Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

پانچ گھنٹے یا اس سے کم سونا آپ کی صحت کے لیے کتنا خطرناک ہے؟

By Akhtar Rasool
اکتوبر 23, 2022 3 Min Read
0

محققین کا کہنا ہے کہ پچاس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں متعدد طبی مسائل کے امکان کم از کم پانچ گھنٹے سونے سے کم ہو سکتا ہے۔ صحت کے مسائل سے نیند متاثر ہو سکتی ہے لیکن خراب نیند خود بھی طبی مسائل کی پیشگی علامت ہو سکتی ہے

اس حوالے سے ثبوت موجود ہیں کہ نیند جسم اور دماغ کو تر و تازہ ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کی مرمت کرنے اور اسے بحال کرنے میں بھی مدد دیتی ہے لیکن یہ اب بھی واضح نہیں کہ کسی خاص دورانیے کے لیے سونا کیوں اہم ہو سکتا ہے

پبلک لائبریری آف سائنس (پلوس) میڈیسن جرنل میں ایک تحقیق شایع ہوئی ہے، جس میں برطانیہ کے سرکاری اہلکاروں کی صحت اور نیند کا جائزہ لیا گیا تھا

تقریباً تمام آٹھ ہزار شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ روز رات کو تقریباً کتنا سوتے ہیں؟

کچھ لوگوں نے اپنی کلائیوں میں سلیپ ٹریکر کی حامل گھڑیاں بھی پہن رکھی تھیں

اس کے بعد ان سے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران سنگین بیماریوں اور عارضوں مثلاً ذیابیطس، سرطان اور امراضِ قلب کے متعلق پوچھا گیا

وہ لوگ جن کی عمریں تقریباً پچاس برس تھیں اور پانچ گھنٹے یا اس سے کم سو رہے تھے، ان میں سات گھنٹے سونے والوں کی بہ نسبت متعدد امراض کا خطرہ 30 فی صد زیادہ تھا

پچاس کی عمر میں کم نیند کا تعلق موت کے بلند خطرے سے بھی پایا گیا ،جس کا بنیادی طور پر تعلق سنگین بیماریوں کے خطرے میں اضافے سے ہے

چنانچہ یونیورسٹی کالج لندن اور پیرس سیٹے یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ماہرین اسی لیے عموماً سات سے آٹھ گھنٹے نیند کی تجویز دیتے ہیں

سرے سلیپ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈرک یان ڈائک بتاتے ہیں ”اس کام سے اعادہ ہوتا ہے کہ نہ صرف کم نیند ہمارے لیے بری ہے بلکہ یہ عام طور پر صحت مند بھی نہیں، لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ ٹھیک ہو سکتی ہے“

وہ کہتے ہیں ”بڑا سوال یہ ہے کہ کیوں کچھ لوگ کم سوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے اور کیا ہم اس حوالے سے کچھ کر سکتے ہیں؟ نیند ایک ایسا طرزِ زندگی ہے، جسے کچھ حد تک بدلا جا سکتا ہے“

اس ضمن میں ایک سوال یہ ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ اگرچہ سائنسدان اب بھی واضح طور پر یہ بات نہیں جانتے، لیکن یہ واضح ہے کہ نیند دماغ کو یادداشت مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے اور مزاج، توجہ اور اندرونی نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے

اس کے علاوہ نیند دماغ کو اپنے آپ کو صاف کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے، جبکہ طویل مدت تک خراب نیند ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے

ڈاکٹر اب نیند کی گولیاں کم ہی تجویز کرتے ہیں کیونکہ ان کے سنگین منفی اثرات ہو سکتے ہیں اور ان کی لت پڑ سکتی ہے تاہم نیند کے مسائل کے حل کے لیے دیگر طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں

اچھی نیند کے لیے ماہرین کے مشورے

خود کو دن میں مصروف اور متحرک رکھ کر تھکائیں مگر جیسے جیسے سونے کا وقت قریب آنے لگے تو سرگرمیاں سست کر دیں

دن کے وقت سونے سے گریز کریں

رات کے وقت کا اچھا معمول بنائیں اور یہ یقینی بنائیں کہ آپ کا بیڈ روم آرامدہ اور نیند کے لیے سازگار ہے۔ موٹے پردے یا سیاہ بلائنڈز، کمرے کا آرامدہ ٹمپریچر اور بستر ضروری ہیں

بستر میں سمارٹ فون وغیرہ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے

نیند کے وقت سے پہلے کیفین یا الکوحل کا استعمال بند کر دیں
اگر آپ نہ سو پائیں تو زبردستی نہ کریں اور نہ ہی پریشان ہوں۔ بلکہ اٹھ جائیں اور کتاب پڑھنے جیسا کوئی سکون آور کام کریں اور جب نیند کا غلبہ محسوس ہو تو واپس بستر پر لوٹ جائیں

آگر آپ رات کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں تو نائٹ شفٹ شروع ہونے سے پہلے ایک مختصر نیند لے لیں۔ اگر آپ رات کی شفٹوں سے ہٹ رہے ہیں تو دن میں تھوڑا سا آرام کر لیں تاکہ دن گزر جائے اور پھر اس شام جلدی سونے چلے جائیں۔

Tags:

HealthLess Sleepsleep
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سات صدیاں قبل انسان کو وبا سے بچانے والا ’جِین‘ موجودہ دور میں بیماری کا سبب! ایک حیران کن تحقیق

Next

نیگلیریا فولیری: ’دماغ کھانے والا امیبا‘ انسانوں کے لیے کتنا خطرناک ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme