Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Pakistan-and-India-cricket-and-Politics
کالماہم ترینتازہ ترین

واہگہ اسٹیڈیم: انڈیا پاکستان کرکٹ مسائل کا انوکھا حل

By Akhtar Rasool
نومبر 15, 2024 4 Min Read
0

تصور کریں کہ فائن لیگ پاکستان میں ہے، لانگ آف انڈیا میں۔ مڈ وکٹ پاکستان میں اور ڈیپ کور انڈیا میں ہے۔ آدھا اسٹیڈیم پاکستان میں ہے اور آدھا انڈیا میں۔۔ پاکستانی تماشائی پاکستانی سرحد کے اندر بیٹھے میچ دیکھ رہے ہیں، انڈین تماشائی اپنی طرف۔ نہ ویزے کا جھگڑا ہے، نہ سکیورٹی کا کوئی مسئلہ۔

اس اسٹیڈیم کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ چیمپیئنز ٹرافی کے لیے انڈین کرکٹ بورڈ پاکستان آنے سے انکاری ہے، اس کے جواب میں پاکستان بھی آئندہ انڈیا جانے سے انکار کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو نہ صرف پاکستان اور انڈیا بلکہ دنیا بھر کی کرکٹ کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا کیوں کہ اس وقت اسپورٹس کی دنیا میں جتنے جذبہ و جنون سے ان دو ملکوں کے میچ دیکھے جاتے ہیں، اس کی دنیا کے کسی اور کھیل میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ہم ایک نئی تجویز لے کر آئے ہیں، جس سے انڈیا کے پاکستان آنے یا پاکستان کے انڈیا جانے کا مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔

سننے میں عجیب لگے گا، مگر ذرا غور کریں۔ یہ وہی واہگہ بارڈر ہے جہاں روزانہ پرچم اتارنے کی تقریب ہوتی ہے، جہاں دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں اور دونوں طرف کے ہزاروں تماشائی دیوانہ وار تالیاں پیٹتے ہیں، سیٹیاں بجاتے ہیں، بکرے بلاتے ہیں۔

سوچیں کہ اگر اسی واہگہ سرحد کی لکیر کے عین بیچوں بیچ اسٹیڈیم بنا دیا جائے تو یہ سارے مسائل حل ہو سکتا ہے۔ انڈین تماشائی اپنی طرف سے آ کر میچ دیکھ جائیں، پاکستانی تماشائی اپنی طرف۔ بیچ میں بےشک اونچا جنگلہ بنا دیں۔ اسی طرح انڈین ٹیم کا پویلین انڈین سرحد کے اندر ہو، پاکستانی ٹیم کا پاکستان کے اندر۔

اور سکیورٹی؟ بھئی، یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ جب دونوں ممالک روزانہ کی بنیاد پر اپنی افواج کو آمنے سامنے لا کر تقریب کرتے ہیں، تو کیوں نہ یہ افواج اس کرکٹ گراؤنڈ کی سکیورٹی بھی سنبھالیں؟ ایک طرف پاکستانی رینجرز کھڑے ہوں گے، دوسری طرف انڈین بارڈر سکیورٹی فورس۔ دونوں اپنی بندوقیں کاندھے پر رکھ کر کھڑے ہوں گے، لیکن اس بار وہ بندوقیں جنگ کے لیے نہیں، امن کی ضمانت کے طور پر ہوں گی۔

یہ میدان صرف کھیل کا میدان نہیں ہوگا، بلکہ ایک امن کی علامت بنے گا۔ جب میچ شروع ہوگا تو دونوں ممالک کے قومی ترانے ایک ساتھ بجیں گے۔ پاکستانی تماشائی ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائیں گے اور انڈین تماشائی ’جے ہند!‘ جب کوئی کھلاڑی چھکا مارے گا تو ساری سرحد سے ایک ہی آواز آئے گی: ’واہ واہگہ!‘

یہ میدان انڈیا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے لیے ایک نیوٹرل وینیو ہوگا، جہاں کوئی نہیں کہے گا کہ ہوم گراؤنڈ کا فائدہ ملا۔ یہ میدان نہ صرف دونوں ٹیموں کے لیے، بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک مثال ہوگا کہ کیسے کھیل سرحدوں کو مٹا سکتا ہے۔

یہ تماشائیوں کے لیے ایک خواب جیسا ہوگا، مگر حقیقت بننے کے لیے ہمیں بس ہمت کی ضرورت ہے۔

اب کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ سب محض ایک خیالی پلاؤ ہے، ایک یوٹوپیا۔۔ مگر خواب ہی وہ چیز ہیں جو ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتے ہیں۔ سوچیں، اگر یہ گراؤنڈ بن گیا تو کیا ہوگا؟ دنیا بھر کے میڈیا میں اس کا چرچا ہوگا۔ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کی بات کریں تو ہمیشہ تناؤ کی خبریں چھائی رہتی ہیں، مگر اس میدان کی خبر ایک مثبت کہانی بنے گی۔ لوگ دیکھیں گے کہ کیسے دو دشمن ملک اپنے اختلافات بھلا کر کھیل کے لیے ایک ہو سکتے ہیں۔

یہ میدان دونوں ملکوں کے لیے معاشی فائدہ بھی لے کر آئے گا۔ سیاح اس گراؤنڈ کو دیکھنے کے لیے آئیں گے، ٹوررزم بڑھے گا۔ کرکٹ کے فینز کے لیے یہ میدان زیارت کی جگہ بن جائے گا۔ ہر کوئی یہاں آ کر اپنی پسندیدہ ٹیم کے میچ دیکھنے کی خواہش کرے گا۔ یہ میدان نہ صرف کھیل کے لیے، بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے بیچ تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھی ایک موقع ہوگا۔

سوچیں، جب یہاں انڈیا اور پاکستان کا میچ ہوگا تو دونوں طرف کے تماشائی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ پاکستانی تماشائی انڈین کھلاڑی کے چھکے پر تالیاں بجائیں اور کچھ انڈین تماشائی پاکستانی بولر کی وکٹ لینے پر داد دیں۔ یہ وہ لمحہ ہوگا جب سرحد کی حقیقت کچھ دیر کے لیے ماند پڑ جائے گی اور دونوں ملکوں کے عوام ایک ساتھ، ایک جذبے کے ساتھ، کرکٹ کے کھیل کا لطف اٹھائیں گے۔

یہ سب کچھ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ہمارے سیاست دانوں کو اپنی انا چھوڑنی ہوگی اور سکیورٹی اداروں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہوگا۔ مگر کیا یہ ناممکن ہے؟ نہیں، بالکل نہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کرکٹ کھیل کے طور پر رہے، نہ کہ سیاست کا ہتھیار بنے، تو ہمیں یہ قدم اٹھانا ہی ہوگا۔

آخر میں، اگر یہ گراؤنڈ بن جاتا ہے تو یہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ دنیا اس میدان کو دیکھ کر کہے گی کہ انڈیا اور پاکستان کے بیچ سرحد تو ہے، مگر کرکٹ کے میدان میں ہم سب ایک ہیں۔

اس میدان پر جب ایک گیند سرحد پار کرے گی، تو یہ گیند نہیں ہوگی، یہ امن کا پیغام ہوگا۔ یہ وہ لمحہ ہوگا جب دونوں ملکوں کے عوام محسوس کریں گے کہ شاید، بس شاید، کھیل کے میدان سے شروع ہونے والی یہ امن کی راہ، ایک دن ہمیں سیاست کے میدان میں بھی کچھ بدلنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

تو کیا آپ تیار ہیں اس نئی پچ پر کھیلنے کے لیے؟

بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

2025 champions trophychampion trophy 2025champions trophychampions trophy 2025champions trophy 2025 hostchampions trophy 2025 newschampions trophy 2025 pakistanchampions trophy 2025 schedulechampions trophy 2025 updateicc champions trophyicc champions trophy 2025icc champions trophy 2025 newsicc champions trophy 2025 pakistanicc champions trophy 2025 scheduleind vs pak champions trophy 2025india vs pakistan champions trophy
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-Great-London-Smog-of-1952-which-choked-the-city
Previous

1952 کا عظیم لندن سموگ، جس نے شہر کا دم گھونٹ دیا۔۔

Murda-Khana-Joginder-Paul-Fiction
Next

مردہ خانہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme