Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

موسیو والیری، ہمارے پیشے میں خیال نایاب ہیں!

By Akhtar Rasool
اکتوبر 11, 2023 4 Min Read
0

کبھی کبھی کوئی شعر ایسا ہوتا ہے، جو پھڑکا کے ڈھیر کر دیتا ہے۔

شاعر کوئی بھی ہو سکتا ہے، ضروری نہیں کسی مشہور شاعر کا شعر ہی تڑپیلا ہو، بات کیفیت کی ہوتی ہے، کہانی فیلنگ کی ہوتی ہے اور کچھ یونیورسل محرومیوں کی ہوتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ شاعروں کا کیا ہے، بعض شاعر تو ایک شعر سے مشہور ہو جاتے ہیں۔ اس بات پر سخت تنقید بھی ہوتی ہے کہ فلاں نے ساری عمر میں ایک ہی شعر کہا۔ اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ آپ نے ساری عمر میں وہ ایک شعر بھی کہا؟

تو ایسا ہوتا ہے، دنیا ہے، ادھر یہی ہوگا۔ ایک شعر پڑھیے۔

مختصر یہ کہ خانماں برباد،
بستروں میں قیام کو ترسے!

اکرام عارفی کے اس شعر میں کیا نہیں ہے؟ گھر کی زندگی سے فرار، چھوٹے شہروں کے خانہ بدوش نوجوان جو ساری عمر ترقی کے چکر میں بڑے شہروں کے درمیان فاصلے کاٹتے پھرتے ہیں؛ ان کی بے بستری، نئے کپل جب پرانے ہوتے ہیں تو ان کی ہمہ گیر کیفیت، بے آرامی، بے سکونی، رہ بھی نہیں سکتے، کہہ بھی نہیں سکتے، نئی زندگی کی بھاگ دوڑ، ڈجیٹل قسم کا لاوارث پنا، اولڈ ہوم میں سونے والے بوڑھے، کم چھٹیوں کے ساتھ مختلف چوکیوں پر مسلسل جاگنے اور ڈیوٹی دینے والے پولیس کے لوگ۔۔۔ کون اس کے دائرے میں فٹ نہیں آتا؟

مختصر یہ کہ خانماں برباد، بستروں میں قیام کو ترسے۔۔۔ اب کوئی فٹ آ بھی رہا ہو، آپ سوچیں کہ یار فلانے کے بارے میں سو فیصد کہا جا سکتا ہے کہ یہ شعر اس کے لیے نہیں ہے، تو ایک بار جائیں اور اس فلانے کو یہ مصرع سنا دیں۔ اس کی شکل دیکھیں، بس پھر سکون سے لوٹ آئیں۔ جواب سننے ضروری نہیں ہوتے۔

اب کل ایسا ہوا کہ صرف ایک مصرع دیکھا، ”توڑ کر بانسری چرواہے کدھر جاتے ہیں“ نجمہ ثاقب ہیں، کیا مکمل پن ہے اور کیا تشنگی ہے۔۔

دماغ میں چکراتا رہا اکیلا مصرع، ردھم دیکھا بھالا تھا، پورا شعر ڈھونڈ کے پڑھا، مزہ آیا، لیکن وہی بات کہ جب ایک لائن پورا ماحول بنا چکی تو بندہ آس پاس کیا مزید ڈھونڈے اور کیوں؟

چرواہا فارغ ٹائم میں بانسری بجاتا ہے۔ اسے کسی کو سنانا نہیں ہے، جانور اپنا کام کر رہے ہیں، وہ کمر ٹکانے کو بیٹھا ہے، بور ہو رہا ہے، تھیلے سے خشک روٹی نکال کے کھائی ہے، بھرے پیٹ ٹائم پاس کرنے کو بانسری بجا رہا ہے۔ نہ کسی کو سنانی ہے، کسی کو پتہ بھی نہیں کہ فلاں جگہ ایک چرواہا ہے اور وہ بانسری بجا رہا ہے، تو وہ بھلے سے توڑ دے بانسری، چلا جائے کہیں، فرق کیا پڑتا ہے کسی کو؟

تو کوئی فنکار اپنا کام چھوڑ گیا، کوئی بددل ہو کے نکل گیا، کسی نے فیلڈ بدل لی، کوئی دنیا سے رخصت ہو گیا، کوئی منظر سے غائب ہو گیا۔۔۔ سو جگہ مصرع اپلائے ہوتا ہے۔ ایک کیفیت ایسی ہے جو اس اکیلے مصرعے میں بیان نہیں ہو سکتی، اس کے لیے پورا شعر دیکھ لیں۔

دھوپ، میدان، ہوا، گھاس سے کتراتے ہیں
توڑ کر بانسری، چرواہے کدھر جاتے ہیں؟

سمجھ آتی ہے؟ پہلے مصرعے سمیت پڑھیں تو ایسا بھی لگتا ہے کہ لاپتہ افراد کے لیے شعر کہا گیا ہوگا، ایک جبر کا احساس ہو سکتا ہے لیکن پہلے مصرعے کو بھی کیوں باندھنا ہے؟ ایک سطر، ایک لائن، ایک مصرع۔۔۔ خالی وہ کیسا مکمل ہے! توڑ کر بانسری، چرواہے کدھر جاتے ہیں!

اور ایک ثروت حسین تھا، اس نے کہا تھا؛
کیا بیس برس، کیا تیس برس،
اک شخص برابر آگ میں ہے!

تو بس بے شمار شعر ہیں، بے تحاشہ کہنے والے ہیں لیکن ان چند شعروں، مصرعوں کو چھوڑ کر، جو دماغ میں اٹک جاتے ہیں، حالات اس طرح ہیں کہ ایک چیکوسلواکین ڈائیلاگ یاد آتا ہے، لکھنے والا کون تھا، بھول گیا؛

’موسیو والیری! ہمارے پیشے میں خیالات اتنے نایاب ہیں
کہ اگر کسی شخص کو کوئی خیال مل جائے
تو یقیناً وہ اس کو بھولے گا نہیں
سال بھر بھی نہیں!‘

اللہ کا نام باقی رہ جانے والا ہے، کون کسے یاد رکھتا ہے، بس یہ قصہ سن لیں اور اجازت؛ نواب حکیم احمد ایک شاعر تھے، ندا فاضلی نے اپنی کتاب ’چہرے‘ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ کانوں سے انہیں ٹھیک سنائی نہیں دیتا تھا لیکن بات کرنے والوں کے ہونٹ ہلتے دیکھ کر وہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ لوگ سمجھتے کہ وہ بہرے ہیں اور جب وہ کہیں پڑھتے تو اس پر جو بھی تنقید ہوتی، انہی کے آس پاس اطمینان سے کر دیتے تھے۔ ان بے چارے نے ایک طویل عرصے لوگوں کی باتوں کو سنا، پرکھا اور پھر ایک مشاعرے میں ہمیشہ کے لیے شاعری ترک کر دینے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد کسی نے ان کے منہ سے شعر نہیں سنا۔ نواب حکیم احمد کا آخری شعر یہ تھا؛

شعر کہتا ہوں یا خدا جانے،
شعر کے فن کو خوار کرتا ہوں!

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

a course in miraclesalex ferrariconsciousnessgetting lost in the middle of americain the shadow of the undercroftleveling up in 2022lost in the usalouer tiny housemakeup videosmiss marple mysteriesmurders in the rue morguenyc walking toursorientation de carrièreprogressivesergio aragonesstories to fall asleep totransmission culturevalerie steelevideofashionwalking tours in new york citywho was the greatest writer of all time
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’اس وقت اسرائیلی قوم پرستی انتقام لینے کے درپے ہے‘

Next

”برطانوی فوجیوں نے سوئے ہوئے افغانوں کو قتل کیا“ لندن کی عدالت میں انکشاف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme