Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

موسم گرما میں سندھ کا مشہور فرحت بخش مشروب تھادل

By Akhtar Rasool
جولائی 21, 2022 4 Min Read
0

گرمی کے موسم میں جب سورج کا پارہ چڑھتے ہی لُو لگنا شروع ہوتی ہے تو انسان تو انسان جانور، پرندے بھی اپنے اپنے آشیانے میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ صبح سے رات گئے تک یوں لگتا ہے جیسے آدمی کسی آگ کی بھٹّی میں جل رہا ہو۔ سندھ کے دیہاتی علاقوں اور میدانوں میں دور دور تک اگر نگاہ دوڑائیں تو زمین سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ درخت، پودے اور گھاس سب سوکھے اور روکھے دکھائی دیتے ہیں

وسطی اور بالائی سندھ سمیت بلوچستان کے جنوب مشرقی علاقوں کا درجہ حرارت موسم گرما میں 50 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ جاتا ہے تو گرمی کے موسم کے آغاز سے ان علاقوں کی شاہراہوں کے مختلف مقامات پر رنگ برنگے اسٹال سج جاتے ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ مشروب تھادل فروخت کیا جاتا ہے

تھادل سندھی زبان کے لفظ ’تھد‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ’ٹھنڈ‘ کے ہیں، یوں ’تھادل‘ کا مطلب ’ٹھنڈک‘ بنتا ہے۔ سندھ میں عمومی طور پر تھادل کو گرمی کا توڑ سمجھا جاتا ہے

سندھ کے متعدد شہروں میں یہ بڑے پیمانے پر ’پبلک ڈیمانڈ‘ میں ہے۔ اسے بڑے پیمانے پر پسند کئے جانے کا ایک سبب اس کا مزیدار ذائقہ ہے، تو دوسرے اس کی ٹھنڈی تاثیر ہے۔ تھادل کے بارے میں روایت ہے کہ یہ جگر کے مرض میں بہت سُود مند ہے

مختلف مقامات پر جھونپڑیاں ڈال کر سندھ کا مشہور دودھ کی طرح سفید مشروب تھادل فروخت کیا جاتا ہے۔ شہر کے چھوٹے بڑے مقامات، بس اسٹینڈ اور دیگر علاقوں میں تھادل فروخت کرنے والے اپنے اسٹال لگا دیتے ہیں اور ان اسٹالز سے ڈنڈے سے بندھی گھنگھرو کی آواز کے ساتھ تھادل تیار کیا جاتا ہے۔ گرمی بڑھنے پر یہ لوگوں کا پسندیدہ مشروب بن جاتا ہے

تھادل گرمیوں کا مشہور اور دلفریب مشروب ہے جس کے پینے سے نہ صرف ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے بلکہ دن بھر گرمی کا احساس نہیں ہوتا۔ انتہائی معقول قیمت میں دستیاب تھادل جسے گرمی میں کام کرنے والے بالخصوص غریب لوگ، مسافر اور ٹرانسپورٹر بڑے شوق سے پیتے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق تھادل گرمیوں کے لیے بہت اچھا ریفریشمنٹ ہے اور نقصان دہ کولڈ ڈرنکس کے برعکس یہ صحت کے لیے بہتر ہے۔ مٹی کے کونڈے اور ڈنڈے سے بنائی جانے والی تھادل میں زیرا، الائچی، کالی مرچ، خشخاش، بادام، گلاب کی پتیاں و دیگر ٹھنڈک پہنچانے والی اشیاء ملائی جاتی ہیں۔اس مہنگائی کے دور میں مختلف مفید اشیاء سے بنایا گیا تھادل اب عام طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے

تھادل کی مقبولیت اور کثیر استعمال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کسی بھی لنک روڈ، بازاروں یا قومی شاہراہ پر سفر کے دوران ہر ایک کلو میٹر پر تھادل کے ٹھیلے نظر آتے ہیں جو لوگوں کو گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچانے کے علاوہ ایک روزگار کا ذریعہ بھی بنے ہوئے ہیں

لاڑکانہ میں ایسے ہی ایک اسٹال کے مالک نصیر بتاتے ہیں ”ہمارے گاؤں کے دیگر افراد اسی پیشے سے منسلک ہیں اور وہ گرمیوں کے دنوں میں اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے بیشتر علاقوں میں جا کر شاہراہوں پر یہ اسٹالز سجاتے ہیں، جہاں سفر کرتے ہوئے لوگ ان کے تیار کردہ مشروب سے لطف اندوز ہوتے ہیں“

تھادل کو تیار کرنے کے لیے صحت افزا اجزا استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں خسخاس، کالی مرچ، زیرہ، سونف، بادام، اور چار مغز سمیت مختلف جڑی بوٹیاں شامل ہیں

کچھ عرصہ قبل تک ان اجزا کو کوٹنے کا کام سل بٹے پر ہاتھوں سے کیا جاتا تھا ، لیکن سب تمام اجزا کو مشین سے منسلک ایک سراہی نما دیگ میں ڈال لیا جاتا ہے، جب مشین ان تمام اجزا کو پیستی ہے تو یہ دودھیہ رنگت کے پیسٹ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جسے پانی میں ڈال کر، ہلکے سے میٹھے شربت کی مٹھاس دے کر برف سے ٹھنڈا کر کے خریدار کو پیش کیا جاتا ہے

نصیر کے مطابق ایک اسٹال تقریباً چار سے پانچ ماہ کے دوران ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کی آمدنی کماتا ہے

اس کاروبار سے منسلک افراد سال کے دیگر مہینوں میں روزگار کے دیگر مواقع تلاش کرتے ہیں، تاہم موسم گرما آتے ہی وہ واپس اپنے اسٹالز والے علاقوں کا رخ کرتے ہیں

تھادل اسٹالز پر رک کر مشروب سے لطف اندوز ہونے والے چند افراد گاڑھی تھادل پینا پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے تھادل کے میزے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر تیار کردہ تھادل میں ڈبو کر برائے راست کسٹمر کے گلاس میں نچوڑا جاتا ہے، جس سے پانی میں تھادل کے میزے کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور گلاس گاڑھی تھادل سے بھر جاتا ہے

تھادل اسٹالز مالکان گاہکوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے تھادل کی تیاری میں شامل ہونے والے اجزا کی تصاویر پینافلیکسز پر سجا کر آویزاں کرتے ہیں، جن پر مختلف خوبصورت محاورے اور دلچسپ جملے بھی درج ہوتے ہیں

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہر گزرتے سال گرمی کی شدت میں تو اضافہ ہورہا ہے لیکن تھادل کے سالہا سال پرانے ذائقے میں شاید کسی تبدیلی کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ لوگ اسے ایسے ہی پسند کرتے ہیں جیسا کہ یہ سالوں سے تیار کیا جا رہا ہے۔

Tags:

SindhThadalTraditional Drinkتھادل
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان فٹبال: کیا کبھی بہتر دن بھی آئیں گے؟

Next

پاکستان کا نام کم عمر سپاہی بھرتی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme