Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

وہ جو پانچ منٹ کے لیے مر گیا تھا، اس نے کیا دیکھا؟

By Akhtar Rasool
اپریل 28, 2022 4 Min Read
0

برطانوی کاؤنٹی واروک شائر کے علاقے اپر ٹائیسو سے تعلق رکھنے والے ایک سابق آرکیٹکٹ نے ان لمحات کی کہانی سنائی ہے، جب وہ گھر میں لگی آگ بجھانے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے، بقول ان کے، پانچ منٹ کے لیے ’مر گئے تھے‘

چونسٹھ سالہ اسٹیو ٹیلر اور ان کی تریپن برس کی بیگم جو 14 جنوری کو رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ گھر کے اطراف سے دھواں اٹھنے لگا

اسٹیو ٹیلر نے خبر رساں ادارے پی اے میڈیا کو بتایا ”ہم جو کے اَسی سالہ والدین کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہے تھے، جب چھت میں لائیٹس کی فٹنگز سے سے اچانک دھواں اٹھنے لگا اور الارم بجنا شروع ہو گیا”

اس کے بعد سٹیو ٹیلر اپنے پانچ بچوں سمیت خاندان کو مکان سے باہر لے گئے، جب انہوں نے دیکھا کہ آگ مکان کے پہلو اور چھت کو لپیٹ میں لے چکی ہے

”میں نے سب کو عمارت سے باہر نکالا اور یہ دیکھنے کے لیے واپس اندر گیا کہ دھواں کہاں سے اٹھ رہا ہے؟“

انہوں نے کہا ”چوں کہ املاک میں ان کا ہالیڈے ہوم بھی شامل ہے، اس لیے اس کے ارد گرد آگ بجھانے والے دس آلات موجود تھے، جنہیں انہوں نے امدادی عملے کی آمد سے پہلے آگ بجھانے کی کوشش میں استعمال کیا“

ٹیلر کا کہنا تھا ”میں بالائی منزل کی چھت میں سوراخ کر رہا تھا اور آگ بجھانے کی کوشش میں آگ بجھانے والے آلات کی مدد سے شہتیروں پر چھڑکاؤ کر رہا تھا۔ لیکن آگ ہر جگہ تھی۔ گھر کے اندر بیس مقامات پر آگ ایک ساتھ بھڑکی تھی اور میں اسے اتنی جلدی نہیں بجھا سکا۔ آگ بجھانے والے عملے کو پہنچنے میں آٹھ منٹ لگے۔ ایسا لگا کہ ایک زمانہ بیت گیا ہے۔ جب وہ یہاں پہنچے تو میں عین اس وقت آگ بجھانے والا آخری آلہ استعمال کر چکا تھا“

ٹیلر نے کہا ”جیسے ہی فائر فائٹرز نے ذمہ داری سنبھالی انہوں نے محسوس کیا کہ ان کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ہے“

”اختتام تک آگ سرخ ہو چکی تھی اور میں دھوئیں کی وجہ چہرے کے سامنے اپنا ہاتھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ مجھے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اور مجھے پسینہ آ رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں مکان کے بیرونی احاطے میں برے حال میں بیٹھا تھا۔ میرا دل ٹرین کے انجن کی طرح چل رہا تھا اوراس کی دھڑکنے کی رفتار کم نہیں ہو رہی تھی“

وہ بتاتے ہیں ”مجھے دس سال پہلے دل کا دورہ پڑا تھا اس لیے میں جانتا ہوں کہ یہ کیسا محسوس ہوتا ہے“

ٹیلر کہتے ہیں ”تب میں نے آگ بجھانے والے عملے کے ایک رکن کو بتایا کہ مجھے دل کا دورہ پڑ رہا ہے اور اس سے پہلے کہ’سب کچھ تاریک ہو جاتا‘ میں اسپرین کی گولی کھانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔“

’پہلے انہوں نے میرے سینے کو ہاتھوں سے دبایا جس سے میری چھ پسلیاں ٹوٹ گئیں لیکن بات نہ بن سکی۔ ایک فائر فائٹر جن کا نام پِپ بلیئر تھا اور وہ طبی عملے کی رکن رہ چکے تھیں، انہوں نے میرے سینے پر برقی جھٹکے دینے والی مشین استعمال کی۔ میرے دل نے پانچ منٹ کے لیے کام کرنا بند کر دیا اور انہوں نے سوچا کہ میں مرنے والا ہوں‘

انہوں نے مزید کہا: ’تکنیکی اعتبار سے میں پانچ منٹ کے لیے لازمی طور پر مر چکا تھا اور یہ عجیب احساس تھا۔ میں ایسی جگہ چلا گیا جو واقعی اندھیرا، سردی اور خاموشی تھی‘

ٹیلر کا کہنا تھا پہلی چیز جو اس کے پاس واپس آئی وہ اس کا لمس کا احساس تھا۔ انہیں بلیئر کے بازو کو چھونا یاد ہے

’میں یہاں نہ ہوتا اگر پپ نہ ہوتی اور میرے پانچ بچے والد سے محروم ہو چکے ہوتے۔ وہ بالکل جانتی تھی کہ وہ کیا کر رہی ہے۔‘

بعد میں ٹیلر کو آکسفرڈ میں جان ریڈکلف ہسپتال لے جایا گیا، جہاں انہوں نے ساڑھے تین ہفتے گزارے۔ وہ اب گھر پر صحت یاب ہو رہے ہیں جب کہ آگ سے ہونے والے نقصان کے بعد گھر کی مرمت کی جا رہی ہے

ٹیلر کہتے ہیں کہ انہوں نے بلیئر کے ساتھ دوستی کر لی جس نے ان کی جان بچائی تھی

ٹیلر کے بقول: ’میں دوبارہ پپ سے ملنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے قابل ہو گیا ہم اچھے دوست بن گئے۔ جب ہم نے اس واقعے کے بارے میں بات کی تو اس نے مجھے بتایا کہ صرف 10 سے 12 فیصد لوگ برقی جھٹکے والی مشین کے استعمال سے دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں اور اگر پہلی دو کوششیں ناکام ہو جائیں تو زیادہ تر لوگ ایسا نہیں کر پاتے۔‘

Tags:

After DeathAfter Death ExperimentBritish ManExperiment
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

وفاقی شرعی عدالت کی حکومت کو سودی نظام ختم کرنے کے لیے پانچ سال کی مہلت

Next

’چین ویٹو کی وضاحت نہ دے سکا تو پاکستان کو مشکل ہو گی‘

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme