Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

ڈنمارک: کوپن ہیگن کے مال میں فائرنگ، تین افراد ہلاک

By Akhtar Rasool
جولائی 4, 2022 4 Min Read
0

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے ایک مصروف مال میں اتوار کو ایک شخص نے فائرنگ کرکے تین افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے بتایا ”فائرنگ کرنے والے بائیس سالہ ڈینش نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، لیکن اس کے محرکات واضح نہیں ہوسکے“

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں دہشت گردی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا

کوپن ہیگن پولیس کے سربراہ سورین تھامسن نے کہا ”ابتدائی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ مقصد واضح نہیں، لیکن یہ ’دہشت گردی کی کارروائی‘ ہو سکتی ہے“

حملہ آور کے بارے میں ابتدائی طور پر خیال کیا جا رہا ہے کہ اس نے اکیلے ہی کارروائی کی تھی

کوپن ہیگن پولیس کے سربراہ سورین تھامسن نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ”وہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جسے ہم خاص طور پر جانتے ہیں“

فروری 2015ع کے بعد ڈنمارک میں فائرنگ کا یہ پہلا غیر معمولی واقعہ ہے

عینی شاہدین کے مطابق نوجوان، جو ایک بڑی رائفل سے لیس تھا، کو پولیس نے شہر کے مرکز اور کوپن ہیگن ہوائی اڈے کے درمیان واقع بڑے فیلڈز شاپنگ مال میں پہنچنے کے فوراً بعد پرامن طریقے سے گرفتار کر لیا تھا

تھامسن نے کہا ”تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہیں، جن میں سے تین کی حالت نازک ہے“

ہلاک ہونے والے افراد میں سے ایک کی عمر چالیس سال تھی جبکہ دو نوجوانوں کی عمریں نہیں بتائی گئیں

گرفتاری کی فوٹیج میں ملزم کو دیکھا جاسکتا ہے، جس نے ڈی این اے شواہد کو محفوظ رکھنے کے لیے سفید جمپ سوٹ پہنا ہوا ہے

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کے پیچھے نسل پرستی کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، تاہم پولیس کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے ”میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے پاس اس وقت کوئی ایسے شواہد موجود ہیں، جو اس بات کی تائید کرتے ہوں“

تاہم پولیس نے تصدیق کی کہ وہ آن لائن پوسٹ کی جانے والی وڈیوز کی چھان بین کر رہے ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم اپنی رائفل سے اپنے سر کا نشانہ لے رہا ہے

جائے وقوعہ سے پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو لے کر عمارت سے بھاگ رہے ہیں، جبکہ لوگوں کو اسٹریچر پر ڈال کر ایمبولینسوں کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے

واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا کہ کس طرح حملہ آور نے لوگوں کو یہ کہہ کر دھوکہ دینے کی کوشش کی کہ اس کا ہتھیار جعلی ہے، تاکہ وہ اس کے قریب آ سکیں

ایک گواہ نے سرکاری ٹیلی ویژن ڈی آر کو بتایا ”وہ کافی حد تک نفسیاتی تھا کہ جا کر لوگوں کو نشانہ بنا سکتا تھا، لیکن وہ بھاگ نہیں رہا تھا“

دیگر عینی شاہدین نے ڈنمارک کے میڈیا کو بتایا کہ جب گولیاں چلیں تو انہوں نے سو سے زائد لوگوں کو مال سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا

ایک عینی شاہد ازابیلا نے پبلک براڈکاسٹر ڈی آر کو بتایا ”ہم نے اچانک گولیوں کی آوازیں سنیں۔ میں نے دس گولیوں کی آواز سنی اور ہم ٹوائلٹ میں پناہ لینے کے لیے بھاگے“

انہوں نے بتایا کہ وہ دو گھنٹے تک مال میں چھپی رہیں

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آور براہ راست لوگوں پر گولیاں چلا رہا تھا۔ ’وہ فرش یا چھت کی جانب فائرنگ نہیں کر رہا تھا‘

دیگر عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور کا قد تقریباً پانچ فٹ نو انچ تھا، جس کے پاس شکاری رائفل تھی

اس شاپنگ مال، جو کہ ڈنمارک کے بڑے شاپنگ سینٹرز میں شمار ہوتا ہے، میں یہ حملہ اتوار کو شام ساڑھے پانچ بجے ہوا

فیلڈز مال میں کل 140 دکانیں اور ریسٹورنٹس ہیں اور یہ دارالحکومت کے نواح میں۔ یہ سب وے لائن کے قریب ہے جو اسے شہر کے مرکز سے ملاتی ہے

ایک میل سے بھی کم فاصلے پر رائل ارینا ہے جہاں ایک وقت میں سترہ ہزار افراد اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اسی مقام پر کچھ دیر میں شروع ہونے والا برطانوی سنگر ہیری سٹائلز کا کنسرٹ ملتوی کر دیا گیا۔ واقعے کے وقت وہاں بھی لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی

سویڈن کے رہائشی تریپن سالہ ہنس کرسچن سٹولز نے اے ایف پی کو بتایا ”میری بیٹیوں کو ہیری سٹائلز کو دیکھنے جانا تھا۔ انہوں نے مجھے یہ بتانے کے لیے فون کیا کہ کوئی فائرنگ کر رہا ہے۔ جب یہ واقعہ ہوا تو وہ ایک ریستوران میں تھیں“

ان کی بیٹی کیسنڈرا نے بتایا: ’ہم نے پہلے سوچا کہ لوگ ہیری سٹائلز کو دیکھنے کے لیے بھاگ رہے ہیں، پھر ہمیں سمجھ آئی کہ یہ لوگ گھبرا کر بھاگ رہے ہیں۔۔ ہم بھی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے۔‘

دوسری جانب گلوکار سٹائلز نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا: ’میں کوپن ہیگن کے لوگوں کے لیے دل شکستہ ہوں۔ میں اس شہر کو پسند کرتا ہوں۔‘

یہ حملہ اس سال ٹور ڈی فرانس سائیکلنگ مقابلوں کے کوپن ہیگن سے شروع ہونے کے دو دن بعد ہوا ہے

ٹور کے منتظمین نے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا: ’ٹور ڈی فرانس کا پورا کارواں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ دلی تعزیت کرتا ہے۔‘

واقعے کے بعد وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے ایک بیان میں کہا: ’ڈنمارک کو اتوار کی رات ایک ظالمانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ متعدد ہلاک ہو گئے اور اس سے بھی زیادہ زخمی ہوئے۔ بے گناہ خاندان خریداری کر رہے تھے یا باہر کھانا کھا رہے تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمارا خوبصورت اور اتنا محفوظ دارالحکومت ایک سیکنڈ میں بدل گیا تھا۔‘

ڈنمارک کے شاہی خاندان نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہمدردی متاثرین، ان کے لواحقین اور اس سانحے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہے

ڈنمارک کے شاہی خاندان نے ایک استقبالیہ بھی منسوخ کر دیا جس کی میزبانی کراؤن پرنس فریڈرک نے کرنا تھی۔

Tags:

CopenhagenDenmarkFiringThree killed
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستانی فلمساز آسکر میں نامزد دستاویزی فلموں کے لئے بطور جج مدعو

Next

محمد زبیر: بھارتی عدالت کا فیصلہ لیک ہونے پر تنازع کھڑا ہو گیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme