Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Anchors-of-TV-channels-Read-something-
کالماہم ترینتازہ ترین

ٹی وی چینلز کے اینکرز! کچھ پڑھ بھی لیا کریں

By Akhtar Rasool
فروری 15, 2024 4 Min Read
0

روزانہ کالج کی تیاری کے وقت میری عادت ہے کہ میں ٹی وی پر خبریں اور مختلف مارننگ پروگرامز بھی ٹی وی چینلز بدل بدل کے دیکھتی رہتی ہوں۔

اس دوران بہت ساری خبروں پر بے مزہ ہو کر باآواز بلند تبصرے کرتے رہنا اور کبھی کسی اینکر کی بات سے متفق ہونے پر شاباش دینا ایک عرصے سے میرا وتیرہ ہے۔

اب آپ سوچ ہی سکتے ہیں کہ صرف شاباش ہی نہیں کئی بار ناگواری سے ماتھا سکیڑنا اور کبھی تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ نازیبا الفاظ سے نوازنا بھی تو ساتھ ساتھ چلتا ہی ہوگا۔

کوئی دو ایک ماہ کی اس مشق کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ بہت سارے اینکرز ذاتی طور پر مطالعہ کرنے کی عادت سے دور ہیں اور ان کو بولنے کے لیے دیا گیا مواد زیادہ تر ان کے پروڈیوسرز یا کانٹینٹ کریٹرز کی طرف سے ہی فراہم کیا جا رہا ہوتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات جہاں انہیں کہیں اپنی طرف سے کوئی بات ایڈ کرنی پڑ جائے تو یک دم گڑ بڑا جاتے ہیں یا پھر ادھ ادھوری بات اپنے کسی تعصب کے تیل میں فرائی کرنے کے بعد بول دیتے ہیں۔

زیادہ تر پریزینٹرز صرف دیکھنے میں حسین اور بولنے میں مشین ہوتے ہیں تب ہی سکرین پر دکھائی دے رہے ہوتے ہیں لیکن خالی برتن کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو جب کھڑکتا ہے تو سماعتوں پر گراں ہی گزرتا ہے۔

یہ بات ہمارے اساتذہ اور گھر کے بزرگوں نے بارہا ہمیں سمجھائی بلکہ یوں کہیں کہ پلے سے باندھ کے دی لیکن ہم بھی تب تک نہیں سمجھ پائے جب تک کہ اس کی اذیت کو سمجھے نہ تھے۔

بہ طور ایک سامع یا ناظر میرے جیسے ناقص العقل لوگ اکثر اس وجہ سے ہی چینل بدل دیتے ہیں کہ کوئی ڈھنگ کی بات سننے کو نہیں مل رہی ہوتی۔

میں خود ایک ٹی وی چینل سے کچھ عرصہ وابستہ رہی ہوں تو یہ بھی اندازہ ہے کہ آٹھ سے 10 گھنٹے کی شفٹ کے بعد اینکرز کے پاس اتنا وقت یا اعصاب نہیں بچتے ہوں گے کہ وہ جنرل ریڈنگ کی طرف جا سکیں۔

کتاب، اخبار یا کوئی میگزین اٹھائیں یا خریدیں پھر وقت نکال کے پڑھیں تو ان سب کے لیے چھوٹا سا مشورہ ہے کہ موبائل فونز جیسی ڈیوائس کا مکمل فائدہ اٹھائیں۔

یہ اب صرف رابطے اور سوشل میڈیا کے استعمال کی چیز نہیں ہے بلکہ اس پر مستند قسم کی ویب سائٹس کی تحریریں، پی ڈی ایف میں کتابیں اور رسائل اور یوٹیوب پر مختلف موضوعات پر مستند اور جانے مانے مصنفین اور محققین کی ویڈیوز بھی پڑی ہوئی ہیں۔

چلتے پھرتے، کھانا کھاتے، واش روم یوز کرتے ہوئے ایک ایئر پوڈ کان میں لگایا ہوا ہو اور کچھ بھی ایسا جو آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں انٹرنیٹ پر موجود ہے اسے سن لیں۔

کتاب یا کوئی دستاویز ہے تو اسے سفر کے دوران یا رات کو سونے سے پہلے 25 سے 50 صفحے پڑھ لیا کریں۔

کرنٹ افیئرز سے باخبر رہا کریں تاکہ جب کبھی خود سے بولنا پڑے تو آپ کی بات میں کسی منجھے ہوئے صحافی یا اینکر کا انداز نظر آئے اور آپ کم وقت میں جلدی کسی پرائم ٹائم شو کے میزبان بن سکیں۔

اور ہاں گوگل کی ہر قسم کی معلومات پر یقین کرنے کی بجائے مستند سائٹس تک رسائی کی کوشش کریں۔

اب ذرا بات کرلیں زبان و بیان کی۔۔۔

انگریزی زبان تو ماشاءاللہ اکثر میڈیا پرسنز کی اچھی ہے مسئلہ اب اردو زبان کا ہے کہ اس کا تلفظ اور ادائیگی عموماً درست نہیں ہوتے۔

اس کے لیے بھی جس طرز پر ہم گوگل سے انگریزی اور دیگر زبانوں کے لفظوں کی ادائیگی اور مطالب دیکھ کر سیکھ لیتے ہیں۔

بالکل اسی طرز پر اب ہمارے پاس اردو سکرپٹ میں ٹائپ کرنے کا جو آپشن موجود ہے اسے استعمال کیجیے۔

کسی بھی محاورے اور ضرب المثل کا مطلب جاننا ہے تو گوگل کے سرچ بار میں لکھ کر اینٹر کا بٹن دبا دیں۔ بہت سی لغات کے لنک سامنے آجاتے ہیں آپ ایک دو لنک کھول کے چیک کر لیں۔

اعراب اور گرامر کے ساتھ زیادہ تر الفاظ کی اصل آپ کو دستیاب ہو جاتی ہے۔ یعنی اب آپ کو اردو کے لیے فرہنگ آصفیہ، فیروز اللغات یا دیگر بڑی بڑی ڈکشنریوں میں ڈھونڈنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔

اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اچھی شکل، اچھے پہناوے، اچھے میک اپ اور فر فر بولنے کے ساتھ ساتھ آپ با اثر، درست اور با وزن بولنا شروع کر دیں۔

تاکہ آئندہ اگر آپ کا پروڈیوسر یا محقق کچھ غلط لکھ کر لے آتا ہے تو آپ اسے کہہ سکیں کہ جناب ! کچھ پڑھ بھی لیا کریں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

ai news anchorsanchoranchor mananchor proposalanchorsanchors despivebest anchorbest news anchor blooperdespise anchoristanbul news anchornews anchornews anchor bloopernews anchor proposalnews anchor proposesnews channelradio news anchortelevision news anchorturkish anchortv anchortv anchor profane first daytv anchorstv anchors despisetv news anchortv sports anchor braves the cold weather shift
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Is-the-South-American-country-of-Guyana-going-to-become-the-new-Dubai
Previous

کیا جنوبی امریکی ملک گیانا، نیا دبئی بننے جا رہا ہے؟

Bad-omen-for-Balochistan
Next

بلوچستان کے لیے برے شگون؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme