Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

چاند کے پار چلو.. جہاں آکسیجن تمام انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی!

By Akhtar Rasool
نومبر 13, 2021 2 Min Read
0

نیو ساﺅتھ ویلز : حال ہی میں نیو ساؤتھ ویلز کی سدرن کراس یونیورسٹی میں سوائل سائنس کے ماہر، آسٹریلوی سائنسدان جان گرانٹ کا ایک دلچسپ مضمون ’’دی کنورسیشن‘‘ ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے

جان گرانٹ نے اپنے دلچسپ مضمون میں لکھا ہے کہ چاند کی سطح پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں میں اتنی آکسیجن موجود ہے کہ وہ ایک لاکھ سال تک دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کے لیے کافی ہوگی

یعنی انسان اگر کوئی ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر لے، جو چاند کی مٹی اور پتھروں سے مؤثر طور پر آکسیجن الگ کرسکے تو چاند پر انسانی بستیاں بسانے کے خواب کو تعبیر دینا بھی بہت ممکن ہو جائے گا

اپنے مضمون میں جان گرانٹ نے چاند کے لیے مختلف عالمی اور علاقائی منصوبوں کا تذکرہ کرنے کے علاوہ چاند پر موجود آکسیجن کی مقدار کا بھی اندازہ پیش کیا ہے

انہوں نے لکھا ہے کہ چاند پر ہوا اتنی کم ہے کہ اسے نہ ہونے کے برابر سمجھا جاسکتا ہے۔ اس میں بھی زیادہ مقدار نیون، ہیلیم اور ہائیڈروجن گیسوں کی ہے

جان گرانٹ کے مطابق چاند کی سطح پر پھیلی ہوئی مٹی، پتھروں اور چٹانوں کو مجموعی طور پر ’’قمری غلافی چٹانیں‘‘ یا ’’مُون ریگولتھ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جن میں آکسیجن ضرور ہے لیکن معدنیات کے طور پر، آکسیجن کے مختلف مرکبات (آکسیجن کمپاؤنڈز) کی شکل میں

گرانٹ کا کہنا ہے کہ چاند کی غلافی چٹانوں میں 45 فیصد آکسیجن ہے لیکن اسے مرکبات سے آزاد کرکے خالص گیس کی حالت میں لانے کے لیے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوگی

تاہم اگر کسی طرح سے چاند پر اس توانائی کا بندوبست کرلیا جائے یا کوئی ایسا طریقہ ایجاد کرلیا جائے کہ جس سے کم توانائی خرچ کرکے معدنیات سے خالص آکسیجن گیس الگ کی جاسکے، تو چاند پر انسانی رہائش کے لیے آکسیجن کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے

گرانٹ کے مطابق، چاند پر ریگولتھ کے ہر مکعب میٹر میں 1400 کلوگرام معدنیات ہوتی ہیں جن میں اوسطاً 630 کلوگرام آکسیجن شامل ہوتی ہے

انہوں نے ناسا کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر انسان کو روزانہ سانس لینے کے لیے 800 گرام آکسیجن درکار ہوتی ہے، یعنی یہ 630 کلوگرام آکسیجن ایک انسان کے لیے دو سال تک کافی رہے گی

گرانٹ نے حساب لگایا ہے کہ اگر پورے چاند کی سطح پر صرف 10 میٹر گہرائی تک کھدائی کر کے ’’ریگولتھ‘‘ نکالی جائے اور اس سے آکسیجن بنائی جائے، تو اس کی مقدار اتنی زیادہ ہوگی کہ آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی رہے گی

دوسرے الفاظ میں ان کا کہنا ہے کہ چاند پر انسانی بستیاں بسانا ممکن ہے اور وہاں رہنے والے انسانوں کے لیے درکار تمام آکسیجن بھی چاند کی سطح پر موجود ریگولتھ کی معمولی مقدار سے حاصل کی جاسکتی ہے.

Tags:

MoonOxygen
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فاروق ستار کی عشرت العباد سے دبئی میں اہم ملاقات

Next

ایک پودے پر سب سے زیادہ اقسام کے پھل اگانے کا عالمی ریکارڈ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme