Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پاکستان کی طاقتور اشرافیہ اور نجی پاور کمپنیوں کی بہتی گنگا

By Akhtar Rasool
مئی 7, 2023 4 Min Read
0

ماہرین توانائی بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو پاکستانی معیشت کے لیے ایک سفید ہاتھی سے تعبیر کرتے ہیں، جو ملکی وسائل پر بری طرح حاوی ہے۔

پاکستان میں نجی پاور کمپنیوں کے بل ہمیشہ سے حکومتوں کے لیے درد سر رہے ہیں۔ وزارت توانائی نے حکومت سے ایک کھرب چوّن ارب روپے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ نجی پاور کمپنیوں کو مختلف مدوں میں ادائیگی کی جائے۔ اس میں وہ چینی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کو ڈھائی ارب ادا کیے جانے ہیں

اس صورتحال نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اگر پاکستان ان کمپنیوں سے جان نہیں چھڑاتا، تو اس پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھتا جائے گا اور اس کے امپورٹ بل میں بھی اضافہ ہوگا

واضح رہےکہ 1988ع کے بعد آنے والی حکومتوں نے نجی پاور کمپنیوں کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس نے سب سے پہلے ان کمپنیوں کو متعارف کرایا اور بعد میں تقریباً تمام حکومتوں نے انرجی پاور کمپنیوں کو سہولیات فراہم کیں اور ان سے مبینہ طور پر ایسے معاہدے کیے، جو آج بھی توانائی کے ماہرین کے خیال میں انتہائی غیر منصفانہ تھے اور جن سے پاکستان کو مستقل نقصان ہو رہا ہے

ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان گردشی قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے اور اس کی ایک وجہ یہی نجی پاور کمپنیاں ہیں، جو گنجائش کے مطابق بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، ان کو ایک معین مدت تک حکومت پیسے دینے کی پابند ہے

یہی وجہ ہے کہ ان کمپنیوں کی ادائیگی کا پہاڑ ہر سال چھ مہینے بعد کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ انکشاف کیا کہ حکومت کو صرف چینی نجی پاور کمپنیوں کے چار سو ارب روپے سے زیادہ ادا کرنے ہیں

ماہرین کے مطابق چینی نجی کمپنیوں نے یہ پاور پروجیکٹس چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) معاہدے کے تحت لگائے تھے۔ سی پیک کے تحت تکمیل پانے والے والے پاور پلانٹس میں ساہیوال کول پاور پلانٹ، بن قاسم کول پاور پلانٹ، چائنہ حب کول پاور پروجیکٹ، اینگرو تھر کول پاور پروجیکٹ، قائد اعظم سولر پارک، ہائیڈرو چائنا داؤد فارم اور دیگر شامل ہیں۔ ان کی تعداد چودہ ہے

سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور گوادر کول پاور پروجیکٹ ابھی زیر تعمیر ہیں، جب کہ سی پیک کے تحت مزید پانچ پرو جیکٹس زیرغور ہیں

بعض معاشی ماہرین پاکستان میں نجی پاور کمپنیوں کو پہلے ہی سفید ہاتھی قرار دیتے ہیں ہے، کیونکہ یہ حکومتی بجٹ کا ایک اچھا خاصا حصہ لے جاتی ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق حکومت قرضوں کی ادائیگی اور فوجی بجٹ کے بعد نجی پاور کمپنیوں یا توانائی کے شعبے پر سب سے زیادہ پیسہ خرچ کرتی ہے

معروف ماہر توانائی حسن عباس اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ کمپنیاں ایک سفید ہاتھی بن چکی ہیں

حسن عباس کا کہنا ہے ”1952 سے پاکستان میں کچھ ایسے افراد رہے ہیں، جنہوں نے اس طرح کے توانائی کے معاہدے کیے ہیں، جس سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔ دنیا جن پروجیکٹس کو ترک کر رہی ہے، ہم انہیں یہاں لگا رہے ہیں‘‘

حسن عباس کہتے ہیں ”ان منصوبوں کی وجہ سے پاکستان کو مالی طور پر بہت نقصان ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ سے تیل ہمیں بہت زیادہ امپورٹ کرنا پڑتا ہے، جو ڈالر میں خریدنا پڑتا ہے۔ جب کہ نجی کمپنیوں کو ادائیگی بھی ڈالر میں ہوتی ہے‘‘

حسن عباس کے مطابق ”جن لوگوں نے یہ معاہدے کیے، انہوں نے پاکستان کے مفاد کو پیش نظر نہیں رکھا۔ سولر سے سات روپے یا آٹھ روپے فی یونٹ میں بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان نجی کمپنیوں سے ہمیں بجلی بہت مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہے اور ان کمپنیوں میں چینی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔‘‘

خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں نجی پاور کمپنیوں کے پیچھے بااثر شخصیات ہیں اور اب چینی کمپنیاں بھی اس بزنس میں آگئی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے مالی مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ اس حوالے سےحکمران جماعت مسلم لیگ نون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں

سلمان شاہ کا کہنا ہے ”جس وقت یہ منصوبے لگائے جا رہے تھے، اس وقت نون لیگ نے یہ نہیں سوچا کہ سولر یا ماحول دوست دوست توانائی کے پروجیکٹس لگنے چاہیں۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے نجی پاور کمپنیوں سے معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن سلمان شاہ کے مطابق وہ بات چیت کامیاب نہیں ہو سکی

نجی پاور کمپنیوں کی ادائیگی اور گردشی قرضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان کبھی بھی ان کمپنیوں کی ادائیگی کے چکر سے نکل بھی سکے گا یا نہیں۔ حسن عباس کا خیال ہے کہ اس کا کوئی حل موجود نہیں ہے

وہ کہتے ہیں ”جب حکومت اس طرح کے معاہدے کرتی ہے، تو وفاقی حکومت کو اس کی ضمانت دینی ہوتی ہے۔ یا تو پاکستان کے پاس اتنے پیسے ہوں کہ وہ چینی یا دوسری کمپنیوں کے ہرجانے ادا کر کے ان معاہدوں سے نکل جائے۔ لیکن اگر ہرجانے ادا کیے بغیر ہی نکلتی ہے تو بین الاقوامی اداروں میں پاکستان پر مقدمہ ہوجائے گا، جس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘

Tags:

fitness pakistanisrael's education ministerlondon school of economics and political sciencemilitary industrial complexneoliberal development and its alternativespakistan generalspakistan latest newspakistani army generalspakistani generalpakistani generalsrubin reportrussell brandrussell brand interviewstrategy and futuresustainable communitiesthe rubin reportunderstanding college application processUnited States
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارتی ریاست منی پور میں نسلی فسادات کی آگ بھڑک اٹھنے کے پس منظر میں کیا معاملہ ہے؟

Next

’سُروں کے بادشاہ‘ استاد چاہت فتح علی خان ’عظیم کرکٹر‘ بھی رہ چکے ہیں!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme