Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پاکستان کی پہلی ڈجیٹل مردم شماری کیسے کی جائے گی؟

By Akhtar Rasool
فروری 23, 2023 3 Min Read
0

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک پاکستان میں ان دنوں ملک کی پہلی ڈجیٹل مردم شماری کے لیے تیاریاں ہو رہی ہیں۔ روایتی آدم شماری کے دوران استعمال ہونے والے کاغذ اور قلم کی بجائے اس بار ٹیبلیٹس اور آن لائن ایپلیکشنز کو استعمال کیا جائے گا

ملک بھر میں کی جانے والی اس مشق پر چونتیس ارب روپے لاگت آئے گی اور یہ باضابطہ طور پر یکم مارچ سے شروع ہو کر یکم اپریل تک مکمل ہو جائے گی

اس کے بعد ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) جسے قومی مردم شماری کرانے کا کام سونپا گیا ہے، کی جانب سے حتمی نتائج جاری کرنے میں مزید تیس دن لگیں گے

پاکستان میں اب تک 1951، 1961، 1972، 1981، 1998 اور سنہ 2017ع میں مردم شماری ہو چکی ہے

سنہ 2017ع میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً پونے اکیس کروڑ ہے

قبل ازیں روایتی طریقے کے تحت آدمشاری کے لیے متعلقہ عملہ ہر گھر کا دورہ کرکے کاغذی فارم بھرتا تھا، لیکن اگلے ماہ حکومتی نمائندے ہاتھوں میں ٹیبلیٹس لیے گھر گھر جا کر معلومات کا اندراج کریں گے

اس کے لیے ادارہ شماریات پاکستان نے ایک لاکھ 26 ہزار شمار کنندگان کی خدمات حاصل کی ہیں اور اتنے ہی ٹیبلیٹس خریدے ہیں

ہر شمار کنندہ مردم شماری کے دو بلاکس سے معلومات جمع کرنے کا انچارج ہوگا

واضح رہے کہ ب’بلاک‘ مردم شماری کے لیے جغرافیائی اکائی ہے، جو دو سو سے ڈھائی سو گھروں پر مشتمل ہے۔ اس وقت ملک میں مردم شماری بلاکس کی تعداد 185,509 ہے

حتیٰ کہ جو افراد قومی شناختی کارڈ نہیں بھی رکھتے انہیں بھی اس مردم شماری میں گنا جائے گا

ادارہ شماریات پاکستان کے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر کا کہنا ہے کہ عملہ ہر پاکستانی شہری سے ان کے رہن سہن، عمر اور جنس کے علاوہ دیگر معلومات لے گا، مثلاً ان کے گھر میں کمروں کی تعداد، بنیادی سہولیات، رہائش پذیر لوگوں کی تعداد وغیرہ

دیگر معلومات اس شخص کی تعلیم، ملازمت، مذہب اور اگر کوئی معذوری ہے تو اس کے بارے میں ہوں گی

ڈاکٹر نعیم الظفر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں آج تک ایک بھی معاشی مردم شماری نہیں کروائی گئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ملک کی نشوونما، ترقی اور منصوبہ بندی کے لیے معاشی مردم شماری بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر اس سے آپ کو پتا چلتا ہے کہ کن شعبوں میں حکومت کو روزگار بڑھانے میں مدد یا مزید انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

معاشی مردم شماری کسی بھی ملک کی معیشت کا ایک جامع پیمانہ ہے، جو اس کی صنعتوں متفرق شعبوں اور منڈیوں کے بارے میں اعدادوشمار فراہم کرتی ہے

پڑوسی ملک بھارت میں اب تک سات اقتصادی مردم شماری کروائی جا چکی ہے، جبکہ پاکستان نے ابھی تک ایک بھی نہیں کروائی

پی بی ایس پہلی بار ایسا ڈیٹا جمع کرنے جا رہا ہے، جس میں ملک میں موجود معذوری کی اقسام کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کی جائیں گی

خود شماری ایپ کیا ہے؟

وہ پاکستانی شہری، جو چاہتے ہیں کہ فیلڈ شمار کنندگان ان کے گھر نہ آئیں وہ اپنی تفصیلات درج کرانے کے لیے اپنے موبائل نمبروں کا استعمال کرتے ہوئے پی بی ایس کے بنائے ایک ویب پورٹل میں لاگ ان کر سکتے ہیں

ایک بار جب مذکورہ فرد مردم شماری کا فارم مکمل کر کے جمع کروا دے گا تو اسے ایک کیو آر (QR) کوڈ جاری کیا جائے گا

پھر جب کوئی فیلڈ شمار کنندہ اس کے گھر جاتا ہے تو اسے محض اس کوڈ کو سکین کروانا ہو گا تاکہ ڈیٹا کی تصدیق کا عمل شروع کیا جا سکے

ایک بار جب پی بی ایس اس ڈیٹا کی تصدیق کر لے گا تو اس شخص اور اس کے گھر والوں کا مردم شماری میں شمار ہو جائے گا

پی بی ایس نے اسلام آباد میں کورونا وائرس وبا کے عروج کے دوران قائم کیے گئے NCOC کی طرز پر ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا ہے

یہاں تک کہ اگر کسی علاقے میں رابطے کے مسائل کی بنا پر ٹیبیلٹس آف لائن بھی ہوں تو بھی مردم شماری کی معلومات جمع کی جائیں گی جنھیں بعد میں مرکزی کنٹرول روم کو منتقل کر دیا جائے گا

ڈاکٹر نعیم الظفر نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’پہلے ڈیٹا جمع کرنے میں بہت وقت لگتا تھا اور لیک ہونے کا بھی مسئلہ تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’پہلے معلومات کو مرتب کرنے میں برسوں لگ جاتے تھے اب ٹیکنالوجی کی بدولت یہ کام جلد ہو جائے گا۔‘

Tags:

7th digital census7th digital census 20237th digitized census pakistan7th pakistan digital population census information7th populations & housing digital censusCensuscensus 2022 pakistancensus digital datadigital censusdigital census 2022digital census 2023digital census devicedigital census of pakistandigital census systemfirst digital census of pakistanfirst digital cesus in pakistanpakistan digital censuswhat is digital census
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان: بدلتے موسموں کے باعث فروری کا شمار بھی گرم مہینوں میں ہونے لگا!

Next

نیند کے اوقات میں تبدیلی سے امراض قلب بڑھنے کا انکشاف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme