Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینماحولیات

ڈولفن اپنے علاج کے لیے سمندر میں کون سے ہسپتال جاتی ہیں؟

By Akhtar Rasool
مئی 23, 2022 2 Min Read
0

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندر میں میلوں پھیلی ہوئی مونگے اور مرجانی چٹانیں (کورل ریفس) بعض جانوروں کے لیے ہسپتال کا کام کرتے ہیں۔ بالخصوص جلد کی بیماریوں میں مبتلا ڈولفن یہاں آکر خود کو رگڑتی ہیں اور صحتیاب ہو کر لَوٹتی ہیں

جی ہاں، جلد کے انفیکشن اور خارش کے لیے جس طرح ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں یا کوئی مرہم لگاتے ہیں بلکل ویسے ہی جلد کی خارش یا کسی اور بیماری میں ڈولفن مونگے اور مرجانی چٹانوں کا رخ کرتی ہیں۔ وہاں ناک سے دُم تک اپنا بدن رگڑتی ہیں اور یوں وہ صحتیاب ہو جاتی ہیں

یہ حیرت انگیز تحقیق زیورخ یونیورسٹی کی اینجلا زلٹنر نے کی ہے، جس کی تفصیل آئی سائنس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے

ان کے مطابق شاید مرجانی چٹانوں میں کوئی خاصیت ہے یا پھر وہاں موجود حشرات جلدی بیماری دور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

ڈاکٹر اینجلا نے تیرہ برس قبل مصر میں ڈولفن کو کورل ریفس پر لوٹتے ہوئے دیکھا تھا، جو اس سے قبل کسی ماہر کی نظر سے نہیں گزرا تھا۔ وہ اس کی وجہ جاننے میں لگ گئیں اور معلوم ہوا کہ بیمار ڈولفن مخصوص مونگوں کے پاس ہی جاتی ہیں

اس کے بعد سمندر میں اتر کر انہوں نے ڈولفن کا مشاہدہ کیا اور اس عمل کو قریب سے دیکھا۔ اب جس حصے پر ڈولفن جا رہی تھیں، اینجلا نے ان کے نمونے لیے اور تجربہ گاہ میں ان کا تجزیہ کیا

بالخصوص جورجونیئن کورل، لیدر کورل ایک خاص طرح کی اسفنج کا جب ماس اسپیکٹرومیٹر سے تجزیہ کیا گیا تو ان تینوں میں کل سترہ اجزا ملے، جو بیکٹیریا اور وائرس کش ہیں، سوزش دور کرتے ہیں اور زہر (ٹاکسک) کو زائل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں ہارمون اور اینٹی آکسیڈنٹ سے وابستہ خواص بھی ہوتے ہیں

ماہرین کا خیال ہے کہ کورل کی سطح پر موجود طبی خواص والے اجزا جب ڈولفن کی جلد پر لگتے ہیں، تو وہ گویا مرہم بن کر ان کی بیماری دور کرتے ہیں، ان میں بیکٹیریا انفیکشن سے بچاؤ بھی شامل ہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی مرجانی چٹانوں کے اطراف میں ڈولفن زیادہ پائی جاتی ہیں اور کورل ان کے لیے شفاخانوں کا کام کرتے ہیں

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ خاص مرجانی چٹانوں کا تحفظ بہت ضروری ہے ورنہ ڈولفن بیمار ہونے کی صورت میں ان کی حالت مزید ابتر ہوسکتی ہے.

Tags:

Corel ReefDolphinTreatment
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

حبیبہ پیر، فیاض علی سمیت سات لاپتہ بلوچ افراد کی واپسی

Next

پاکستان کو ماحولیاتی بحران کی بھاری معاشی قیمت ادا کرنی ہوگی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme