
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں اب توجہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہو گئی ہے۔
Strategic Significance of آبنائے ہرمز
حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایران کو 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے، بصورت دیگر اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس کے جواب میں ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے بجلی گھروں یا توانائی کے نظام پر حملہ کیا گیا تو وہ نہ صرف آبنائے ہرمز بند کر دے گا بلکہ خلیجی ممالک کے تیل اور پانی کے نظام کو بھی نشانہ بنائے گا.
دوسری جانب امریکہ نے خطے میں مزید فوجی طاقت تعینات کر دی ہے، جن میں جنگی طیارے اور ہزاروں اہلکار شامل ہیں، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ جلد ایک بڑا بحری تصادم ہو سکتا ہے.
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے.
ایران پر فضائی حملے جاری، شہری ہلاکتوں میں اضافہ، خطہ تباہی کے دہانے پر
ایران کے مختلف شہروں پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی جاری رہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ صرف ایران میں ہی 1500 سے زائد اموات کی تصدیق کی گئی ہے
حالیہ حملوں میں رہائشی علاقوں، طبی مراکز اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اسی دوران ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھے، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ خطے میں لبنان اور دیگر علاقوں تک کشیدگی پھیلنے لگی ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ جنگ اب صرف فوجی تصادم تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے انسانی بحران، معاشی عدم استحکام اور توانائی کے عالمی نظام کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
‘ٹرمپ جیسا کوئی نہیں’ — وسعت اللہ خان
ایندھن مہنگا، مہنگائی میں تیزی کا خدشہ: شرح 12 فیصد سے بڑھ سکتی ہے




