Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

نیوزی لینڈ: گائے کے ڈکار پر ٹیکس کے خلاف ملک گیر مظاہرے

By Akhtar Rasool
اکتوبر 20, 2022 3 Min Read
0

نیوزی لینڈ کی حکومت کی جانب سے گائے کے ڈکار پر ٹیکس عائد کیے جانے کے منصوبے کے خلاف کسانوں نے جمعرات کو ملک گیر مظاہرے کیے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن ماحولیات کو بہتر بنانے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے یہ ٹیکس نافذ کرنا چاہتی ہیں

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز ہزاروں کسان ٹریکٹروں، کھیتی باڑی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور دیگر موٹرکاروں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے، جس کی وجہ سے ولنگٹن، آکلینڈ اور ملک کے دیگر اہم شہروں میں ٹریفک جام ہوگیا۔ یہ لوگ زرعی جانورں کے ڈکار اور پیشاب پر حکومت کی جانب سے ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں

اس ماہ کے اوائل میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے گایوں اور بھیڑوں کے ڈکار اور پیشاب کے ذریعہ خارج ہونے والے میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ گیسوں پر ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا

اگر ایسا ہو گیا تو نیوزی لینڈ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس طرح کا ٹیکس نافذ کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہوگا

اعداد و شمار کے مطابق تقریباً پچاس لاکھ کی آبادی والے نیوزی لینڈ میں لگ بھگ ساٹھ لاکھ گائیں اور دو کروڑ ساٹھ لاکھ بھیڑیں ہیں ہے

سڑکوں پر احتجاجی مظاہرہ کرنے والے ہزاروں کسانوں نے تختیاں اٹھا رکھی تھیں، جن میں حکومت کی پالیسی کو "بدبودار” کہا گیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے ٹیکس نافذ کرنے سے خوراک مہنگی ہوجائے گی اور مویشیوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی

ولنگٹن میں مظاہرے میں شامل کرس نامی ایک شخص کا کہنا تھا، ”زراعت کرنا یوں بھی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے، یہ حکومت ہماری مدد نہیں کر رہی ہے، یہ واقعی ایک بہت مشکل وقت ہے“

دوسری جانب جیسنڈا آرڈرن کی دلیل یہ ہے کہ گایوں اور بھیڑوں کے ڈکار اور پیشاب سے میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے

گوکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں میتھین کم مقدار میں پائی جاتی ہے اور یہ فضا میں زیادہ دیر تک موجود بھی نہیں رہ پاتی تاہم یہ ماحولیات میں درجہ حرارت بڑھانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے لیے میتھین گیس تقریباً 30 فی صد ذمہ دار ہے

جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے یہ ٹیکس ضروری ہے اور یہ کسانوں کے لیے بھی سود مند ہوگا کیونکہ وہ ماحول دوست گوشت کو زیادہ مہنگے داموں میں فروخت کر سکتے ہیں

تاہم انہوں نے اس مسئلے پر ممکنہ مصالحت کی خواہش کا اشارہ بھی دیا

جیسنڈا آرڈرن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ”ہم کسانوں اور اناج اگانے والوں سے بات کر رہے ہیں تاکہ کوئی ممکنہ بہترین راستہ نکل سکے“

ادہر مظاہرین کے منتظمین میں سے ایک برائن میک کینزی کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکس ایک طرح سے ’سزا‘ ہے اور یہ دیہی کمیونٹی کے وجود کے لیے خطرہ کے مترادف ہے

میک کینزی کا کہنا تھا ”حکومت کہتی ہے کہ اس ٹیکس سے مویشیوں سے گیسوں کے اخراج میں بیس فی صد تک کمی آجائے گی لیکن اس کی جگہ کم اہل غیر ملکی کسان لے لیں گے“

شہری علاقوں کے رہائشی بھی کسانوں کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں۔ جنوبی شہر ڈیونیڈن میں لگائے گئے ایک بینر پر لکھا تھا: ”زرعی ٹیکس سے ہم سب متاثر ہوں گے“

Tags:

cow burp taxNationwide protestsNew Zealand
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مستونگ اور خاران آپریشنز میں مارے جانے والے چار نوجوان عسکریت پسند تھے یا لاپتہ افراد؟

Next

کراچی: ”وارداتوں کے لیے کرائے پر اسلحہ دستیاب ہے!“

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme