Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

ڈپریشن کا علاج: نئی تحقیق نے پرانا نظریہ ہی بدل کر رکھ دیا!

By Akhtar Rasool
اگست 6, 2022 3 Min Read
1

عام طور پر ڈپریشن کی وجہ دماغ میں سیروٹونین کی کم سطح کو قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم ایک تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ڈپریشن کا نیورو ٹرانسمیٹر سیروٹونین سے کوئی زیادہ لینا دینا نہیں

آپ نے یقیناً ڈپریشن کی وجہ سمجھنے کے لیے ‘کیمیائی عدم توازن کے نظریے‘ کے بارے میں سنا ہوگا، جس کے مطابق دماغ میں نیوروٹرانسمیٹر سیروٹونین یا 5-HT کی سطح میں کمی ڈپریشن کے مرض کا باعث بنتی ہے

اس نظریے کا آغاز 1960ع کی دہائی میں ہوا، جب ڈاکٹرز نے موڈ بہتر کرنے کے لیے ادویات کا استعمال کیا

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ سیروٹونین کی سطح میں اضافہ کر کے کسی مریض کا موڈ بہتر کیا جا سکتا ہے۔ تب سے اسے ڈپریشن کی سادہ سی وضاحت سمجھ لیا گیا اور اسی کی بنیاد پر ڈپریشن کے علاج کے لیے ایس ایس آر آئی (سیلیکٹیو سیروٹونین ریوپٹیک اِنہیبیٹر) ادویات مثلاﹰ پروزیک دی جانے لگی، جو دماغ میں سیروٹونین کی سطح میں اضافہ کرتی ہے

تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے سے مانا جانے والا یہ نظریہ اس پیچیدہ معاملے کا درست انداز نہیں

تازہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سیروٹونین کی سطح میں کمی کے ڈپریشن کی بیماری سے کسی تعلق کے ‘کوئی واضح شواہد نہیں‘ ملے ہیں

اس مطالعے میں تین سو اکسٹھ سائنسی مطالعاتی رپورٹوں کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ ڈپریشن اور خون میں سیروٹونین کی سطح کے درمیان کوئی تعلق نہیں دیکھا گیا

مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محققین کو ڈپریشن کے حامل افراد اور عام افراد کے دماغوں میں سیروٹونین ریسپٹرز اور ٹرانسپورٹرز کی موجودگی کے درمیان کوئی فرق نہیں ملا

یونیورسٹی کالج لندن کے محقق اور کنسلٹنٹ ماہر نفسیات مائیکل بلوم فیلڈ کے مطابق، ”ڈپریشن کی کئی علامات ہوتی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اب تک میں نے ایسا کوئی واقعی سنجیدہ سائنسدان دیکھا ہو، جو ڈپریشن کی وجہ ایک سادہ سے کیمیائی عدم توازن کو سمجھتا ہو‘‘

گو ماہرین اس مطالعاتی رپورٹ کے نتائج پر حیران نہیں ہیں، تاہم کئی افراد سیروٹونین کے ڈپریشن میں کردار سے متعلق ان نتائج سے اتفاق کرنے کے لیے بلکل بھی تیار نہیں

بلوم فیلڈ کے مطابق، ”ممکن فقط یہ ہے کہ بعض افراد میں بعض طرز کے ڈپریشن میں شاید کہیں سیروٹونین نظام میں اونچ نیچ سے ان کی ڈپریشن کی علامات پر کچھ فرق پڑتا ہو۔ تاہم اس سلسلے میں مسئلہ یہ ہے کہ ڈپریشن جیسے معاملے کو ایک سادہ سے کیمیائی عدم توازن کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرنا، طبی تصور میں بالکل کوئی معنی نہیں رکھا‘‘

اس تازہ مطالعاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پروزیک طرز کی ایس ایس آر آئی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات، جو دماغ میں سیروٹونین کی سطح کم ہونے سے روکتی ہیں، ڈپریشن کے علاج کے طور پر استعمال نہیں کی جانی چاہییں

رپورٹ کے مطابق یہ ادویات ڈپریشن کے علاج کے لیے بالکل بھی کارآمد نہیں ہیں، خصوصاً اگر کسی مریض کو درمیانے یا شدید درجے کے ڈپریشن کا مرض لاحق ہو

مطالعاتی رپورٹ کے محققین نے لکھا ہے کہ کیمیائی عدم توازن کا نظریہ علاج کی تکمیل کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور یوں کسی شخص کے عمر بھر ان ادویات پر انحصار کا راستہ کھل جاتا ہے

دوسری جانب یو سی ایک جینیٹک انسٹیٹیوٹ برطانیہ سے وابستہ اعزازی پروفیسر ڈیوڈ کُٹریس نے اس مطالعے کے نتائج پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے ”شدید ڈپریشن میں مبتلا افراد کی ادویات کے استعمال کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہیے“

انہوں نے کہا ”یہ بہت واضح ہے کہ ڈپریشن کی بیماری دماغ کی فعالیت میں کسی نہ کسی خلل کا نتیجہ ہے، ہم فی الحال اس کے اصل محرکات سے واقف نہیں ہیں، مگر اینٹی ڈپریسنٹ شدید ڈپریشن میں مبتلا افراد کے لیے مناسب علاج ہیں‘‘

ڈپریشن کیوں ہوتا ہے؟

یہ نئی تحقیق یہ تو بتاتی ہے کہ سیروٹونین کا ڈپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہے، تاہم اس کا کوئی متبادل فراہم نہیں کرتی۔ اس تازہ رپورٹ کے مطابق ڈپریشن ایک پیچیدہ حالت ہے، جس کے محرکات کئی طرح کے ہو سکتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زندگی میں برے واقعات اور ان سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات، ڈپریشن پر گہرے اثرات کے حامل ہیں۔ ماہرین نے دماغی تناؤ کو بھی ڈپریشن کی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔

Tags:

DepressionNew Research DepressionNew Theory
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ہیروشیما، ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملوں کے دوران زندہ بچ جانے والی جاپانی خواتین نے کیا دیکھا؟

Next

پیرس کا انقلاب

One Comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme