Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پلاسٹک کے ذرات اب پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچنے لگے

By Akhtar Rasool
اپریل 23, 2021 2 Min Read
0

آلودگیوں میں اب مائیکرو پلاسٹک سرِ فہرست ہیں، جو سمندر، خشکی اور ہوا میں تباہی پھیلا رہے ہیں

یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ پلاسٹک ہزاروں برس تک تلف نہیں ہوتا اور اس کے باریک ٹکڑے ماحول میں برقرار رہتے ہیں، اب معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک کے ذرات پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ رہے ہیں اور وہاں خلیات کو تبدیل بھی کر رہے ہیں

اس ضمن میں فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی (ایف ایس یو) نے پلاسٹک کے بڑے ٹکڑوں سے گھل کر خارج ہونے والے باریک ذرات کا ماحولیاتی جائزہ لیا ہے

حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ذرات ایورسٹ پہاڑ، قطبین اور انسانی فضلے میں بھی ملے ہیں

اب دنیا بھر میں مائیکرو پلاسٹک اور انسانی اثرات پر تحقیق ہورہی ہے۔ اس سے قبل سائنس بتاچکی ہے کہ پلاسٹک سازی میں استعمال ہونے والے کیمیکل دماغی خلیات کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ اب اس ضمن میں ایف ایس یو نے تجربہ گاہی تحقیق میں بتایا ہے کہ پلاسٹک کے خردبینی ذرات انسانی پھیپھڑوں تک پہنچ سکتے ہیں

سائنسدانوں ںے پیٹریائی ڈش میں انسانی پھیپھڑوں کے خلیات رکھے اور تصور کیا کہ اس طرح ہم سانس کے ذریعے باریک پلاسٹک پھیپھڑوں میں اتار رہے ہیں۔ انہوں نے پولی اسٹائرین کے چند ذرات انسانی پھیپھڑوں کے خلیات (سیلز) پر رکھے تو چند دن بعد عجیب ماجرا دیکھا

انہوں نے دیکھا کہ پلاسٹک کے ذرات نے ایک جانب تو پھیپھڑوں کے سیلز کی ظاہری شکل تبدیل کر دی اور سیلز کا میٹابولزم بھی سست پڑنے لگا۔ اگرچہ پلاسٹک سے سیلز مرے نہیں لیکن وہ نارمل بھی نہیں رہے

اسی کے ساتھ  دیکھا گیا کہ پھیپھڑے کے سیلز ایک دوسرے سے دور جانے لگے۔ پہلے وہ کسی چادر کی طرح قریب قریب تھے لیکن پلاسٹک کے ذرات نے ان کے درمیان فاصلہ پیدا کردیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ پلاسٹک کے ذرات نے سیلز کو ایک دائرے کی شکل میں گھیر لیا

تجربے سے وابستہ کیرسٹین گڈمین نے کہا کہ صرف 24 گھنٹے بعد ہی پلاسٹک نے سیلز کو گھیرنا شروع کر دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پلاسٹک پہلے سے متاثرہ افراد میں سانس کی بیماریاں پیدا کر سکتا ہے یا نہیں؟

ماہرین نے کہا کہ اگرچہ وہ خردبینی پلاسٹک کے انسانی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہتے تاہم یہ ضروری ہے کہ سانس کے مریضوں اور نشوونما سے گزرتے ہوئے بچوں پر ان کے منفی اثرات کا بھرپور جائزہ لیا جائے اور بھرپور تحقیق کی جائے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

چھ سال بعد ﻧﺎﺋﻦ ﺯﯾﺮﻭ ﺍٓﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯿﺲ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ، ملزمان بری

Next

واٹس ایپ پر پیسے مانگنے والا ’’سائبر بھکاری‘‘ دھر لیا گیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme