Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

مہنگا پیٹرول: گاڑی کے ایندھن کی بچت کے طریقے۔۔ کیا حقیقت کیا افسانہ؟

By Akhtar Rasool
جون 13, 2022 4 Min Read
0

ملک میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور نئی حکومت کی جانب سے ساٹھ روپے فی لٹر اضافے کے بعد یہ قیمتیں ریکارڈ سطح پر موجود ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں حکومت قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ بھی دے چکی ہے

ایک ایسے وقت میں جب مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ایک عام آدمی کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے، یہ جاننا اہم ہے کہ موجودہ وسائل میں کس طرح پیٹرول کی کھپت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ خصوصاً ایسے افراد جن کے لیے گاڑی کا سفر لازم ہوتا ہے

یوں تو ایسے کئی طریقوں کا ذکر ہوتا ہے جو عام طور پر لوگ ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون سے طریقے کام کرتے ہیں اور کون سے طریقے محض افسانہ ہیں

نوے کی رفتار پر گاڑی چلانا

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر گاڑی کو نوے کی رفتار پر چلایا جائے تو ایندھن کم استعمال ہوتا ہے لیکن آر اے سی آٹو موٹیو گروپ کے مطابق گاڑی کی کوئی ایک مستقل رفتار نہیں جسے فیول کی بچت کے حوالے سے اہم قرار دیا جا سکے

ان کا کہنا ہے کہ نوے کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کا افسانہ پرانے ٹیسٹس سے شروع ہوا جن کے تحت ایندھن کی کھپت کا جائزہ لیا جاتا تھا اور وہ 90 کلومیٹر اور 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر کیے جاتے تھے

اس وقت نوے کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر چلائی جانے والی گاڑی فیول کی بہترین اوسط دیتی تھی، جس کے بعد یہ خیال عام ہوا کہ یہی رفتار ہونی چاہیے

آر اے سی گروپ کے مطابق ہر گاڑی مختلف ہوتی ہے اور اس کے حجم کے اعتبار کو دیکھتے ہوئے 70-80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار عام طور پر بہترین ایندھن کی اوسط دیتی ہے

اے سی بند کرنا

اگر کبھی شدید گرم موسم میں آپ نے گاڑی کا ایئر کنڈیشنر اس لیے استعمال نہیں کیا کہ اس سے پیٹرول کی بچت ہو گی تو آپ نے بالکل درست فیصلہ کیا

کیونکہ گاڑی کا ایئر کنڈیشنر چلانے کے لیے اضافی توانائی درکار ہوتی ہے اور اسے چلانے کے بعد گاڑی کا انجن تقریباً دس فیصد اضافی ایندھن استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے

اہم بات یہ ہے کہ ایئر کنڈیشنر کے استعمال سے جُڑی پیٹرول کی بچت نسبتاً کم فاصلے کے سفر میں زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے ایئر کنڈیشنر کو شروع میں زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے

ایسے میں گاڑی کے شیشے نیچے کرنا ایک بہتر حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن اس سے ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے جسے ’کریپنگ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس میں گاڑی کا انجن کھلے ہوئے شیشوں سے آنے والے ہوا کے دباؤ کی وجہ سے زیادہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے

ایسے میں گاڑی کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ لینا چاہیے کیونکہ آپ جتنی تیز رفتاری سے گاڑی چلائیں گے اتنا ہی ہوا کا دباؤ بڑھے گا

نیوٹرل گیئر میں گاڑی چلانا

نیوٹرل گیئر میں گاڑی چلانے یا پھر کلچ دبائے رکھنے کے عمل کو ’کوسٹنگ‘ کہتے ہیں

اے اے آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق یہ طریقہ بلکل مناسب نہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ غیر محفوظ ہے کیونکہ ہنگامی صورتحال پیدا ہونے پر آپ اچانک گاڑی کی رفتار نہیں بڑھا سکیں گے لیکن دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے فیول کی بچت نہیں ہوتی

اے اے آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق زیادہ تر گاڑیوں میں الیکٹرک کنٹرول موجود ہوتا ہے، جو فیول کی سپلائی اس وقت بند کر دیتا ہے جب گاڑی کے ایکسلریٹر سے پاؤں ہٹتا ہے۔ اسی لیے کوسٹنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا

کروز کنٹرول

کروز کنٹرول کی سہولت چند مخصوص گاڑیوں میں موجود ہوتی ہے، جو ایکسلریٹر دبائے بغیر ہی گاڑی کو ایک مستقل رفتار پر چلانے میں مدد دیتی ہے

یہ فیول کی بچت کا ایک بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس سے غیر ضروری رفتار میں اضافہ اور اچانک بریک کا امکان کم ہو جاتا ہے

لیکن یہ صرف اسی صورت میں مفید ہے جب آپ کسی ہموار ہائی وے پر سفر کر رہے ہوں کیونکہ اگر آپ کسی پہاڑی علاقے میں سفر کر رہے ہیں تو کروز کنٹرول کو چڑھائی کے مطابق ایڈجسٹ ہونے میں زیادہ وقت اور فیول درکار ہوگا

عام طور پر جب بھی کسی پہاڑے راستے میں گاڑی ڈھلوان کی جانب سفر کرتی ہے تو ہم ایکسلریٹر سے پاؤں ہٹا لیتے ہیں لیکن کروز کنٹرول تو یہ نہیں جانتا کہ آگے کیا ہے، اس لیے یہ زیادہ وقت لیتا ہے اور گاڑی میں فیول کی کھپت بھی زیادہ ہوتی ہے

ٹائر پریشر

اگر آپ کی گاڑی کے ٹائر میں ہوا کم ہے تو یہ زیادہ پیٹرول استعمال کرے گی۔ اس لیے باقاعدگی سے گاڑی کے ٹائر کی ہوا چیک کرتے رہنا چاہیے خصوصاً لمبے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے

آپ کی گاڑی کے ٹائر کے لیے ہوا کا کتنا دباؤ بہترین ہے؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو اپنی گاڑی کے ساتھ ملنے والا کتابچہ ضرور دیکھ لینا چاہیے لیکن اگر آپ کی گاڑی میں سامان اور مسافروں کی تعداد زیادہ ہے تو پھر اس دباؤ کو اسی حساب سے بڑھا لیں

لیکن یہ یاد رکھیں کہ گاڑی میں جتنا زیادہ وزن ہوگا، یہ اتنا ہی زیادہ ایندھن استعمال کرے گی۔

Tags:

Expensive petrolsave car fuel
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ٹیکس اور قرضوں کا شیطانی چکر، عام پاکستانی کی بدحالی اور اشرافیہ کی عیاشیاں

Next

لطیفے ہمیشہ بیویوں کے ہی کیوں بنتے ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme