Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

پیوٹن کا جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان

By Akhtar Rasool
فروری 22, 2023 3 Min Read
0

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے منگل کو امریکہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے آخری بڑے معاہدے ’نیو سٹارٹ‘ کو معطل کرتے ہوئے مغرب کو ایک بار پھر یوکرین کے بارے میں خبردار کیا ہے

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ماسکو میں اپنی تقریر کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فوجی اور سیاسی اشرافیہ سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ پر یوکرین جنگ کو ’عالمی تنازع‘ میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا اور ساتھ ہی نیو اسٹارٹ معاہدے (اسٹریٹیجک اسلحے میں کمی کے معاہدے) میں روس کی شمولیت معطل کرنے کا اعلان کیا

سال 2010ع میں امریکہ کے سابق صدر براک اوباما اور ان کے روسی ہم منصب دمتری میدویدیف کے دستخط سے ہونے والے اس معاہدے کے تحت ان ممالک کے لیے سٹریٹجک جوہری ہتھیار تعینات کرنے کی تعداد مقرر کی گئی تھی۔ یہ معاہدہ جس کی مدت 2026ع میں ختم ہونے والی ہے، کے تحت امریکہ اور روس ایک دوسرے کے جوہری ہتھیاروں کی جانچ کر سکتے ہیں، تاہم یوکرین کے معاملے پر کشیدگی کے باعث یہ جانچ پہلے ہی نہیں ہو پا رہی

تاہم بعد ازاں روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے معاہدے میں بیان کردہ پابندیوں کی پاسداری جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے

ولادیمیر پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا: ’مغرب کی اشرافیہ اپنے مقصد کو نہیں چھپاتی، لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح سمجھتی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے۔‘

روسی صدر نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب یوکرین پر روسی حملے کو پورا سال ہونے والا ہے

انہوں نے کہا: ’وہ (مغربی ممالک) ایک مقامی تنازع کو عالمی محاذ آرائی کے مرحلے میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم اس سب کو یہی سمجھتے ہیں اور ہم اسی کے مطابق رد عمل دیں گے، کیونکہ یہاں ہم اپنے ملک کے وجود کی بات کر رہے ہیں‘

دوسری جانب پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں موجود جو بائیڈن نے یوکرین کی حمایت کا اعلان کیا، جس پر تقریباً ایک سال قبل 24 فروری کو روسی افواج حملہ آور ہوئی تھیں اور لڑائی کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

یوکرین کے دارالحکومت کیئف کے خفیہ دورے کے ایک روز بعد وارسا کے شاہی قلعے میں جوبائیڈن نے کہا: ’جب روس نے حملہ کیا، تو یہ صرف یوکرین کا امتحان نہیں تھا۔ پوری دنیا کو صدیوں کے امتحان کا سامنا ہے۔‘

امریکی صدر نے مزید کہا: ’ہاں، ہم خودمختاری کے لیے کھڑے ہوں گے اور ہم نے کیا۔ ہاں، ہم جارحیت سے آزاد رہنے کے لوگوں کے حق کے لیے کھڑے ہوں گے اور ہم نے یہ کیا ہے۔ ہم جمہوریت کے لیے کھڑے ہوں گے اور ہم نے یہ کیا۔‘

جوبائیڈن کا مزید کہنا تھا:’اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یوکرین کے لیے ہماری حمایت میں کوئی کمی نہیں آئے گی، نیٹو تقسیم نہیں ہوگا اور ہم تھکیں گے نہیں۔‘

امریکی صدر جوبائیڈن، روس کے اس دعوے کو مسترد کر تے آئے ہیں کہ مغربی اتحادی روس کو کنٹرول یا تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے روس پر انسانیت کے خلاف جرائم جیساکہ شہریوں کو نشانہ بنانے اور جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا

ماسکو نے یوکرین اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگی جرائم اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے سابقہ الزامات کی تردید کی ہے

ادہر امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کو ’انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینزسٹولٹن برگ نے کہا کہ اس سے دنیا مزید خطرناک جگہ بن گئی ہے۔ انہوں نے روسی صدر پر زور دیا کہ وہ اس (فیصلے) پر نظر ثانی کریں

اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ نیو سٹارٹ معاہدہ اور دیگر معاہدے عالمی سلامتی کے ڈھانچے کے لیے اہم ہیں

انہوں نے مزید کہا ’ان اہم معاملات پر متعلقہ فریقوں کو ایک اچھا حل تلاش کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہیے۔‘

Tags:

arms controlcold war nuclear treatyintermediate-range nuclear forces treatynuclear armsnuclear arms controlnuclear arms dealnuclear arms pactnuclear arms racenuclear arms treatynuclear start treatynuclear treatynuclear weaponsputin nuclear threatputin nuclear treatyrussia nuclearrussia nuclear weaponsrussian arms controlrussian nuclear treatyus russia arms control dealus russia nuclear armsviolation of a 1987 nuclear arms control
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

تنخواہ سے زیادہ چھٹی اہم، برطانیہ میں چار دن کام کا ’تجربہ‘ کامیاب

Next

سوزوکی نے گاڑیوں کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme