Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

نظر نہ آنے والا ٹِڈّی دَل

By Akhtar Rasool
اکتوبر 8, 2021 4 Min Read
0

آپ نے کبھی ٹڈی دل دیکھا ہے.. کچھ تو چھوٹے موٹے دَل ہوتے ہیں، آکر گزر جاتے ہیں، لیکن کبھی کبھی کالی گھنگھور گھٹاؤں جیسے دَل بھی ہوتے ہیں کہ وہ آجائیں تو سورج کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے اور جب وہ گزرجائیں تو پتہ چلتا ہے کہ جاتے جاتے کھڑی فصلیں چٹ کر گئے۔ سبزے پر ایسا ٹوٹے کہ ایک ذر ا سی پتّی بھی نہ چھوڑی۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ میں کیسا موضوع لے بیٹھا ۔ وقت بدل رہا ہے۔ ادھر ایک نئی اصطلا ح چلی ہے ’راکٹ سائنس‘۔

اسی طر ح ایک اور اصطلاح وجود میں آنے کو ہے: ٹڈی دَل سائنس۔ یہ ایسا ٹڈی دَل ہے جو ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ عام طور پر یہ مخلوق کہ ٹڈّی کہیں جسے، گرم، خشک یا قدرے مرطوب مقامات پر پیدا ہوتی ہے.

اس کی مادہ ایک خوش حال ٹھکانا تلاش کرکے لاکھوں انڈے دے کر اگلی چراگاہوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ یہاں یہ نئی نسل یوں پیدا ہوتی ہے، جیسے زمین سے کوئی چشمہ پھوٹ رہا ہو۔ بس صورت یہ ہوتی ہے کہ ٹڈی کے بچے ابل رہے ہوتے ہیں۔

یعنی اگلی نسل اڑان بھرنے کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ دانش مندی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس نئی نسل کو زہریلا اسپرے کرکے یا کسی طرح کچل کر وہیں ہلاک کر دیا جائے، ورنہ یہ اولاد صرف دو ہفتوں میں بالغ ہوکر نئے انڈے دینے کے قابل ہو جاتی ہے۔

میں نے فلموں میں دیکھا ہے، لوگ اونچے بوٹ پہن کر انڈوں یا نئے بچوں کو پیروں سے کچل کچل کر تلف کرتے ہیں۔ مگر یہ انڈے بچے ان گنت ہوتے ہیں اور ان کا مکمل صفایا کرنا قریب قریب نا ممکن ہوتا ہے۔

کوئی مشکل سے یقین کرے گا کہ نیا ٹڈی دَل سینکڑوں میل کے سفر پر روانہ ہوتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ سر سبز چارہ کس طرف اور کہاں ملے گا۔

بس یہ ہریالی کی طرف چل پڑتا ہے اور وہاں پہنچ کر جہاں غریب محنت کش نے خون پسینہ ایک کرکے تازہ فصل اگائی ہے، یہ چاقو سے زیادہ تیز دانتوں سے ایک ایک شاخ، ایک ایک ٹہنی اور ایک ایک پتّی کو آناً فاناً کتر کر ہڑپ کرجاتا ہے اور اپنی اس کمائی کو توانائی میں تبدیل کرکے اگلے پڑاؤ کی طرف چل پڑتا ہے اور اپنے پیچھے ایسی تباہی اور ویرانی چھوڑ جاتا ہے کہ غریب کسان اور اس کے بیوی بچے دو وقت کی روٹی تک سے محروم ہوجاتے ہیں۔

سائنس داں حیران تھے کہ یہ ٹڈّی جیسی مخلوق دور دور کے علاقوں تک اڑنے کے لئے اتنی توانائی کہاں سے اور کیسے لاتی ہے؟ پتہ چلا کہ اس کے بدن میں ایک خانہ ایسا ہوتا ہے جس میں یہ توانائی کا ذخیرہ کر لیتی ہے اور لمبے سفر کے دوران حسب ِضرورت اس ذخیرے سے توانائی لیتی جاتی ہے۔

یہاں تک کہ نئی چراگاہ تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر ہریالی پر ہاتھ صاف کرتی ہے اور توانائی کا نیا ذخیرہ بٹورنے لگتی ہے۔ اپنے پیچھے تباہی چھوڑنے والی اس مخلوق کو زمانے نے عذاب کا نام دیا ہے۔ انجیل مقدس میں ٹڈی کے ہاتھوں تباہی پھیلنے کا ذکر ملتا ہے۔

تاریخ میں بارہا ایسے ٹڈی دَل نمودار ہوئے ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب آئے ، کدھر سے آئے اور کتنا چارہ ہڑپ کر گئے اور اپنے پیچھے کتنی تباہی چھوڑ گئے۔ وہ راہ میں بٹوری گئی توانائی کو کیسے چھپاتے، کہاں ذخیرہ کرتے ہیں، اس پر کیسے پردہ ڈالتے ہیں۔

کیا کسی دوسری مخلوق کے گھونسلے میں ڈال آتے ہیں، جیسے بعض پرندے دوسرے پرندوں کے گھونسلے میں انڈے دے جاتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ اس ٹڈی دل سائنس کو سمجھنے میں ہمیں آج تک دِقّت ہورہی ہے۔ سینکڑوں ملکوں کے ہزاروں کھوجی ان گنت فائلوں کو کھنگال چکے ہیں۔ یہی نہیں.. بارہا معاملے کی تہہ کو پہنچ چکے ہیں، لیکن ہماری یہ ٹڈّی صفائی سے بچ نکلتی ہے۔ اس پر لاکھ الزام دھریے، لاکھ جرم پر سے پردہ اٹھائیے، یہ دندناتی پھرتی ہے۔ کون سا ہاتھ ہے جو اسے بچالیتا ہے۔

یہ نڈر ہوکر نئے بچے نکالتی رہتی ہے، جن پر نہ زہریلا اسپرے اثر کرتا ہے نہ اونچے بوٹوں سے کچلنے کی تدبیر کام کرتی ہے۔ یہ کچلے جائیں تو ان کی آل اولاد اگلی چراگاہ کے لئے اپنے دانت تیز کرنے لگتی ہے.. غرض یہ کہ یہ سلسلہ کہیں رکنے کا نام نہیں لیتا۔

مجھے رہ رہ کر ان غریب اور لاچار محنت کشوں کا خیال آتا ہے، جو خون پسینہ ایک کرکے اپنی فصلیں اگاتے ہیں اور دن رات ایک کرکے انہیں پروان چڑھاتے ہیں، کہ اس ٹڈی دَل کا جیسے ہی داؤ لگتا ہے، یہ اپنے چاقو جسے دانتوں کو تیز کرتا ہوا اس صفائی سے اپنا کام کر گزرتا ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔

ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ ٹڈیاں کھڑی فصل پر دھاوا بول رہی ہیں اور کسان اور اس کے بیوی بچے اونچی آواز والے بھونپو بجا کر، دھواں چھوڑ کر اور ہوا میں خالی بوریاں لہرا لہرا کر ہوس کی ماری ہوئی ٹڈی کو اڑانے کی کوشش کر رہے ہیں.. مگر قدرت کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہوتا وہی ہے جو ٹڈی چاہتی ہے۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہوتی ہے۔

سب جانتے ہیں، سب کوخبر ہوتی ہے کہ غریب کی کمائی پر کس نے اپنے ہاتھ صاف کئے۔

کس کی آنکھ بچی اور کس کا داؤ لگا۔ مگر وہ اتنی معصوم اور ایسی بھولی شکل بنائے گھوم رہی ہوتی ہے کہ ایک بار تو خود ٹڈی کو شرم آجائے اور وہ ندامت سے سر ڈال دے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Tags:

Pandora Papers
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

تیونس میں ٹی وی اینکر کی گرفتاری کا سبب بننے والی نظم کا ترجمہ

Next

اکیسویں صدی کے جنگی ہتھیار

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme