Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

پن چکیوں کا شہر اور ایک بے خبر بلوچ

By Akhtar Rasool
دسمبر 15, 2021 2 Min Read
0

ایران کا صوبہ ”خراسان رضوی“ شیعہ مسلمانوں کے آٹھویں امام جناب امام رضا اور فارسی زبان کے شہرہِ آفاق شعرا عمر خیام اور ابوالقاسم فردوسی کے مزاروں کی وجہ سے معروف ہے، لیکن یہاں ایسی اور بھی چیزیں ہیں، جن کا دیکھنا وقت کا ضیاع ہرگز نہیں ہے.

تایباد کے جنوب کی طرف جانے والی سڑک ”خواف“ شہر جاتی ہے ـ ہمیں تایباد اور خواف کے درمیانی قصبے ”سِنگان“ جانا تھاـ سنگان بظاہر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن معدنی لحاظ سے اس کا شمار ایران کے امیر قصبات میں ہوتا ہے ـ یہاں وسط ایشیا کی سب سے بڑی لوہے کی کان ہے.

ہمارے مقامی میزبان کے مطابق قصبے کا قدیم نام ”سنگِ آہن“ ہے، جو بگڑتے بگڑتے سنگان ہوگیا ـ سنگان ایک سنی العقیدہ قصبہ ہے.

میں نے سنگان میں جگہ جگہ بورڈ دیکھے جن پر لکھا تھا ”شہرِ آسبادھای نشتیفان خوش آمدید“ ـ میزبان سے پوچھنے پر پتہ چلا آگے قریب پانچ منٹ کی ڈرائیو پر ”نشتیفان“ نامی چھوٹا سا شہر ہے، جہاں بڑی بڑی قدیم پن چکیاں ہیں ـ میرا دل للچایا ـ میزبان نے دل رکھ لیا.

”نَشتیفان“ بھی سنی العقیدہ شہر ہے، جہاں کی زبان فارسی دری ہےـ شہر میں مٹی سے بنی متعدد بلند و بالا پن چکیاں ہیں، جنہیں فارسی دری میں ”آسیاب“ اور سرکاری فارسی میں ”آسباد“ کہا جاتا ہے ـ ”آس“ بمعنی آٹا، جبکہ ”یاب“ یا ”باد“ معنی ہَوا.

یہ پن چکیاں سولہویں صدی میں تعمیر کی گئی تھیں. گویا یہ اس دور میں گندم سے آٹا بنانے کے کارخانے تھے.

مجھے حیرت کا جھٹکا تب لگا، جب میزبان نے بتایا ہمارے اجداد نے پن چکی بنانے کا یہ طریقہ بلوچوں سے سیکھا ہےـ وضاحت طلب کرنے پر اس نے بتایا قدیم ترین پن چکیاں بلوچستان کے علاقے سیستان میں ہیں، جن میں سے بیشتر اب کھنڈر بن چکے ہیں, بلوچستان سے یہ طریقہ ہماری طرف آیاـ اس کے مطابق بلوچستان کی صرف ایک پن چکی دیکھنے کے قابل ہے، جو زابل شہر کے قریب ہےـ (ہم اپنے وطن سے اتنے بے خبر تو نہ تھے!)

نشتیفان کی پن چکیاں قدیم طرزِ تعمیر کا شہکار ہیں. ہوا کے رخ کا ماہرانہ اندازہ لگایا گیا ہے. اسی طرح آنے جانے کے راستے اس کاریگری سے بنائے گئے ہیں، کہ آٹا انسانی پیروں سے خراب نہ ہو. اسی طرح آٹا جمع کرنے کے بھی بہترین انتظامات کئے گئے ہیں. اسے بنانے والے محنت کشوں کے ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے.

Tags:

BalochistanHistoryIranSestanSistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان میں افسران کی مراعات اقوام متحدہ کے اہلکاروں سے بھی زیادہ! تہلکہ خیز رپورٹ

Next

سمندر کے ساتھ انسانوں کا سمندر (گوادر کو حق دو تحریک کا جائزہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme