Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

چین: جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ممکنہ مہلک نیا وائرس دریافت

By Akhtar Rasool
اگست 12, 2022 2 Min Read
0

میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے ایک ممکنہ مہلک نیا وائرس دریافت کیا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ چوہے جیسے ایک جانور، شریوز، سے انسانوں میں منتقل ہوا

’تائی پے ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تائیوان کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کا کہنا ہے کہ لینگیا ہینیپا وائرس، جسے ’لینگیا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، سے پینتیس افراد متاثر ہوچکے ہیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی شخص ہلاک یا سنگین بیماری کا شکار نہیں ہوا

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ وائرس اب تک چین کے شانڈونگ اور ہینان صوبوں میں پایا گیا ہے اور ابھی تک اس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی

اطلاعات کے مطابق چھبیس مریضوں کو فلو جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں بخار، تھکاوٹ، کھانسی، سر درد اور قے شامل ہیں

نیا وائرس ہینیپا وائرس خاندان سے ہے، جس میں پہلے سے شناخت کیے گئے دو وائرس ہینڈرا وائرس اور نپاہ وائرس ہیں

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس کی کوئی ویکسین نہیں ہے اور شدت اختیار کرنے کی صورت میں اس سے ہلاکتوں کی شرح پچھتر فیصد تک ہوسکتی ہے

واضح رہے کہ نئے ہینیپا وائرس کا ذکر ’چین میں فیبرائل مریضوں میں زونوٹک ہینیپا وائرس‘ کے عنوان سے چھپنے والی ایک تحقیق میں بھی کیا گیا تھا، جو گذشتہ ہفتے ’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘ میں شائع ہوئی تھی

اس میں لکھا گیا ہے: ”مریضوں میں کوئی قریبی رابطہ یا خطرے کی علامات نہیں تھیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی آبادی میں کہیں کہیں انفیکشن ہوسکتا ہے“

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جنگلی چھوٹے جانوروں کی پچیس اقسام کے ٹیسٹ میں سے یہ وائرس بنیادی طور پر شریوز میں (27 فیصد) پایا گیا

مطالعے میں مزید کہا گیا: ”یہ ایک ایسی دریافت ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ قدرتی طور پر یہ ناول لینگیا ہینیپا وائرس (LayV) شریو میں ہو سکتا ہے“

Tags:

animalsChinahumansVIRUS
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جنوبی کوریا: سام سنگ کے مالک کو صدارتی معافی مل گئی

Next

بیٹی نے ڈھونگی عامل کے ساتھ مل کر ماں سے 14 کروڑ ڈالر کیسے بٹورے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme