Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

’واٹس ایپ سے دور رہیں!‘ ٹیلی گرام کے بانی نے واٹس ایپ کو ’نگرانی کا آلہ‘ قرار دے دیا!

By Akhtar Rasool
اکتوبر 7, 2022 2 Min Read
0

میسجنگ ایپ ٹیلی گرام کے بانی نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فون کو ہیک ہونے سے بچانے کے لیے واٹس ایپ کے علاوہ ’کوئی بھی میسجنگ ایپ‘ استعمال کریں

پاویل دوروف نے گذشتہ ہفتے واٹس ایپ میں آنے والے ایک سکیورٹی مسئلے کا حوالہ دیا، جس کی وجہ سے کوئی ہیکر کسی بھی شخص کے نمبر پر وڈیو بھیج کر اس کا فون ہائی جیک کر سکتا تھا

انہوں نے ٹیلی گرام پر کہا کہ ’ ہیکرز واٹس ایپ صارفین کے فون پر ہر چیز تک مکمل رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہر سال ہمیں واٹس ایپ میں کسی نہ کسی مسئلے کا پتہ چلتا ہے، جس سے اس کے صارفین کے فون پر ہر چیز خطرے میں آ جاتی ہے۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ زمین پر امیر ترین شخص ہیں- اگر آپ کے فون پر واٹس ایپ انسٹال ہے تو، آپ کے فون میں موجود ہر ایپ کا ڈیٹا قابل رسائی ہے‘

روسی ٹیکنالوجی کے ارب پتی مالک، جو اپنے آبائی ملک سے خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی کی خامیاں ’بیک ڈورز‘ ہیں تاکہ حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ہیکرز جاسوسی اور دیگر حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کر سکیں

پاویل دوروف نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ ’جب تک وٹس ایپ کے کام کرنے کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں نہیں کی جائیں گی اس وقت تک یہ کبھی بھی محفوظ نہیں ہوگا‘

ٹیلی گرام، جو اپنی ایپ پر ’پرائیویسی فرسٹ‘ کے لیے جانا جاتا ہے، کے ستر کروڑ سے زیادہ فعال صارفین ہیں، اور سالانہ بیس لاکھ صارفین کا مستقل اضافہ ہو رہا ہے

یہ اب بھی واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے

دنیا بھر میں تقریباً وقٹس ایپ کے دو ارب صارفین ہیں۔ یہ چینی ایپ وی چیٹ اور فیسبک میسنجر سے بھی زیادہ مقبول میسجنگ ایپ ہے۔ فیسبک میسنجر کی طرح واٹس ایپ بھی میٹا کی ملکیت ہے

پاویل دوروف نے لکھا ’یہاں میں لوگوں کو ٹیلی گرام پر سوئچ کرنے کے لیے زور نہیں دے رہا۔۔۔ ٹیلی گرام کو اضافی پروموشن کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنی پسند کی کسی بھی میسجنگ ایپ کو استعمال کرسکتے ہیں ، لیکن واٹس ایپ سے دور رہیں – یہ اب تیرہ سالوں سے نگرانی کا آلہ ہے۔‘

ان کے اس بیان پر واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کے ایک ترجمان نے کہا: ’یہ مکمل طور پر بکواس ہے۔‘

Tags:

surveillanceTelegramWhatsappWhatsApp a 'surveillance tool
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے آثار قدیمہ بھی متاثر

Next

قطر ورلڈ کپ 2022: میسی کے لیے ورلڈ چیمپئن کا تاج اپنے سر سجانے کا آخری موقعہ۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme