Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-power-and-development-of-technology
کالماہم ترینتازہ ترین

ٹیکنالوجی کی طاقت اور ترقی

By Akhtar Rasool
جنوری 7, 2025 4 Min Read
0

ڈارن آسیموگلو اور سائمن جانسن نے ٹیکنالوجی کی طاقت اور ترقی پر اپنی کتاب ’پاور اینڈ پراگریس‘ میں اُن تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے جو پتھر کے زمانے سے آج تک دنیا کو بدلتی رہیں ہیں۔

انسان کبھی بھی اپنے ماحول سے مطمئن نہیں رہتا ہے۔ اُس کی برابر کوشش ہوتی ہے کہ اپنے اردگرد کی دنیا کو تبدیل کرتا رہے۔ تبدیلی کے اس عمل میں ٹیکنالوجی اُس کا ساتھ دیتی ہے۔ کبھی وہ دریاؤں کے رُخ کو بدلتا ہے، کبھی پہاڑوں سے راستے نکالتا ہے اور کبھی سیاست اور تجارت کی غرض سے نہریں کھود کر زمینی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔

اس کے لیے مصنفوں نے دو نہروں کی مثال دی ہے، جن میں سے ایک کا نام ’سوئیز کینال‘ ہے اور اِسے فرڈیناں ڈے لیسپس نے 1859ء میں مکمل کیا۔ کھدائی کے اخراجات پورا کرنے کے لیے اس کے شیئرز یا حصص بیچے گئے۔ اس وقت انگلستان کے وزیر اعظم بینجمن ڈِزرائیلی نے یہودی سرمایہ دار روتھ چائلڈ سے پیسے لے کر اس کے حصِص خریدے۔ سوئیز کینال کی کھدائی کے بعد مشرقی مُلکوں کا سفر آسان ہو گیا۔

نہر کی کھدائی کو ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے لیکن تاریخ اس پر توجہ نہیں دیتی ہے کہ کھدائی میں مصری مزدوروں سے جبری مشقت کرائی گئی، جس کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔ مصری مزدوروں کے رہنے اور کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ ریگستان کی گرم ہوائیں اور تپش، اِن سب نے مل کر 15 سے 20 ہزار مزدوروں کی جان لی۔ مزدوروں کے اس اَلمیے کو فراموش کیا گیا۔

لیسپس کو اس کامیابی کے بعد لاطینی امریکہ میں ’پانامہ کنال‘ کھودنے کا کام دیا گیا۔ اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے اس نے یورپ، امریکہ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں میں اس کے (Shares) شیئرز فرخت کیے۔ کھُدائی کے لیے مزدوروں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کی تنخواہیں مقرر کی گئی، لیکن آب و ہوا کی خرابی کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ ہیضے کی وباء پھیلی، اور مچھروں کی وجہ سے ملیریا مزدوروں میں پھیل گیا۔ علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں موت کا شکار ہوئے۔ لیسپس اس منصوبے کو پورا نہ کر سکا اور وہ خود بھی اسی دوران وفات پا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستیں اور افراد اپنے مُفادات پورا کرنے کے لیے ہزاروں لوگوں کو قربان کر دیتے ہیں۔

اس کے بعد مصنفین ایک اور ٹیکنالوجی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ یہ پانی سے چلنے والی چکی یا پن چکی تھی اور جس نے آٹا پیسنے کی سہولت دی۔ اَنالز اسکول کے مؤرخ مارک بلوخ نے پن چکی پر ایک تحقیقاتی کتاب لکھی ہے۔ اس سے پہلے عورتیں چکی پر گندم پیسا کرتی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی مشقت کو کم کرنے کے لیے گانا گاتی جاتی تھیں۔ اِنڈ و پاک میں ان گانوں کو جمع کر کے چکی نامہ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔

پَن چکی کی وجہ سے چرچ اور زمیندار کے درمیان جھگڑا بھی ہوا، کیونکہ دونوں چاہتے تھے کہ لوگ اُن کی چکی سے گندم پسوائیں۔ چرچ کے بشپ نے گھروں سے چکیاں اُٹھوا کر چرچ کی عمارت میں رکھوا دیں اور لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی چکی میں گندم پسوائیں۔

مصنفین نے اس جانب بھی توجہ دی ہے کہ صنعتی انقلاب سے پہلے کوئلے کی کانوں میں بچوں سے مزدوری کرائی گئی۔ یہ بچے جن میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں ہی ہوتے تھے، چھ سال کی عمر سے اِنہیں کوئلے کی کانوں میں بھیج دیا جاتا تھا، جہاں یہ پورا دن مشقت کرتے تھے۔ کانوں کی زہریلی گیس ان کو سانس اور تپ دق کی بیماریوں میں مُبتلا کر دیتی تھی۔ علاج کی سہولت نہ ہونے پر یہ بچے جلد ہی مَر جاتے تھے۔ فیکٹریوں میں بھی بچوں سےکام کروایا جاتا تھا۔ ان کا معاوضہ کم سے کم ہوتا تھا۔ فیکٹریوں کے مالکان کی یہ پالیسی تھی کہ اگر فیکٹری میں نئی ایجاد شدہ مشینوں کو استعمال کیا جائے تو اس کی وجہ سے مزدور کو کم محنت کرنی پڑے گی۔ اس بنیاد پر یہ مزدوروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کرتے تھے۔

ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ غلامی کے ادارے نے بھی امریکہ اور کیریبئن جزائر کی زندگی کو بدل ڈالا۔ گنے کی کاشت اور شکر بنانے کا کام انتہائی مشقت چاہتا تھا۔ یہ کام افریقہ سے لائے ہوئے غلاموں سے لیا جاتا تھا۔ ابتداء میں گنے کا رَس نکالنے کے لیے اسے دو بڑے پاٹوں کے درمیان رکھ کر اس کا جوس نکالتے تھے۔ پھر وقت کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی آئی اور گنے سے رَس نکالنے کا کام مشینوں کے ذریعے ہونے لگا۔ یہ اس کا نتیجہ تھا کہ غلامی سرمایہ داران کے لیے بوجھ ہو گئی۔ غلامی کا خاتمہ اس وجہ سے ہوا کہ اُس کی جگہ مشینوں نے لے لی۔

ٹیکنالوجی نے اگر دنیا کو پسماندگی سے نکالا ہے تو غریب لوگوں نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ٹیکنالوجی اشرافیہ کے لیے خوشحالی اور مالی وسائل لے کر آئی، لیکن نچلے طبقے کے عوام اس کی قیمت ادا کرتے رہے۔ مگر اُن کی اپنی زندگی غربت اور مایوسی سے بسر ہوتی رہی۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ اگر ٹیکنالوجی نے صرف اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا اور عام لوگ زندگی کی خوشی اور مُسرت سے محروم رہے تو کیا اس ٹیکنالوجی کو اور سائنسی ایجادات کو انسانیت کے لیے نعمت کہیں گے یا عذاب؟

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

african slave tradeAfrican slaves in Americaagricultural technologychild labor during industrial erachild labor exploitationchild labor in mineschurch and landowners conflictchurch and technology conflictchurch dominance in medieval technologycoal mining child laborcoal mining historycoal mining in the industrial eracolonialism and technologydevelopment of canalsearly technology in industryevolution of industrial machineryexploitation in agricultural laborexploitation in colonial historyexploitation in historical contextexploitation of laborersexploitation of workersfactory labor exploitationforced labor historyforced labor in historyglobal trade and canalsgrain milling technologyhealth impacts of coal mininghistorical forced laborhistorical labor practiceshistorical role of technologyhistorical technological advancementshistory of canalshistory of forced labor in constructionhistory of global tradehistory of industrial exploitationhistory of sugar millshistory of technological inventionshistory of technologyimpact of canals on tradeimpact of industrial machineryimpact of slavery on economyimpact of technological changeimpact of technologyindustrial era labor policiesindustrial historyindustrial machineryindustrial revolutionindustrial revolution impactsinequality in industrializationinequality in technology uselabor and industrializationlabor conditions in mineslabor exploitationlabor exploitation during industrial revolutionlabor issues in historylabor unions and industrializationPanama Canal benefitsPanama Canal constructionPanama Canal historyPanama Canal legacyrise of industrial machineryrole of children in industrial historyrole of technology in societyslavery and economic developmentslavery and technologyslavery in the Americassocial inequality and technologySuez Canal economic impactsSuez Canal historySuez Canal laborSuez Canal significancesugar production historysugarcane industry historytechnological advancements and societytechnological change in agriculturetechnological innovations in agriculturetechnological progresstechnology and class dividetechnology and economic inequalitytechnology and labortechnology and societywater mill inventionwater mills historywater-powered millsworking class history
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
How-did-the-galaxy-Milky-Way-get-its-name-Interesting-story
Previous

کہکشاں ’مِلکی وے‘ کو یہ نام کیسے ملا؟ دلچسپ کہانی

Leader-Urdu-fiction-by-Upendernath-Ashk
Next

لیڈر (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme