Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

نئی تحقیق میں انسانی خون میں پلاسٹک کی موجودگی کی تصدیق

By Akhtar Rasool
مارچ 25, 2022 4 Min Read
0

ایمسٹرڈیم – سائنسی جریدے ’اینوارمنٹ انٹرنیشنل‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی خون میں پلاسٹک کی موجودگی کا پتہ لگانے والی دنیا کی پہلی تحقیق کے دوران ٹیسٹ کیے گئے افراد میں سے 77 فیصد میں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے ہیں

عام طور پر مشروبات کی بوتلوں، کھانے کی پیکنگ اور کپڑوں میں استعمال ہونے والی پی ای ٹی پلاسٹک انسانی خون میں سب سے غالب مقدار میں پائی گئی

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے ذرات کھانے پینے کے ساتھ ساتھ ہوا کے ذریعے بھی انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں

نیدرلینڈز کی ورجے یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم میں ایکو ٹوکسکولوجی اور پانی کے معیار اور صحت کے پروفیسر ڈک ویتھاک نے بتایا کہ یہ نتائج ’یقینی طور پر تشویشناک ہیں کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ بظاہر اس قدر پلاسٹک کھا یا سانس لیتے ہوئے جسم میں داخل کر رہے ہیں کہ خون میں پایا جانا شروع ہوگیا ہے‘

پلاسٹک کی خون میں موجودگی کے نقصان کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا: ’اس طرح کے ذرات دائمی سوزش کا سبب بن سکتے ہیں‘

اس تحقیق کے دوران ٹیم نے بائیس افراد کے خون کو نمونوں کا پانچ قسم کے پلاسٹک کی موجودگی کے لیے تجربہ کیا۔ پلاسٹک کی ان اقسام میں پولی متھائل میتھا کریلیٹ (PMMA)، پولی پروپیلین (PP)، پولی سٹیرین (PS)، پولی تھیلین (PE) اور پولی تھیلین ٹیریفتھلیٹ (PET) شامل تھی

نتائج سے پتہ چلا کہ بائیس میں سے سترہ ڈونرز کے خون میں قابل تعین مقدار میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے

پولی تھیلین ٹیریفتھلیٹ (PET) کے بعد پولی سٹیرین (PS)، جس کا استعمال گھریلو مصنوعات کی بہت زیادہ اقسام بنانے کے لیے کیا جاتا ہے، خون کے ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں سب سے زیادہ مقدار میں پایا جانے والا پلاسٹک تھا

خون میں پایا جانے والا تیسرا سب سے زیادہ پلاسٹک پولی تھیلین تھا۔ یہ ایک ایسا مواد ہے، جو باقاعدگی سے پلاسٹک کیریئر بیگز کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے

سائنسدانوں نے کہا کہ خون کے ایک نمونے میں پلاسٹک کی تین مختلف اقسام کی پیمائش کی گئی

ٹیسٹ میں شامل 50 فیصد کے خون میں پی ای ٹی پایا گیا جب کہ پولی سٹیرین 36 فیصد افراد میں موجود تھا

پروفیسر ویتھاک نے کہا: ’اس تحقیق سے پتہ چلا کہ ٹیسٹ کیے گئے دس میں سے تقریباً آٹھ لوگوں کے خون میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے لیکن اس سے ہمیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی کی محفوظ یا غیر محفوظ سطح کیا ہے۔‘

ان کے بقول: ’یہ سطح کتنی زیادہ ہے؟ ہمیں فوری طور پر مزید تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس بارے میں جان سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’جیسا کہ پلاسٹک کے ذرات سے ہمارا سامنا ہونے میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمیں یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ یہ ہمارے جسم کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔‘

پروفیسر ویتھاک نے کہا کہ انہوں نے ان تحقیقی منصوبوں کے نتائج دیکھ کر اپنے پلاسٹک کے استعمال کو کم کیا ہے

انہوں نے کو بتایا: ’جتنا ہو سکے میرا خاندان سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال سے گریز کرنے کی کوشش کرتا ہے خاص طور پر ایسے پلاسٹ جن میں کھانا یا مشروبات پیک کیے گئے ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’گھر کو اچھی طرح سے ہوادار رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ مائیکرو پلاسٹک کی تعداد باہر کے مقابلے گھر کے اندر زیادہ پائی جاتی ہے۔ میں پلاسٹک کے ذرات کے جمع ہونے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اپنے کھانے اور مشروبات کو بھی ڈھانپ کر رکھتا ہوں۔ پلاسٹک کے ذرات کا کم سے کم سامنا کرنے کے لیے آپ مزید کئی کام کر سکتے ہیں۔‘

یہ مطالعہ کامن سیز (Common Seas) کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔ کامن سیز ایک پریشر گروپ ہے، جو دنیا کے سمندروں میں پلاسٹک کے فضلے کی بہت زیادہ مقدار کو ختم کرنے کی مہم چلا رہا ہے

تنظیم کے چیف ایگزیکٹو جو روئل نے کہا: ’یہ نتائج انتہائی تشویشناک ہیں۔ ہم پہلے ہی پلاسٹک میں کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں اور سانس لے رہے ہیں۔ یہ (پلاسٹک) سمندر کی سب سے گہری جگہوں اور ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر بھی موجود ہے۔ اور اس سب کے باوجود پلاسٹک کی پیداوار 2040ع تک دوگنی ہو جائے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ سارا پلاسٹک ہمارے جسم کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ اسی لیے ہم دنیا بھر کے کاروبار، حکومت اور مخیر حضرات سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ’نیشنل پلاسٹک ہیلتھ امپیکٹ ریسرچ فنڈ‘ کے ذریعے پلاسٹک کے صحت پر اثرات کے بارے میں ہماری معلومات کو واضح کرنے اور اس کی فوری اور مزید تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کریں۔‘

Tags:

Bio-plasticPlasticPlastic particle in blood
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مصنوعی جھیل ہالیجی کی بحالی کیوں ضروری ہے؟

Next

چینیوں کے گرم پانی پینے کے پیچھے کیا راز ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme