Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

پڑوسی کہکشاں میں نایاب بلیک ہول دریافت

By Akhtar Rasool
جولائی 23, 2022 2 Min Read
0

جب ایک بڑا ستارہ مر جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ روایتی حکمت (اور مشاہداتی شواہد) کہتے ہیں کہ یہ گر کر ایک "سٹیلر ماس” بلیک ہول بن سکتا ہے۔ ماہرین فلکیات ان کے خارج ہونے والے ایکس رے شعاؤں کے ذریعے بلیک ہولز کا پتہ لگاتے ہیں

لیکن، اگر بلیک ہول ایکس رے کی شعاعیں خارج نہیں کر رہا تو کیا ہوگا؟ پھر، یہ واقعی ایک بہت ہی نایاب چیز ہوسکتی ہے: ایک غیر فعال بلیک ہول۔۔

جی ہاں سائنسدانوں نے ایک ایسا ’ڈورمنٹ بلیک ہول‘ دریافت کیا ہے، جو پہلے کبھی دریافت نہیں کیا گیا

واضح رہے کہ ’ڈورمنٹ بلیک ہول‘ وہ بلیک ہول ہیں، جو بڑے پیمانے پر ایکس رے شعائیں خارج نہیں کرتے

ایسا ہونا حیرت انگیز ہے، ماہرین فلکیات کی ایک ٹیم نے اسے دریافت کیا ہے، اسے VFTS 243 کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اسے ٹارنٹولا نیبولا میں ستاروں کے بہت بڑے ٹیلی اسکوپ مشاہدات میں، ہماری پڑوسی کہکشاں ’لارج میجیلینِک کلاؤڈ‘ میں پایا

محققین کے مطابق حاصل ہونے والے غیر متوقع ڈیٹا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ملکی وے کہکشاں کی پڑوسی کہکشاں ’لارج میجیلینِک کلاؤڈ‘ میں ایک اسٹیلر ماس بلیک ہول موجود ہے۔ وہ ستارہ جو اس بلیک ہول کا سبب بنا، وہ بغیر کسی طاقتور دھماکے کے ختم ہوا تھا

اگرچہ اس سے قبل بھی بلیک ہول دریافت ہوئے ہیں، لیکن محققین کے مطابق یہ بلیک ہول اپنی نوعیت کا علیحدہ بلیک ہول ہے

تحقیق کے ٹیم لیڈر اور مصنف ایمسٹرڈم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹومر شینار کہتے ہیں ”پہلی بار ہماری ٹیم کسی بلیک ہول کی دریافت کو مسترد کرنے کے بجائے اس کی تصدیق کے لیے ایک ساتھ بیٹھی“

محققین نے اس بلیک ہول کی تلاش کو انتہائی مشکل قرار دیا

اگرچہ وہاں اربوں بڑے پیمانے پر بلیک ہولز موجود ہیں، لیکن غیر فعال کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ ٹومر شینار نے کہا ”ہم نے ‘بھوسے کے ڈھیر میں سے سوئی ڈھونڈ نکالی ہے“

ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ ڈورمنٹ بلیک ہولز کی موجودگی کائنات میں نسبتاً عام ہے، لیکن ہم ان کے متعلق بہت کم جانتے ہیں اور ان کی مصدقہ مثالیں بہت نایاب ہیں

ان کی نشاندہی میں مشکلات کی وجہ یہ ہے کہ ڈورمنٹ ہونے کے سبب یہ اپنے اطراف سے زیادہ رابطے میں نہیں ہوتے

یہ نیا پایا جانے والا غیر فعال بلیک ہول ہمارے سورج کی کمیت کا کم از کم نو گنا ہے۔ یہ 10.4 دن کے مداری رقص میں ہے، جس میں ایک گرم، نیلا ستارہ سورج کی کمیت سے 25 گنا زیادہ ہے۔ بلیک ہول میں تقریباً 9 شمسی ماس ہوتے ہیں۔ اسے غیر فعال سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بڑی مقدار میں ایکس رے شعاعیں خارج نہیں کر رہا

Tags:

Black HolesDiscoveredGalaxyRare Black Holes
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

لاپتہ افراد: دھرنے کے شرکاء نے زیارت واقعے پر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر دیا

Next

پاکستانی سیاست، بندہ ہنسے کہ روئے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme