Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت نے ڈاکٹروں کی نظروں سے اوجھل قلبی امراض دریافت کرلیے

By Akhtar Rasool
فروری 26, 2022 2 Min Read
0

لاس انجلس: ڈاکٹروں اورسائنسدانوں کی ٹیم نے پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) استعمال کرتے ہوئے دل کے دو نقائص ایسے دریافت کئے ہیں جو عموماً ماہرین کی نظر سے بھی چوک جاتے ہیں۔

ان میں ایک مرض ’ہائپرٹروفِک کارڈیومیوپیتھی اور دوسری کیفیت ’کارڈیئک ایمیلوئیوڈوسِس‘ ہے اور یہ دونوں ہی جان لیوا ہوتی ہیں۔

لاس اینجلس میں واقع سیڈر سینائی اسمٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں سائنسدانوں اور اطبا کی ایک ٹیم نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے دو قلبی کیفیات دریافت کی ہیں جن کی روداد جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی ہیں۔

ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ اویانگ کہتے ہیں کہ ان امراض کے شکار مریضوں میں بیماری کی درست شناخت میں سال بلکہ عشرے بھی لگ جاتے ہیں۔ اب اے آئی کی بدولت مرض کے مخصوص پیٹرن دیکھ کر تشخیص کی گئی ہے کیونکہ انسانی آنکھ اسے نہیں دیکھ پارہی تھی۔

دو مرحلوں پر مشتمل شناختی عمل میں خاص الگورتھم پر دل کے الٹراساؤنڈ کی 34000 ویڈیوز کو آزمایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو ہسپتال اور دیگر اداروں سے لی گئی تھیں۔ اس دوران سافٹ ویئر امراض کی مختلف علامات دیکھ کر تربیت پاتا رہا۔ ان میں دل کے خانوں کے رقبے، قلبی دیوار کی موٹائی اور دیگر معلومات شامل تھیں۔ سافٹ ویئر نے بطورِ خاص ان دو کیفیات کو نوٹ کرکے ڈاکٹروں کو بتایا۔

سافٹ وییئر نے کسی ماہر ترین ڈاکٹر کی طرح کام کیا کیونکہ وہ ان تبدیلیوں کو بھی نوٹ کررہا تھا جو شروع میں بہت معمولی ہونے کی بنا پر ڈاکٹر سے بھی اوجھل رہ جاتی ہیں۔ پھر کسی ٹیسٹ کے بغیر ہی بہت درستگی سے مرض کی تشخیص کی گئی جو ایک بڑی پیشرفت ہے۔

وجہ یہ ہے کہ سائنسداں ان تبدیلیوں مثلاً قلبی دیواروں کی موٹائی کو عمر کے ساتھ کی تبدیلیاں کہتے رہے تھے۔ الگورتھم سافٹ ویئر نارمل اور ابنارمل دل کی بھی شناخت کرسکتا ہے۔ اس طرح پہلے شںاخت سے کئی مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

’ہائپرٹروفِک کارڈیومیوپیتھی‘ اور’کارڈیئک ایمیلوئیوڈوسِس‘ دونوں بیماریاں مہلک ہیں اور بہت دھیرے دھیرے اپنا قدم جماتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شناخت قدرے مشکل ہوتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی بدولت بہت درستگی سے امراض کی شناخت ایک خوش آئند بات ہے جس سے بہت سے افراد کی جان بچانا ممکن ہوگا۔ تاہم اگلے مرحلے میں مریضوں کی بڑی تعداد پر یہ الگورتھم آزمایا جائے گا جس سے اس کی مزید افادیت یا کمی سامنے آسکیں گی۔

Tags:

AIAI in MedicalArtificial Intelligent
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

روس یوکرین جنگ: یورپ میں مقیم پاکستانیوں کا مستقبل؟

Next

روس نے اقوام متحدہ میں اپنے خلاف مذمتی قرارداد ویٹوکردی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme