Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پچیس لاکھ روپے تک قیمت والے تھر کے گھوڑے ناپید کیوں؟

By Akhtar Rasool
فروری 2, 2022 2 Min Read
0

عمرکوٹ – سندھ میں فصلیں اترنے کے بعد موسم سرما کے آغاز سے مختلف شہروں میں موجود درگاہوں پر میلے لگنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے

ان میلوں میں تفریح، کھانے پینے کے علاوہ مختلف اشیا کی خرید فروخت والی بازاروں کے ساتھ مویشیوں کی منڈی بھی لگتی ہے

ان منڈیوں میں گھوڑوں کی منڈی بھی مقبول ہے، جہاں اچھی نسل کے گھوڑے لاکر بیچے جاتے ہیں۔ ان گھوڑوں میں سے اکثریت تھر کے گھوڑوں کی ہوا کرتی تھی، مگر اب تھر کے گھوڑوں میں کمی آتی جا رہی ہے

تھر کول بلاک ون کے قریب واقع گاؤں سلیمان حجام کے رہائشی جِیئَن حجام گھوڑوں کے بیوپاری ہیں

جیئن حجام کا کہنا ہے کہ ’تھر میں انسانی آبادیاں ایک دوسرے سے دور ہوا کرتی تھیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے گھوڑوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ پکے راستے تھے اور نہ ہی گاڑیاں۔ اس لیے تھر میں بڑی تعداد میں گھوڑے پالے جاتے تھے۔‘

انہوں نے کہا ”مگر وقت کے ساتھ تھر میں روڈ تعمیر ہونا شروع ہوئے اور لوگوں میں خوشحالی آتی گئی تو لوگوں نے موٹرسائیکل اور گاڑیاں لینا شروع کردی، اس کے علاوہ بسیں بھی چلنے لگیں، تو آہستہ آہستہ گھوڑوں کے استعمال میں کمی آتی گئی۔“

جیئن حجام کے مطابق ”اس کے علاوہ گھوڑے کی خوراک کی قیمت بھی بڑھ گئی۔ باجرہ چار ہزار روپے من ہوگیا۔ تو لوگوں نے گھوڑے پالنا بند کردیے۔“

وہ کہتے ہیں ”اب تھر سے تقریباً گھوڑے غائب ہوگئے ہیں۔“

انہوں نے بتایا کہ قحط سالی کے باعث بہت فرق پڑا ہے۔ زیادہ تر گھوڑے قحط کے باعث ختم ہوئے۔ ریگستان میں غریب لوگ ہیں، جب ریگستان میں قحط سالی ہو تو گھوڑے کو کیا چرائیں؟ اس لیے آہستہ آہستہ گھوڑے کم ہوتے گئے

گھوڑوں کی مختلف نسلوں کے بارے میں بتاتے ہوئے جیئن حجام کا کہنا تھا کہ سندھی گھوڑے دیکھنے میں اتنے خوبصورت نہیں ہوتے، مگر ان کی رفتار بہترین ہوتی ہے۔ اس لیے گھر دوڑ اور ریس کے شوقین افراد سندھی گھوڑوں کو پسند کرتے ہیں۔ جب کہ نوکیلے شکل کے پتلے کانوں اور لمبے بالوں والا کاٹھیاواڑی یا مارواڑی گھوڑا جسے کُنڈھی کانوں والا گھوڑا بھی کہا جاتا ہے اور یہ گھوڑا امیر لوگ اپنے گھر یا مہمان خانے پر لوگوں کو دکھانے کے لیے خریدتے ہیں۔ مگر یہ گھوڑا دوڑنے میں اچھا نہیں

گھوڑوں کی قیمت کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیئن حجام نے کہا کہ گھوڑی کی نسل، خوبصورتی اور قد کاٹھ پر گھوڑے کی قیمت کا تعین ہوتا ہے۔ ’پچاس ہزار روپے سے پچیس لاکھ تک گھوڑے کی قیمت ہوتی ہے۔ تھر کے گھوڑے قیمتی سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب تھر میں گھوڑے ناپید ہوگئے ہیں.

Tags:

HorseSindhThar
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فیسبک میسنجر اب اسکرین شاٹ لینے پر الرٹ جاری کرے گا

Next

نواز شریف کو ممکنہ لاحق ہونے والی بیماری ٹاکٹسوبو سنڈروم کیا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme