Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

مہذب مغربی دنیا!

By Akhtar Rasool
جولائی 22, 2021 4 Min Read
0

قارئین، ایمازون ایک امریکی آن لائن کاروباری کمپنی ہے۔ گذشتہ ہفتے اس کمپنی کی ’’ڈیلیوری گاڑی‘‘ بیچ چوراہے خراب ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس گزرتے امریکی جمع ہوئے۔ توقع تو یہ تھی کہ گاڑی کو دھکا لگا کے کنارے لگانے جمع ہو رہے ہیں، مگر منظر کچھ یوں دیکھنے کو ملا کہ جب لوگوں کو یقین ہوچکا کہ گاڑی واقعی خراب ہوچکی ہے، تو فوراً ہی اس پر ہلہ بول کر جس کو جو ہاتھ لگا، لے کر رفو چکر ہوگیا۔ یہ دن کا وقت تھا ارد گرد یقیناً پولیس بھی موجود ہوگی، مگر گاڑی خالی ہوئی اور ڈاکا ڈالنے والے آرام سے رفو چکر ہوئے۔

قارئین، ایک برطانوی جریدے نے سروے کیا ہے اور اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا ہے کہ دنیا بھر میں کون سا ملک کتنا قبل از کورونائی صورتِ حال میں داخل ہوچکا ہے؟ یعنی کس ملک نے کس طرح کورونا کو قابو کرکے قبل از کورونا والی صورت حال اختیار کرلی ہے؟

اس سروے میں ایک سے سو تک مختلف اشاروں (انڈیکیٹرز) کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب جو ملک جتنا 100 کے قریب ہوتا ہے، وہ اتنا ہی کورونا سے محفوظ یا قبل از کورونائی صورتِ حال میں داخل ہوچکا ہے۔ یعنی 100 یا اس کے قریب ممالک اُن ممالک سے بہتر ہیں جو پچاس سے کم ہیں۔
اس سروے میں مختلف ممالک کو نمبر دیے گئے ہیں، جس کے مطابق پاکستان کو 100 میں 84 نمبر ملے ہیں۔ ان نمبروں کے ساتھ پاکستان کا دنیا بھر میں تیسرا نمبر ہے۔ اس فہرست میں پہلے نمبر پر 96 نمبروں کے ساتھ ہانگ کانگ جب کہ 87 نمبروں کے ساتھ نیوزی لینڈ کا دوسرا نمبر ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا پڑوسی ملک بھارت، جہاں کے بھارتی قسم وائرس نے بھارت کو تباہ کرنے کے بعد اب باقی دنیا کا بھی رُخ کرلیا ہے، وہ خود اس فہرست میں 46 نمبروں کے ساتھ 48ویں نمبر پر موجود ہے، جب کہ چین کا انیسواں اور امریکہ کا بیسواں نمبر ہے۔

الغرض، عام فہم زبان میں پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے کامیابی کے ساتھ کورونا کو قابو کیا ہے۔ اس سفر میں بھارت، چین اور امریکہ سمیت سارے ممالک ماسوائے ہانگ کانگ اور نیوزی لینڈ کے پاکستان سے پیچھے ہیں، مگر باوجود اس کے نام نہاد مہذب دنیا کی منافقت ملاحظہ کیجیے کہ برطانیہ، چین، فرانس،جرمنی اور کئی دیگر ممالک نے تاحال پاکستان سے پروازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ حالاں کہ خود ان کے ممالک میں پاکستان سے زیادہ وبا پھیلی ہوئی ہے اور وہ قابو کرنے میں بھی ناکام ہیں۔
حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ مذکورہ ممالک نے بھارت کو اس پابندی سے استثنا دے دیا ہے۔ یعنی بھارت جہاں کی وبائی قسم بدترین مہلک بھی ہے، سے یورپ جانے پر پابندی نہیں لیکن پاکستان سے یورپ جانے پر پابندی ہے۔ یہ ہے نام نہاد مہذب دنیا کی اصلیت۔

قارئین، آپ سب کو معلوم ہوگا کہ گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان ’’ایف اے ٹی ایف‘‘ کی گرے لسٹ پر موجود ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا بھر کے ممبر ممالک میں’’فنانشنل ٹیررازم‘‘ یا مالی دہشت گردی سے متعلقہ معاملات پر نظر رکھتی ہے۔ یہ تنظیم اگر کسی ممبر ملک کو بلیک لسٹ میں ڈالتی ہے، تو وہاں عالمی اداروں کا تعاون اور سرمایہ کاری رُک جاتی ہے۔ اس تنظیم نے پاکستان کو کچھ اقدامات کرنے کا کہا، جس کی شرط پر اسے گرے لسٹ سے نکالا جائے گا۔ رپورٹوں کے مطابق پاکستان نے ان میں سے بیشتر معاملات درست کرلیے ہیں جس کو اس تنظیم کے سربراہوں نے بھی تسلیم کیا ہے، مگر پھر بھی پاکستان کو تاحال گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے، تاکہ سر پر تلوار لٹکتی رہے۔ برعکس اس کے بھارت میں ابھی ابھی یورینیم (ایک خطرناک کیمیائی مادہ جو ایٹم بم بنانے میں کام آتا ہے) کھلے عام برآمد ہوا۔ اس طرح پاکستان میں بھارت کا حاضرِ سروس جاسوس کل بھوش یادیو پکڑا گیا، اس نے اعتراف بھی کیا کہ کس طرح بلوچستان میں علاحدگی پسندوں کو اسلحہ اور پیسا دیا جاتا رہا، جو کہ مالی دہشت گردی کی بدترین قسم ہے، مگر بھارت ابھی تک ’’ایف اے ٹی ایف‘‘ کے شکنجہ سے آزاد ہے۔ کیوں کہ وہ امریکہ بہادر کا یار جو ہے، یا مسلمان ملک جو نہیں، یا یورپ اور امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے میں اسے تیار جو کر رہے ہیں یا پھر ہوسکتا ہے کہ کچھ اور وجوہات ہوں!
قارئین وجہ جو بھی ہو مگر مذکورہ بالا چند واقعات صرف مشتِ از نمونہ خروارے کے مصداق ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ مغربی ممالک اور امریکہ جن کو ہمارے ہاں مہذب تصور کیا جاتا ہے، اندر سے انتہائی غیر مہذب، متعصب تر اور تاریک تر ہیں۔

ایسے میں پاکستانی عوام اور مقتدر حلقوں کو سمجھنا ہوگا کہ عالمی دنیا کی دوغلی پالیسی کے ساتھ کیسے چلنا ہے!
بشکریہ لفظونہ

Tags:

CivilizationCivilizedWestern
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

عبیدﷲ سندھی، تاجِ برطانیہ اور مزاحمت (چوتھی/آخری قسط)

Next

یوٹیوب نے لائیواسٹریم شاپنگ کی آزمائش شروع کردی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme