Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ڈیرہ اللہ یار میں سیلاب سے اموات: ”میتوں کو پانی سے نکال کر پانی میں ہی دفنا دیا“

By Akhtar Rasool
ستمبر 4, 2022 3 Min Read
0

پاکستان کے بیشتر علاقوں میں جہاں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے، وہیں بلوچستان کے چونتیس اضلاع میں سے اکتیس یا تو مکمل یا پھر جزوی طور پر ڈوب چکے ہیں

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ضلع جعفر آباد کا 92 فیصد علاقہ اس وقت پانی میں ڈوبا ہوا ہے

جعفرآباد کے علاقے ڈیرہ اللہ یار سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ایک گاؤں میں سیلاب کے باعث ایک ہی خاندان کے پانچ افراد چل بسے

میر خان نامی یہ گاؤں ضلع جعفر آباد کے شہر ڈیرہ اللہ یار سے تقریباً اَسی کلومیٹر دور واقع ہے

اسی گاؤں کے باسی ارباب خان حالیہ سیلاب میں اپنے خاندان کے پانچ افراد کو کھو چکے ہیں

انہوں نے بتایا ”تقریباً دو ماہ سے بارشیں جاری تھیں، جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ جب سیلاب کا پانی ہمارے گاؤں میں داخل ہوا تو ہم اس وقت کچے گھر میں رہائش پذیر تھے۔ کچا گھر گر جانے کے ڈر سے ہم اپنے خاندان کو لے کر اپنے دوسرے گھر میں لے آئے، جو پکا تھا“

ارباب نے بتایا ”رات دو بجے کے قریب ایک زوردار آواز آئی، جس کے ساتھ میرے گھر کی چھت گر گئی۔ یہ وہ وقت تھا، جب سب سو رہے تھے۔ چھت گرتے ہی میں گھر والوں کو بچانے کے لیے بہت مشکل سے نکل کر اٹھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پہلے کس کو بچاؤں“

ارباب نے رندھی ہوئی آواز میں بتایا کہ اس واقعے میں ان کی چھ ماہ کی بچی، اڑھائی سالہ جڑواں بچیاں، اٹھائیس سالہ بیوی اور سترہ سالہ بھائی چل بسے

انہوں نے بتایا ”جس وقت یہ سب ہوا تب میرے ساتھ میری بیٹی سوئی ہوئی تھی۔ میں اکیلا پریشان حالت میں ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔کسی کو کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ میری والدہ بچ گئیں۔ میں مرنے والوں کو تقریباً اڑھائی گھنٹے تک ملبے سے نکال نہیں سکا“

ارباب واقعے کی روداد سناتے ہوئے بار بار چھت کو دیکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا ”اللہ کا شکر ہے گاؤں میں کسی اور کا جانی نقصان نہیں ہوا۔۔۔ لیکن میرا ہوا“

انہوں نے بتایا ”ہمیں میتوں کو نکالنے میں تقریباً اڑھائی گھنٹے لگے۔ قریب ہی میرے کزن کا پکا گھر تھا، وہ گھر سیلاب سے نہیں گرا لیکن اس میں پانی موجود تھا۔ میتیں نکال کر ہم نے ان کے گھر چارپائی پر رکھ دیں۔ جہاں ہمارا قبرستان ہے وہاں بھی پانی تھا۔ میتوں کو پانی سے نکال کر ہم نے پانی میں دفنا دیا“

ارباب اس وقت اپنے والدین اور بچی کے ساتھ چادروں سے بنائے گئے ایک ٹینٹ میں مقیم ہیں

انہوں نے بتایا ”ہمارے پاس دفنانے کی بھی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ گھر تو گر گیا اور گھر والے بھی مر گئے، لیکن اب ہم جس حال میں رہ رہے ہیں، وہ آپ دیکھ سکتے ہیں“

اس گفتگو کے دوران ارباب کی بیٹی مسلسل روتی رہیں۔ ارباب کی والدہ نے بتایا ”بچی اس لیے رو رہی ہے کیونکہ اس کی والدہ چل بسی ہیں اور اس کو پلانے کے لیے دودھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے پاس بکریاں ہیں لیکن سیلاب کے بعد چارہ نہ ہونے کی وجہ سے بکریاں بھی دودھ دینا چھوڑ گئی ہیں۔ چونکہ بچی کی دودھ کے علاوہ کچھ اور پینے کی عمر نہیں ہے، اسے مجبوراً گندا پانی اور تھوڑی روٹی کھلانی پڑتی ہے“

انہوں نے بتایا کہ پندرہ دن گزر گئے، اتنا بڑا حادثہ ہو گیا لیکن ان کی امداد کرنے کوئی نہیں آیا

”پورے کا پورا گھر تباہ ہو گیا، بس یہ بچی بچ گئی، کوئی چیز بھی نہیں بچی۔ اتنی بڑی قیامت گزر گئی لیکن مدد کرنے کو کوئی نہ پہنچا۔ میرا سب کچھ چلا گیا، میرا گھر تباہ ہو گیا، ہم نے ملبہ ہٹا کر چارپائیاں نکالیں۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے، بس میرے بچے بچ جاتے۔۔۔ ایسی آفت آئی کہ ملبے سے باہر کوئی زندہ نہ نکل سکا“

Tags:

BalochistanDeathsFloodSindh
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

لندن سے چوری کی گئی بینٹلے ملسین کار کراچی سے برآمد ہونے کی دلچسپ روداد

Next

ہمارا نوجوان بے ہودگی کی اس نہج پر اچانک نہیں پہنچا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme