Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ٹی وی پروگرام اور فکری زوال

By Akhtar Rasool
جنوری 27, 2022 4 Min Read
0

گزرتا وقت تبدیلیوں کی داستان رقم کرتا جاتا ہے اور دھیرے دھیرے سب کچھ بدل کر رکھ دیتا ہے، حتیٰ کہ انسانی رجحانات اور ترجیحات تک بدل جاتی ہیں۔ جو آج ہے وہ کل ماضی بن جائے گا اور ماضی تاریخ میں ڈھل کر نئی نسلوں کو پچھلی نسلوں کے طرز زندگی کا پتہ دے گا۔ وقت کی اس بازی گری کے کئی نظارے ہم میں سے بہت سے لوگ دیکھ چکے ہیں

مجھے اپنے زمانہ طالب علمی میں ٹیلی وژن پر پیش کیے جانے والے کوئز شوز بہت اچھی طرح یاد ہیں۔ اس زمانے میں یہ کوئز شوز مجھ سمیت بے شمار افراد کے پسندیدہ پروگرام ہوا کرتے تھے۔ دراصل یہ پروگرام علمی نوعیت کے تھے جو مختلف کمپنیوں کے تعاون سے پیش کیے جاتے تھے، جس کا ایک مقصد کمپنی مصنوعات کی مشہوری بھی تھا۔ ان پروگرامز میں سوالات پوچھے جاتے تھے اور درست جواب دینے والوں کو ان کمپنیوں کی مصنوعات انعام کے طور پر دی جاتی تھیں۔ علاوه ازیں شعر وشاعری کے مقابلے اور نامور شخصیات سے ملاقات بھی شامل ہوتی تھیں

ان کوئز شوز میں شرکت کے خواہشمند افراد کئی کئی کتب کا مطالعہ کر ڈالتے تھے۔ تقریباً تمام ہی طبقات میں یہ کوئز شوز حد درجہ مقبول تھے، جنہیں خاص اہتمام کے ساتھ دیکھا جاتا تھا کیونکہ یہ پروگرام معلومات میں اضافے کا ذریعہ تھے۔ ان کوئز شوز میں نیلام گھر جو بعد ازاں طارق عزیز شو کہلایا، کسوٹی، سندھی کوئز شو پرکھ، مینا بازار وغیرہ سرفہرست ہیں

یہ وہ دور تھا، جب کتابوں سے دوستی کا چلن عام تھا۔ طالب علم اپنی نصابی کتب کے ساتھ ساتھ شعر و ادب اور معلومات عامہ کے بھی دلدادہ ہوا کرتے تھے۔ شہر کی لائبریریز علم کے متلاشیوں سے آباد تھیں۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ کسی لائبریری کی ممبرشپ ملنا فخر کی بات اور لائبریری میں مطالعہ کرتے گزرا وقت حسین وقت تصور کیا جاتا تھا۔ اگر اسے علمی دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ ٹیلی وژن پر بھی علمی پروگرام پیش کیے جاتے تھے اور عوامی پسندیدگی کے اعتبار سے بھی نمبر ون تھے

پھر وقت بدلا اور لوگ پروفیشنل ہونے لگے۔ طالب علموں کی توانائیاں فقط نصابی کتب اور ڈگری کے حصول تک محدود ہوگئیں۔ کاروبار میں سبقت کی دوڑ لگی۔ سیٹلائٹ ٹی وی اور پرائیویٹ پروڈکشنز کا زمانہ آیا۔ سوشل میڈیا روشناس ہوا اور سب کچھ بدل گیا۔ ان باتوں کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی مخالفت ہرگز نہیں، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی سہولت اور آسانی کا نام ہے اور ہر سہولت اور آسانی عطیہ خداوندی ہے لیکن ہم نے اسے مثبت انداز سے نہیں اپنایا بلکہ اس کے مضر پہلوؤں میں اپنا سامانِ دلچسپی ڈھونڈنا شروع کردیا۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ ان کے برے اثرات کی زد میں آگیا

کل جن ہاتھوں میں کتاب ہوا کرتی تھی آج ان ہاتھوں میں موبائل ہے اور سوشل میڈیا کی بے مقصد سرگرمیاں ہیں۔ آج یہی نوجوان علم و ادب سے دور ہوچکا ہے۔ نہ کتاب دوستی رہی اور نہ مطالعہ کا شوق رہا۔ آج پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بھرمار ہے لیکن شاید ہی کوئی چینل ہوگا جس پر کوئی کوئز شوز پیش کیا جاتا ہو۔ اب یہ کوئز شوز قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ اب وہ علم دوستی کا دور نہیں رہا۔ ماضی میں کوئز شوز کمپنیوں کی کاروباری ضرورت تھے اور آج بھی ان کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے

پرائیویٹ چینلز اور مختلف کمپنیوں کے اشتراک سے آج بھی اسی طرز کے پروگرامز پیش کیے جارہے ہیں، بس ان کا ڈھنگ کچھ بدل دیا گیا ہے۔ کوئز شوز کی جگہ نام گیم شوز رکھ دیا گیا ہے۔ پہلے سوالات کے درست جوابات پر انعامات دیے جاتے تھے اب کھیل کھلا کر دیے جاتے ہیں۔ آج معلومات کسی کو نہیں، البتہ کھیل کود ہر کسی کےلیے آسان کام ہے اور ناظرین بھی اس کھیل کود سے ہی محظوظ ہوتے ہیں اور اگر کسی پروگرام میں کبھی کوئی معلومات عامہ کا سوال پوچھ بھی لیا جائے تو حاضرین ایسے ایسے اوٹ پٹانگ جوابات دیتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کر رہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ریٹنگ کی دوڑ میں لگے چینلز اب گئے وقتوں کے کوئز شوز چلانے کا رسک نہیں لیتے کیونکہ ان کوئز شوز سے اب ریٹنگ نہیں ملتی

کوئز شوز اور گیم شوز کو مثال محض اس لیے بنایا گیا ہے کہ یہ ایک پیمانہ ہے جس سے ہمارے معاشرے کے زوال پذیر ہوتے فکری معیار کی بہتر عکاسی ہوتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب سے ہم اپنے علمی معیار کو بہتر بنا کر جدید خطوط پر استوار کرسکتے تھے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال علم و ادب کے حلقوں کو زیادہ وسیع اور مربوط بنا سکتا تھا لیکن افسوس کہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس ہم نے اس ٹیکنالوجی کے تفریح طبع کے رخ کو اپنا کر جدید دنیا کے ساتھ چلنا تصور کیا اور اسی خیالِ باطل کے باعث علم سے لاعلمی کی طرف چلے گئے

کیا اب بھی ہم کوئی ایسا جواز ڈھونڈ کر لا سکتے ہیں جس کی بنیاد پر ہم اپنی اس حالت کو فکری زوال اور علمی پستی نہ کہہ سکیں؟ شاید نہیں

حوالہ : ایکسپریس نیوز

Tags:

Collapsing SocietyEducation SystemIntellectual declinePakistanQuiz ShowTV ProgramsYouth Of Pakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فروخت کیے گئے بیٹے کو اپنانے سے والدین کا انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی

Next

بحریہ ٹاؤن کراچی ایک متنازع پروجیکٹ اور سندھ حکومت

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme