Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

پنجاب: سرکاری ہسپتالوں کو جعلی ادویات فراہم کرنے میں ملوث نیٹ ورک کا سراغ، کون سی دوائیں شامل ہیں؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 31, 2022 3 Min Read
0

پنجاب کے صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا ہے کہ ان کے محکمے کے ڈرگ کنٹرول ونگ نے بین الصوبائی سطح پر سرگرم ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے، جو پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کو غیر معیاری ادویات فراہم کرنے میں ملوث رہا ہے

پنجاب پی ایس ایچ ڈی کے سیکریٹری ڈاکٹر ارشد احمد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرگ کنٹرول ونگ نے ملاوٹ زدہ مختلف ادویات کا اسٹاک قبضے میں لے لیا ہے اور مجرموں کے خلاف تعزیری کارروائی شروع کر دی ہے

ڈاکٹر اختر ملک نے کہا پہلا کیس ایک مقامی صنعت کار کی جانب سے تیار کردہ دوا ’ایسیٹالوپرام‘ سے متعلق ہے، جس میں ایک غیر رجسٹرڈ دوا (سلڈینافل) کی ملاوٹ پائی گئی تھی

صوبائی وزیر نے بتایا کہ یہ دوائی صوبے کے تین سرکاری اسپتالوں کو فراہم کی گئی تھی، ڈرگ انسپکٹرز نے فوری طور پر مینوفیکچرنگ ایریا کے احاطے میں موجود اسٹاک سمیت ہسپتالوں اور ڈسٹری بیوٹرز کو سپلائی کیا گیا اسٹاک قبضے میں لے لیا

واضح رہے کہ ’ایسیٹالوپرام‘ ڈپریشن کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوائی ہے، جبکہ ’سلڈینافل‘ سے جنسی امراض کا علاج کیا جاتا ہے اور اسے ویاگرا کے برانڈ نام سے فروخت کیا جاتا ہے، پاکستان میں ویاگرا کی فروخت اور تقسیم غیر قانونی ہے

انہوں نے کہا کہ دوسرا کیس سرجیکل پراسیجر کے لیے اینستھیزیا میں استعمال ہونے والی دوائی ’آئسوفلورین‘ کی فراہمی سے متعلق ہے، یہ دوا لوکل پرچیز وینڈر (ایل پی وی) اور پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں کو فراہم کی جا رہی تھی

ڈاکٹر اختر ملک نے بتایا کہ ’ڈرگ ٹیسٹنگ لیب (ڈی ٹی ایل) کی جانچ سے یہ پتہ چلا ہے کہ سپلائی کی گئی مذکورہ دوائی جعلی اور ملاوٹ زدہ تھی اور اس میں آئسو فلورین کی بجائے کلوروفارم موجود تھا‘

انہوں نے مزید کہا کہ ڈرگز کنٹرول ٹیموں نے مذکورہ منشیات کی سپلائی میں بین الصوبائی سطح پر ملوث ایک گینگ کا پردہ فاش کیا، فیصل آباد اور راولپنڈی میں متعدد چھاپے مارے گئے اور ادویات کا بھاری ذخیرہ ضبط کر لیا

ڈاکٹر اختر ملک نے بتایا ’تیسرا کیس ایک مقامی مینوفیکچرر کی تیار کردہ دوا ’ٹائزینائڈائن‘ کی فروخت سے متعلق تھا، جانچ سے معلوم ہوا کہ اس گولی میں ’میٹرو نیڈازول‘ کی ملاوٹ تھی

انہوں نے کہا کہ چیف ڈرگز کنٹرولر پنجاب کی سربراہی میں ایک خصوصی ڈرگ کنٹرول ٹیم نے مذکورہ دوا کے تیار کنندگان پر چھاپہ مارا اور خلاف ورزی کرنے پر احاطے کو سیل کر دیا

صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈرگز کنٹرول ونگ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں جعلی ادویات قبضے میں لے کر مریضوں کی قیمتی جانیں بچالیں

انہوں نے کہا کہ محکمہ کے پاس پانچ آئی ایس او سرٹیفائیڈ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز ہیں، ان میں سے دو کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پری کوالیفائی کیا ہے جبکہ باقی لیبارٹریز مستقبل قریب میں ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفکیشن کا درجہ حاصل کر لیں گی، لہٰذا پنجاب میں موجود لیبارٹریز میں ٹیسٹنگ عالمی معیار کے مطابق ہے

انہوں نے کہا کہ سابقہ طرز عمل کے برعکس اس بار صحت کے مراکز نے دسمبر کے آخر تک ادویات کی خریداری مکمل کر لی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ڈینگی کنٹرول پروگرام میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے والی تقریباً چھ ہزار بوگس تعیناتیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، اس حوالے سے مزید تحقیقات کے لیے یہ کیس محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوا دیا گیا ہے

ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ کچھ عرصے سے گوداموں میں پڑے ایک سو نوے وینٹی لیٹرز ایک ہفتے کے اندر صحت کے مختلف مراکز بھجوا دیے گئے ہیں

اس موقع پر سیکریٹری صحت ڈاکٹر ارشاد احمد نے کہا کہ آؤٹ سورس موڈ کے ذریعے سی ٹی اسکیننگ سروسز کو بڑھایا جا رہا ہے اور ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی سطح پر ایم آر آئی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

Tags:

fake ayurvedic medicinefake medicinesfree medicine in all govt hospitalsfree medicine in all govt hospitals in punjabfree medicines in govt hospitalsGovernmentgovernment hospitalsgovt hospital scenegovt hospitalsgovt hospitals free medicinemedicinesno adequate free medicine in govt hospitalsnursing admission in government punjabPunjabpunjab hospital condition still worstpunjab's claim of free medicines
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

گوادر کے حالات میں بہتری کا دعویٰ، انٹرنیٹ اور موبائل سروس ’تاحال معطل‘

Next

’ناقابل فراموش ایڈونچر‘، رونالڈو کا سعودی عرب کے کلب ’ال نصر‘ سے معاہدہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme