Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

amar-jalil-article-women-day
کالماہم ترینتازہ ترین

میری خالہ کا عالمی دن

By Akhtar Rasool
مارچ 29, 2024 5 Min Read
0

مجھے نہیں معلوم کہ ایک سال میں ایک دن کوئی ایسا گزرا ہو، جس دن اقوام متحدہ نے کسی حیلے بہانے سے بین الاقوامی دن منانے میں کوتاہی کی ہو۔ بتانے والوں نے مجھے بتایا ہے کہ ایک سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں اقوام متحدہ کا ادارہ لگ بھگ سات سو دن بین الاقوامی دنوں کے طور پر مناتا ہے۔ آپ نے ایک سال کے دن کبھی گننے کی کوشش کی ہے؟ میں نے کبھی یہ جان لیوا کوشش نہیں کی ہے۔ ہمارے ایک انقلابی دوست نے یہ کارنامہ کرکے دکھایا ہے۔ انقلاب کی ڈینگیں مارتے مارتے وہ جیل جا پہنچا، چونکہ جیل میں بھی وہ انقلاب کی ڈینگیں مارنے سے باز نہیں آتا تھا، اس لیے جیل حکام نے اسے سب قیدیوں سے الگ تھلگ کر کے رکھا تھا۔

غسل خانے جتنی کوٹھڑی میں اسے بند کر دیا گیا تھا۔ تب اس نے دن گننے، جیسے مشغلے سے دل لگا لیا۔ صبح نیند سے اٹھتا، سب سے پہلے ایک دیوار پر چھوٹی سی لکیر لگا دیتا۔ اس کا مقدمہ اس قدر پیچیدہ تھا کہ سب سے پہلے بیوی نے طلاق کے بعد علیحدگی اختیار کرلی۔ کچھ عرصہ بعد مطلقہ بیوی نے ایک گنجے ایم این اے سے شادی رچالی اور گنجے ایم این اے نے اس کو بھی ایم این اے بنوا دیا۔ ایسے کارنامے گنجے ایم این اے کے لیے دائیں ہاتھ کا کھیل تھے۔ اس نے اپنا کنبہ اسمبلی میں بٹھا دیا تھا۔ اس کے مامے، چاچے، بہنوئی، بھتیجے، نندیں، بھاوجیں، ماسیاں اسمبلی کی ممبر تھیں۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے روزانہ بھاری بھر کم کنبوں کے ہر فرد کا کوئی نہ کوئی دن منایا جاتا ہے۔ ساس کا دن، سسر کا دن، نند کا دن، بھاوج کا دن، سالے کا دن، سالی کا دن، خاص طور پر وہ سالیاں جو دولہا میاں کے جوتے چراتی ہیں اور منہ پر ہاتھ رکھ کر کھل کھلاتی رہتی ہیں۔

مجھے کسی نے بتایا ہے کہ بیس فروری کا دن اقوامِ متحدہ نے چڑیوں کے نام کیا ہوا تھا۔ یعنی بیس فروری کے روز اقوامِ متحدہ نے اور اقوامِ متحدہ کے ممبر ممالک نے چڑیاؤں کے حوالے سے بین الاقوامی دن کے طور پر منایا تھا۔ چڑیاؤں کا عالمی دن دیگر ممالک کے لوگوں کو کیسا لگا تھا، میں نہیں جانتا، مگر چڑیاؤں کا عالمی دن منانا مجھے بہت اچھا لگا تھا۔

چڑیائیں درخت، خاص طور پر نیم کے درختوں پر بسیرا کرتی ہیں۔ درختوں پر اپنا آشیاں یعنی گھونسلا بناتی ہیں۔ شام ہوتے ہوتے چڑیائیں اپنے اپنے آشیانوں یعنی گھونسلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں۔ لوٹ آنے کے بعد چڑیائیں خاموش نہیں رہتیں، چہچہاتی رہتی ہیں۔ جب تک آپ سنتے نہیں، تب تک آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ہزاروں کی تعداد میں جب چڑیائیں مل کر چہچہاتی ہیں، تب آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔

کراچی کی فٹ پاتھوں پر لگے ہوئے قطار در قطار نیم، برگد اور پیپل اور بادام کے پیڑ آپ نے دیکھے ہی کب تھے۔ درختوں کے نیچے رکھے ہوئے بینچوں پر آپ بیٹھے ہی کب تھے۔ ان بینچوں کے حوالے سے یادوں کے انبار کراچی میں بکھر گئے ہیں۔۔ اب نہ ہیں فٹ پاتھ، نہ ہیں قطار در قطار، نیم، برگد اور پیپل کے گھنے پیڑ اور نہ ہیں درختوں کے سایے تلے رکھے ہوئے خوب صورت بینچ۔۔۔ یہ چیزیں انگریز اپنے ساتھ سمیٹ کر لے نہیں گئے تھے، سب کچھ یہیں چھوڑ گئے تھے۔

یہ تو اچھا ہی ہوا کہ اقوامِ متحدہ نے بیس فروری کا دن چڑیاؤں کے نام وقف کر دیا، ورنہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ شامیں کیوں اس قدر اداس ہوتی جا رہی ہیں۔ درختوں کو کٹتے ہوئے اور بینچوں کو غائب ہوتے ہوئے ہم نے جوانی میں دیکھ لیا تھا۔ تب پتا نہیں چلتا تھا کہ ہم کیا کھو رہے تھے۔ ہم اندر سے خالی ہوتے جا رہے تھے مگر بے خبر تھے۔ خدا بھلا کرے اقوامِ متحدہ کا، وہ اگر بیس فروری کا دن چڑیوں کے نام وقف نہ کرتی تو شاید ہم زندگی بھر اپنے وجود کے کھوکھلے پن سے انجان رہتے اور اپنے وجود کی ٹوٹ پھوٹ کا الزام غیر مانوس دشمن کو دیتے۔ کسی سیانے سے سنا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن ہمارے وجود میں رہتا ہے اور ہم اپنے اندر پنپنے والے دشمن کو خوب کھلاتے پلاتے ہیں اور اسے سانڈ بنا دیتے ہیں۔

پچھلے دنوں اقوامِ متحدہ نے عورتوں کا عالمی دن منایا تھا، یعنی خواتین کا عالمی دن منایا تھا۔ مجھے تعجب ہوا۔ میں نے سوچا تھا کہ اقوامِ متحدہ والے آئے دن کسی نہ کسی کا عالمی دن مناتے ہیں، حتیٰ کہ ایروں، غیروں کا دن بھی مناتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ والے میری خالہ کا دن کیوں نہیں مناتے۔ ویسے تو میری چار عدد خالائیں ہیں، مگر میں جس خالہ کی بات کر رہا ہوں، اس خالہ نے مجھے ماں بن کر پالا پوسا ہے۔ ہوا کچھ اس طرح تھا کہ جنم دینے کے فوراً بعد جب میری ماں نے مجھے دیکھا تھا، تب مجھے دیکھتے ہی میری ماں صدمہ سے مر گئی تھی، سب نے میری مری ہوئی ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔ ’’شمشاد یہ تیرا بیٹا ہے۔ کسی بن مانس کا بچہ نہیں ہے۔ یقین کر، آنکھیں کھول، مرنا نہیں، اگر تو مر گئی تو اس بے چارے معصوم کا کیا بنے گا۔ تیرا میاں ایک ساتھ چار شادیاں رچانے پر تلا بیٹھا ہے۔ دیکھ تو مرنا نہیں، چار سوتیلی ماؤں کے درمیان تیرا بیٹا برباد ہوجائے گا۔“

میری ماں ان کی باتیں نہیں سن رہی تھی۔ میری ماں مر گئی تھی۔ خالہ دلشاد نے پہل کی۔ آگے بڑھ کر انہوں نے مجھے گود میں اٹھا لیا اور پھر مجھے گود لے لیا۔ ان کی گود لمبے عرصہ سے خالی تھی۔ میں نے ایک دانشور سے پوچھا۔ ’’یہ اقوامِ متحدہ والے کبھی خالہ کا دن کیوں نہیں مناتے؟‘‘

دانشور نے کہا، ’’آج ہی تو وہ خالاؤں کا دن منا رہے ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’آج تو وہ خواتین کا عالمی دن منا رہے ہیں۔‘‘ دانشور نے مسکراتے ہوئے پوچھا، ’’تیری خالہ عورت نہیں ہے کیا؟‘‘

تب مجھے پتہ چلا کہ جب بھی عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، وہ دن بلا واسطہ ساس، نند، بھاوج، جیٹھانی، چاچی، مامی اور خالہ کا دن ہوتا ہے۔ عورتوں کا دن دراصل میری خالہ کا دن تھا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

#amar#amar jalel#amar jalel css#amar jalel j afsanan mai sindhi samaj#amar jalel ju kahanyu#amar jalel pcs#amarjalil#tributetoamarjalilamajalilamar jaleelamar jaleel 2020amar jaleel articlesamar jaleel interviewamar jaleel poetamar jaleel videoAmar Jalilamar jalil 2018amar jalil class roomamar jalil classroomamar jalil columnamar jalil columnist novelist short story writeramar jalil ekta dayamar jalil ka khuda or hamara khudaamar jalil newamar jalil quotes in urduamar jalil short storyamar jalil speaks about his personal lifeamar jalil writer of sindhi urdu and english languages.amar zalilamarjaleelarticle 295cdanpatra dolil batil mamladhakar pola ananta jalil originalfans of amar jalilqamar bajwa heckled
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
A-man-who-never-left-his-hometown-who-created-an-astonishingly-accurate-map-of-the-world
Previous

اپنے شہر سے کبھی باہر نہ نکلنے والا ایک شخص، جس نے 15ویں صدی میں حیران کن طور پر دنیا کا درست نقشہ بنایا

Raja-Noor-Muhammad-Nizami-of-Bhuigad-taxila
Next

بھوئی گاڑ، ٹیکسلا کا راجا نور محمد نظامی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme