Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

پاکستان میں افسران کی مراعات اقوام متحدہ کے اہلکاروں سے بھی زیادہ! تہلکہ خیز رپورٹ

By Akhtar Rasool
دسمبر 15, 2021 5 Min Read
0

اسلام آباد – پاکستان میں عام طور پر تاثر ہے کہ گریڈ سترہ سے اوپر سرکاری افسران کی تنخواہیں پرائیویٹ سیکٹر کے مقابلے میں کم ہیں اور یہ افسران کم تنخواہوں پر ملک اور قوم کی خدمت کر رہے ہیں

تاہم پاکستان کے ایک سرکاری تھِنک ٹینک کی اقوام متحدہ کے ادارے کے ساتھ مل کر کی گئی ایک تحقیق میں سرکاری افسران کی تنخواہوں اور مراعات کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عام تاثر کے برعکس پاکستان میں سرکاری افسران کی تنخواہیں اگر مراعات سمیت شمار کی جائیں، تو نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر سے بھی زیادہ ہیں بلکہ گریڈ 21 کے پاکستانی افسر پر کل خرچ ہونے والی رقم اقوام متحدہ کے افسران پر خرچ ہونے والی رقم سے بھی 12 فیصد زیادہ ہے

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کو عام طور پر ایک بہت فیاضانہ تنخواہ والا ادارہ سمجھا جاتا ہے

پائیڈ نے یہ تحقیق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے اشتراک سے کی ہے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب کچھ سیلری سلپ پر نہیں لکھا ہوتا، بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ مالیت کی مراعات غیر محسوس طریقے سے سرکاری افسران تک پہنچتی ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ سرکاری افسران کو تمام مراعات کیش کی شکل میں دی جائیں

اسی طرح ورلڈ بینک کے ورلڈ بیوروکریسی انڈیکیٹر کے مطابق پاکستان میں سرکاری شعبے میں تنخواہیں پرائیویٹ شعبے سے 53 فیصد زیادہ ہیں

پائیڈ کی تحقیق کے مطابق ایک گریڈ 20 کے پاکستانی افسر کی اوسط بنیادی تنخواہ تو صرف ایک لاکھ 660 روپے ہے مگر، اصل میں اسے حاصل مراعات اور فائدے ماہانہ سات لاکھ 29 ہزار 511 روپے کے برابر ہیں

گریڈ 20 کے افسر کو دی گئی کار کے تمام اخراجات، گھر اور طبی سہولیات کا تخمینہ لگایا جائے تو وہ اس کی بنیادی تنخواہ سے بھی سات گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے

گریڈ 21 کے پاکستانی افسر پر خرچ ہونے والی رقم اقوام متحدہ کے افسران پر خرچ ہونے والی رقم سے بھی 12 فیصد زیادہ ہے۔ فوٹو: پائیڈ

اسی طرح سرکاری تحقیق کے مطابق گریڈ 21 کے پاکستانی افسر کی اوسط بنیادی تنخواہ ایک لاکھ 11 ہزار 720 روپے ہے تاہم ان کی کار، گھر اور طبی اخراجات کے ساتھ ان کو ملنے والے مالی فوائد ماہانہ تقریبا دس لاکھ روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔ گویا ان کی اصل تنخواہ بنیادی تنخواہ سے گیارہ گنا زائد ہوتی ہے

اس طرح گریڈ 22 کے ایک سرکاری افسر کی اوسط بنیادی تنخواہ تو صرف ایک لاکھ 23 ہزار 470 روپے ہوتی ہے، مگر اسے دراصل گیارہ لاکھ روپے کے مالی فوائد ہر ماہ دستیاب ہوتے ہیں

رپورٹ کے مطابق ایک وفاقی سیکریٹری کو ان کے ہم پلہ اقوام متحدہ کے افسر سے بھی زیادہ مالی فوائد ماہانہ ملتے ہیں. تحقیق کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک سیکریٹری لیول افسر کو تقریباً نو لاکھ دس ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جوں جوں سرکاری افسران کے گریڈ بڑھتے جاتے ہیں تو ان کی بنیادی تنخواہ اور مراعات کا تناسب بھی بڑھتا جاتا ہے۔ مثلاً اگر گریڈ 20 اور 22 کے افسران کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کے ذاتی استعمال سے ان کے اوپر خرچ ہونے والی رقم ان کی بنیادی تنخواہ سے بھی ایک اعشاریہ دو گنا بڑھ جاتی ہے

پائیڈ نے اپنی تحقیق میں تجویز دی ہے کہ سرکاری افسران کی تنخواہ بھی ان کے ہم پلہ پرائیویٹ سیکٹر ملازمین کے برابر ہونی چاہیے اور ان کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ بھی ان کی کارکردگی سے مشروط ہونا چاہیے

اس سرکاری تحقیق کے مطابق سرکاری ملازمین کے زیر استعمال رہائش گاہوں کی کل قیمت تقریباً ساڑھے چودہ کھرب یا ڈیڑھ ٹریلین روپے کے برابر ہے۔ یعنی حکومت ان تمام سرکاری گھروں کو پرائیویٹ سیکٹر کو بیچ کر چودہ کھرب سے زائد رقم حاصل کر سکتی ہے

جبکہ ان تمام مکانات کو اگر حکومت  کرائے پر دے دے، تو اس سے سالانہ تقریباً گیارہ ارب روپے کرائے کی مد میں حکومت کو حاصل ہوں گے

گریڈ 20 کے پاکستانی افسر کو حاصل ہونے والی مراعات ماہانہ سات لاکھ 29 ہزار 511 روپے کے برابر ہیں۔ فوٹو: پائیڈ

اسی طرح سرکاری افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کے اوپر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گریڈ 20 سے 22 تک کے افسران کی بنیادی تنخواہ سے زیادہ ماہانہ ان کی گاڑیوں کا خرچ ہوتا ہے

سرکاری افسران کو سیلری سلپ میں شامل ملنے والے میڈیکل الاؤنس کے علاوہ ہر ماہ انہیں مجموعی طور پر دو اعشاریہ تین ارب روپے میڈیکل اخراجات کے ضمن میں ادا کیے جاتے ہیں

سرکاری افسران کی پنشنوں کے اثرات
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سرکاری افسران کی پینشن کا نظام بھی پرائیویٹ سیکٹر کے مقابلے میں خاصا فیاضی پر مبنی ہے۔ گو کہ سرکاری طور پر پینشن کی رقم سرکاری ملازم کی آخری بنیادی تنخواہ کا 70 فیصد ہوتی ہے، لیکن اگر گزشتہ حکومتوں کی طرف سے پینشنز میں اضافوں کو شامل کیا جائے تو یہ بنیادی تنخواہ کا 122 سے 140 فیصد تک بن جاتی ہے

اوسطاً ایک سرکاری افسر جو پچیس سال ملازمت کرتا ہے، وہ اَسی سال کی عمر میں پہنچنے تک پینشن وصول کرتا رہتا ہے اور ان کی موت پر ان کے تیرہ ورثا خاندانی پینشن کا دعویٰ کر سکتے ہیں، جن میں ان کی اہلیہ، غیر منکوحہ بیٹی، کم عمر بچے، بیوہ بیٹی، مطلقہ بیٹی، معذور بچے اور دیگر شامل ہیں

اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں سرکاری تھنک ٹینک نے حکومت کو متعدد تجاویز بھی دی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حکومت سالانہ تنخواہ میں اضافے کو کارکردگی سے منسلک کرے اور پہلے سے طے شدہ ایک معیار تشکیل دے جس کی بنیاد پر کارکردگی کو جانچا جائے

یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ مراعات کے بدلے نقد رقم دی جائے، تاہم تھینک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ اس کا طریق کار بہتر کیا جائے کیونکہ اس سے پہلے گاڑیوں کی مونیٹائزیشن ناکام رہی تھی، کیونکہ اکثر افسران پیسے بھی لے لیتے تھے اور قواعد کی خلاف ورزی کر کے سرکاری گاڑیاں بھی استعمال کرتے تھے

سرکاری ملازمین کے زیر استعمال رہائش گاہوں کی کل قیمت تقریباً ساڑھے 14 کھرب یا ڈیڑھ ٹریلین روپے کے برابر ہے۔فوٹو: پائیڈ

تحقیق میں حکومت کو اپنے رہائشی اثاثے نہ رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے

رپورٹ میں پاکستان میں سول سروس اصلاحات کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی اپنے نوآبادیاتی تاریخ سے خاصی متاثر ہے۔ برطانوی راج نے اپنی حکومت کے لیے جو وسیع بیوروکریسی کا نظام تشکیل دیا تھا، اس نے نئی آزاد ریاست کے نظام  کی فعالیت پر اثر ڈالا

تحقیق کے مطابق پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں سول سروس میں اصلاحات کے لیے انتیس کمیشن بنائے جا چکے ہیں، تاہم کسی ایک کمیشن سے بھی کوئی خاص بہتری نہیں آ سکی۔ زیادہ تر اصلاحات نے تنظیمی ڈھانچے اور ادائیگی کے ہجم میں تھوڑا بہت رد و بدل کیا، مگر اصلاحات سے سرکاری شعبے کی کارکردگی میں بہتری نہ آ سکی.

Tags:

Government PakistanOfficials Salary
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بلوچستان میں جنگلی زیتون میں ہسپانوی اور اطالوی ورائٹی کی پیوندکاری

Next

پن چکیوں کا شہر اور ایک بے خبر بلوچ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme