برہمن سے دریافت کیا، تو اس نے کہا، مہاراج جس طرح بھی ممکن ہو، معاہدہ کر لینا چاہیے ورنہ خونِ ناحق ہگا۔ تمام اِملا ک تباہ و برباد ہوگی۔ جب راجا نے ساربان (اونٹ والے) سے پوچھا، تو اس نے کہا، اس کے بارے میں، مَیں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ آخر میں بادشاہ نے تیلی سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ تیلی نے کہا، حضور پریشان نہ ہوں۔ قطعی گھبرائیں نہیں۔ تیل دیکھیے تیل کی دھار دیکھیے۔ یعنی جلدی نہ کیجیے۔ خوب سنجیدگی سے غور و فکر کرلیجیے اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیے۔ تیل لینا ہو، تو برتن میں تیل دیکھ کر ہی پہچان نہیں ہوسکتی۔ اس کی دھار دیکھنے پر ہی اس کو ٹھیک سے پَرکھا جاسکتا ہے۔‘‘

کہاوت نمبر 2 :
چراغ تلے اندھیرا

مطلب :
منصف حاکم کے قرب میں ظلم ہونا، غیروں کو فائدہ پہنچانا اور اپنوں کو محروم رکھنا

پس منظر :
ایک سوداگر اپنا مال لے کر فروخت کرنے کے لیے کسی شہر کی طرف جا رہا تھا۔ بادشاہ کے قلعے کے پاس پہنچتے پہنچتے اُسے رات ہوگئی۔ وہ قلعہ کی دیوار کے کنارے ٹھہر گیا۔ اس کے خیال میں قلعہ سب سے محفوظ مقام تھا۔ رات گزار کر صبح کو شہر کی طرف اُسے روانہ ہونا تھا، جس وقت وہ قلعہ کی دیوار کے کنارے سو رہا تھا، اُسی وقت قزاقوں اس کا سار امال لوٹ لیا۔ صبح ہونے پر وہ بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فریاد کرنے لگا کہ قزاقوں نے حضور کے قلعہ کے دیوار کے نیچے میرا تمام مال و اسباب لوٹ لیا ہے۔ بادشاہ نے سوداگر سے کہا، تو اپنے مال کے لیے ہوشیار کیوں نہ رہا؟ اس نے کہا، بندے کو معلوم نہ تھا کہ جہاں پناہ کے زیرِ سایہ بھی مسافروں کا مال لوٹا جاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا، کیا تو نے جلتا ہوا چراغ نہیں دیکھا کہ ’’چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے۔‘‘

کہاوت نمبر 3:
یک نہ شُد دو شُد

مطلب:
ایک بلا تو تھی ہی دوسری اور پیچھے پڑ ی۔ ایک مصیبت کے ساتھ دوسری مصیبت آگئی۔ ایک امرِ عجیب کے بعد دوسرے امرِ عجیب کے ظاہر ہونے کے عمل پر بولتے ہیں۔ جب کسی شخص پر ایک عیب لگے اور وہ اس کی صفائی نہ دے پائے اور صفائی دینے کی کوشش میں دوسرا الزام اس کے سر آجائے، تو بھی اس کہاوت کا استعمال کرتے ہیں

پس منظر :
اس کہاوت کے پس منظر میں معمولی فرق کے ساتھ کئی لوک کہانیاں مشہور ہیں جن میں سے ایک حسبِ ذیل ہے: ’’کہا جاتا ہے کہ کوئی شخص اس بات کا عامل تھا کہ مردے کو اپنے فسوں اور منترکے وسیلے سے جگا کر اس کے گھر کا تمام حال پوچھ کر اس کے گھر والوں کو بتا دیا کرتا تھا، یعنی جو بات اس کے خاندان والوں کو اس سے دریافت کرنی ہوتی تھی، یہ ہم زاد کے وسیلے سے پوچھ دیا کرتا تھا۔ جب یہ شخص مرنے لگا، تو اس نے اپنے ایک شاگرد کو یہ عمل بتا دیا۔ شاگرد نے بطورِ آزمائش قبرستان میں جاکر ایک مردے کو جگایا، مگر پھر قبر میں داخل کرنے کا منتر بھول گیا۔ تب ناچار ہو کر اس نے اپنے استاد کو منتر کے وسیلے سے جگایا کہ وہ اسے قبر میں داخل کرنے کا منتر دوبارہ بتادیں گے۔ اس طرح اس بلا سے پیچھا چھوٹے گا، مگر ہوا یہ کہ استاد بھی اس عالم میں کچھ نہ بتاسکے۔ پہلے تو ایک مردہ ساتھ تھا، اب دو مردے ساتھ ہوگئے۔ اُس وقت اُس نے گھبرا کے یہ کلمہ کہا کہ ’’یک نہ شُد دو شُد۔‘‘

ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی تصنیف ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘ سے ماخوذ


  • چند مشہور کہاوتیں اور ان کے پس منظر میں چھپی کہانیاں-1


Tags:

Urdu PhraseUrdu Proverbs
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

امیروں کا شوق غریبوں کی موت بن گیا. آلودگی سے بیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے، تحقیق

Next

مہنگی چینی، مل مالکان نے عوام کی جیب سے اضافی 265 ارب روپے نکال لیے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme