Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

نیویارک میں چینی پولیس اسٹیشن! آخر معاملہ کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
نومبر 21, 2022 4 Min Read
0

ایف بی آئی امریکی شہر نیو یارک میں ایک مبینہ غیر قانونی پولیس اسٹیشن کی موجودگی کی چھان بین کر رہا ہے، جسے چین کے زیرِ انتظام اس نیٹ ورک کا حصہ مانا جاتا ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں اس کے یہ اسٹیشن چل رہے ہیں

اس بات کا دعویٰ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے ڈائریکٹر کرسٹو فر رے نے جمعرات کے روز کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ میں اس نوعیت کے قانون نافذ کرنے کی بیجنگ کی یہ کارروائی روک دی جائے گی

سینیٹ میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ایک سماعت کے دوران رے نے کہا ”ایف بی آئی ان اسٹیشنز کی موجودگی سے آگاہ ہے“

ان کا کہنا تھا ”چھان بین کی اس مخصوص کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں احتیاط سے کام لوں گا لیکن میرے نزدیک یہ سوچنا بھی سخت برہمی کا باعث ہے کہ چینی پولیس، مثال کے طور پر، کسی باقاعدہ رابطے کے بغیر، نیویارک میں اپنی ’شاپ‘ کھولنے کی کوشش کرے“

رے نے کہا ”چین کی یہ کارروائی،اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی ہے اور قانون نافذ کرنے کے لیے باہم تعاون کے روایتی طریقۂ کار کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔“

واضح رہے کہ ستمبر میں اسپین میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’سیف گارڈ ڈیفینڈرز‘ نے بھی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ”چین نے دنیا بھر میں کم از کم 54 پولیس اسٹیشن قائم کر رکھے ہیں، جن میں سے ایک نیویارک میں اور تین ٹورانٹو میں ہیں۔“

گروپ کا کہنا تھا کہ اس کی یہ فہرست باضابطہ بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، تاہم اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان پولیس اسٹیشنز کو بیرونِ ملک چین سے متعلق غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ذمے داری سونپی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ چین کی ملک سے باہر جبر کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے دہرائے جانے کو بھی ظاہر کرتے ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی سرحدوں سے باہر بھی سیاسی نظریات کی نگرانی اور ان پر روک لگانے کی کوشش کرتا ہے

ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے اس بارے میں تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا

واضح رہے کہ اس حوالے سے چینی عہدیدار بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہ پولیس سروس اسٹیشنز چینی شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید اور معمول کے ان دیگر امور میں مدد دیتے ہیں، جو عام طور پر ایک سفارت خانے یا قونصل خانے کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں

گزشتہ ماہ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماؤننگ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ انہوں نے کہا ”چین میں سیکیورٹی کے حکام بین الاقوامی قانون کی سختی سے پابندی کرتے ہیں اور دیگر ملکوں کے قانونی اقتدار اعلیٰ کا مکمل احترام کرتے ہیں“

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چین کے بیشتر بیرونِ ملک پولیس اسٹیشن یورپ میں پائے گئے ہیں اور ایف بی آئی واحد ادارہ نہیں ہے، جو ان کے بارے میں چھان بین کر رہا ہے

’سیف گارڈ ڈیفینڈرز‘ نامی گروپ کی رپورٹ سامنے آنے کے دو ماہ بعد برطانیہ، کینیڈا اور جرمنی سمیت کم از کم چودہ ملکوں کی حکومتوں نے ان پولیس اسسٹیشنوں کے بارے میں چھان بین شروع کر دی ہے

رے نے کہنا تھا ”ایف بی آئی قانون نافذ کرنے والے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ چینی پولیس اسٹیشنز کے بارے میں بات چیت کر رہا ہے کیونکہ امریکہ واحد ملک نہیں ہے، جہاں ایسا ہوا ہے“

اگرچہ ایف بی آئی نے اس سے پہلے چینی پولیس اسٹیشن کی نیویارک میں موجودگی کی تصدیق نہیں کی تھی، تاہم بیورو کو کافی عرصے سے علم تھا کہ چین کے قانون نافذ کرنے والے، امریکی سرزمین پر چینی حکومت کے مخالفین اور دیگر لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں

ایف بی آئی کے ڈائریکٹرکرسٹوفر رے کے بقول ”ہم نے چینی حکومت، چینی کمیونسٹ پارٹی کے طرز عمل کا یہاں امریکہ میں ایک واضح انداز دیکھا ہے کہ وہ کیسے اپنا جبر یہاں عین امریکہ میں منتقل کرتے ہیں“

ان کے مطابق ”ہم کئی ایسے چینیوں پر فردِ جرم عائد کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں، جو امریکہ میں قانون نافذ کرنے کی کارروائیوں میں مصروف پائے گئے اور جو لوگوں کو ہراساں کرنے، ان کا پیچھا کرنے، نگرانی کرنے اور ان لوگوں کو بلیک میل کرنے کی کارروائیوں میں ملوث تھے، جنہیں وہ پسند نہیں کرتے یا جو چینی صدر شی جن پنگ کی حکومت سے اختلاف رکھتے تھے“

یاد رہے کہ جون میں سویلین سیکیورٹی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے امریکہ کی معاون وزیرِ خارجہ، عذرا ضیاء نے کانگریس کے ایک پینل کو بتایا کہ ملک سے باہر چین کے جبر اور لوگوں کو دبانے کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے جواب میں بائیڈن انتظامیہ نے حکومتی سطح کا ایک جامع طریقہ کار اپنایا ہے، جس میں ویزا کی پابندیاں، برآمدات پر کنٹرول اور جرم کے مرتکب افراد کی چھان بین اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شامل ہے

جولائی میں ایک گرینڈ جیوری نے، امریکہ میں رہائش پذیر چین کے مخالف شہریوں کی آواز کو خاموش کروانے کی ایک اسکیم میں شامل پانچ افراد اور فیڈرل لاء انفورسمنٹ کے ایک افسر اور ایک نجی انویسٹی گیٹر پر فردِ جرم عائد کی تھی

اکتوبر میں امریکی محکمہ انصاف نے سات چینی شہریوں پر نیویارک میں مقیم چینی شہری کو زبردستی چین واپس بھیجنے کی اسکیم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا

ان لوگوں پر یہ فردِ جرم عائد کیے جانے سے پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے مارچ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے کئی عہدیداروں پر مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف جبر و ستم کے الزام کے تحت ویزا کی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

Tags:

Chinese PoliceNew YorkPolice StationsStationsToronto
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’حق دو تحریک‘ کا گوادر پورٹ شاہراہ پر دھرنا ختم

Next

مظاہروں کے متعلق کپتان کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا: ایرانی فٹبالر

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme