Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

’نیٹ زیرو‘ کیا ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے یہ کیوں ضروری ہے؟

By Akhtar Rasool
مئی 5, 2022 4 Min Read
0

‘نیٹ زیرو’ سے مراد انسانی ساختہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور فضا سے ان کے اخراج کے درمیان توازن ہے

یہ توازن حاصل کرنے کے لیے جی ایچ جی کے اخراج کو صفر کے قریب کم کرنا ضروری ہے، بقیہ اخراج کو طویل مدتی کاربن کیپچر کے حل کے ذریعے بے اثر کیا جا سکتا ہے، جس میں درخت لگانا یا کاربن آفسیٹ منصوبوں کا اجرا شامل ہے

واضح رہے کہ حال ہی میں آب و ہوا کی تبدیلی کے بڑھتے مسائل کو حل کرنے کے لیے عالمی سطح پر عزم کیا گیا ہے جس میں ستر سے زائد ملکوں نے شرکت کی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 2050ع تک موجودہ سطح سے صفر سطح پر لے جانے کا عزم کیا گیا

تاہم موسمیاتی تباہی کو روکنے کے لیے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو انیسویں صدی کے اوائل سے اوپر 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کے لیے سائنسی اتفاق رائے کے باوجود قومی سطح پر آب و ہوا میں بہتری کے منصوبے اخراج میں مطلوبہ کمی کےلیے ناکافی ہیں

تاہم، حکومتوں کی جانب سے اس پر عمل کرنے میں سستی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جبکہ نجی ادارے آب و ہوا کی ایجنڈا کو اٹھا رہے ہیں، کم از کم دو ہزار کاروباری اور معاشی اداروں نے آب و ہوا کی تباہی کے سلسلے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کا عزم کیا ہے

یہ رفتار سرمایہ کاروں اور صارفین کی جانب سے کمپنیوں کے اخراج کو محدود کرنے کے لیے دباؤ، اور حاصل کیے جانے والے مسابقتی فوائد کی تفہیم سے ہے

کچھ حکومتوں نے کمپنیوں کو اپنے ای ایس جی اثرات کو تسلیم کرنے اور سرمایہ کاروں اور صارفین کو باخبر فیصلے کرنے کی اجازت دینے کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے ضوابط متعارف کرائے ہیں

یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمپنی نے ایسی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں کمپنیوں سے کاروباروں کو درپیش آب و ہوا کے خطرات کو ظاہر کرنے کی ضرورت ہے اور کمپنیوں کے آب و ہوا کے اثرات کے لازمی انکشاف کے ساتھ ان خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ شامل ہے

یورپی یونین کے پائیدار مالیاتی ضابطے اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی ہدایت کا مقصد اختتامی سرمایہ کاروں کے ذریعہ فنڈز کے پائیدار اور پروفائلز کے موازنہ کو بہتر بنانا ہے

بھارت اور بنگلہ دیش نے بھی عالمی رجحانات کے مطابق قانون سازی کی ہے، لیکن پاکستان میں کوڈ آف کارپوریٹ گورننس گائیڈلائنز (2017) کے تحت کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ای ایس جی، صحت اور حفاظت کے کاروباری طریقوں کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں، جس میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی سرگرمیوں اور تعمیل کی حیثیت سے متعلق رپورٹ شامل ہے

ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور وہ لوگ، جن کے پاس بین الاقوامی صارفین ہیں، رضاکارانہ طور پر سالانہ پائیداری کی رپورٹس شائع کرتے ہیں، جو ان کی موجودہ ای ایس جی اثرات اور مستقبل کے پائیداری کے اہداف کو ظاہر کرتی ہیں

مالیاتی کارکردگی سے متعلق موسمیاتی تبدیلی اور کم کاربن سے متعلق مطالعے کے 59ویں جائزے سے معلوم ہوا کہ کارپوریٹ سیکٹر سے 57 فیصد مثبت نتائج موصول ہوئے ہیں، انہوں نے ای ایس جی سے رابطہ قائم کرتے ہوئے مثبت مالیاتی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے

مذکورہ کارکردگی زیادہ پائیدار پیداوار کی طرف منتقلی قابل تجدید توانائی، اختراعی، اعلیٰ کارکردگی والے مینوفیکچرنگ کے عمل اور بند پیداواری لوپس کی طرف تبدیلی کی خصوصیات رکھتی ہے

پاکستان کے پاس پہلے سے ہی ایسی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے سبز مالی مراعات موجود ہیں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی فنانسنگ اسکیم برائے قابل تجدید توانائی قابل تجدید ذرائع کی طرف تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اس کے علاوہ عسکری بینک کا اُجالا فنانس روایتی ہائیڈرو کاربن پر مبنی توانائی کے ذرائع کی کھپت کو کم کرنے کے لیے پائیدار توانائی کے منصوبوں کے لیے سبسڈی والے فنانسنگ کی پیشکش کرتا ہے

پاکسان بزنس کونسل کا سینٹر آف ایکسیلینس ان ریسپانسبل بزنس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بہت سی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں جہاں کیپٹل مارکیٹ رپورٹنگ کے لیے بنیادی محرک ہیں، وہاں ای ایس جی میٹرکس اسٹاک لسٹنگ کی ضروریات پر تیزی سے بڑھ رہی ہیں

پاکستان اسٹاک ایکسچینج اپنے سالانہ رپورٹنگ ایوارڈز اور ایوارڈ پوائنٹس میں ’جنسی نمائندگی اور ایسی کمپنیاں جو کم از کم پائیدار ترقی سے متعلق مقاصد پر رپورٹ کرتی ہیں ان کی غیر مالیاتی امور کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا ہے‘

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بڑے کھلاڑی اپنی سپلائی چین کو ڈیکاربونائز کرنے، توانائی، پانی اور کاربن کے اثرات کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی رہنے کے لیے بین الاقوامی پائیداری کے بہترین طریقوں کے مطابق بنانے کے مضبوط منصوبوں کے ساتھ ای ایس جی گیم میں آگے ہیں

سائنس پر مبنی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف کو پورا کرنا ماحولیاتی نقطہ نظر سے اہم ہے، لیکن ایسا کرنے سے کمپنیوں کو درپیش اہم کاروبار اور شہرت کے خطرات بھی کم ہوتے ہیں

پاکستانی کمپنیوں کو ای ایس جی رپورٹنگ کو مضبوط بنانے اور آب و ہوا اور کمپنیوں کی مستقبل کی مسابقت دونوں کے لیے پائیداری کے وعدوں کی طرف پیش رفت کرنے کے لیے فوری طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ خالص صفر کاروباری ماحول میں منتقل ہو رہی ہیں.

Tags:

BiodiversityEcosystemEnvironmentGreen DevelopmentNet ZiroSustainable Development
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

دریائے نیل کے کنارے آباد اہرام سے بھی قدیم تہذیب کو جاننے کے لیے کھلنے والی کھڑکی

Next

ماحولیاتی تبدیلیاں اور پاکستان میں غذائی بحران کے منڈلاتے سائے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme