Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

ڈینگی بخار کی علامات جانیے اور محفوظ رہیے

By Akhtar Rasool
اکتوبر 13, 2021 3 Min Read
0

کراچی : ڈینگی بخار دنیا بھر میں مچھروں سے سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے، جو چار اقسام کے ڈینگی وائرسز کا نتیجہ ہوتی ہے. پاکستان میں اس وقت مختلف شہروں میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال چالیس کروڑ افراد کو ڈینگی انفیکشنز کا سامنا ہوتا ہے جن میں سے نو کروڑ ساٹھ لاکھ افراد بیمار ہوتے ہیں

ڈینگی بخار مچھروں کی ایک قسم Aedes کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو خود ڈینگی وائرس سے متاثر ہوتا ہے اور کاٹنے کے بعد خون میں وائرس کو منتقل کر دیتا ہے، مگر یہ بیماری ایک سے دوسرے فرد میں براہ راست نہیں پھیل سکتی۔

ڈینگی بخار کے نقصانات سے بچنے کے لیے اس کی علامات کا جاننا بہت ضروری ہے، جو عموماً بیمار ہونے کے بعد چار سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں، اور اکثر دس دن تک برقرار رہتی ہی

ان علامات میں اچانک تیز بخار، شدید سردرد، آنکھوں کے پیچھے درد، جوڑوں اور مسلز میں شدید تکلیف، تھکاوٹ، قے، متلی، جلد پر خارش (جو بخار ہونے کے بعد دو سے پانچ دن میں ہوتی ہے) خون کا معمولی اخراج (ناک، مسوڑوں سے یا آسانی سے خراشیں پڑنا) قابل ذکر ہیں

اکثر اوقات علامات کی شدت معمولی ہوتی ہے اور انہیں فلو یا کسی اور وائرل انفیکشن کا نتیجہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے

چھوٹے بچوں اور ایسے افراد جو پہلے ڈینگی سے متاثر نہ ہوئے ہوں، ان میں بیماری کی شدت زیادہ عمر کے بچوں اور بالغ افراد کے مقابلے میں معمولی ہوتی ہے

مگر سنگین مسائل کا خطرہ ہر مریض میں ہوسکتا ہے جیسے ڈینگی ہیمرج بخار جو بہت تیز بخار کی ایک پیچیدگی ہے، لمفی اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنا، ناک اور مسوڑوں سے خون بہنا، جگر بڑھ جانا اور گردشی نظام فیل ہونا

سنگین علامات کے نتیجے میں خون کا اخراج بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے اور موت کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے

جبکہ کمزور مدافعتی نظام کے مالک افراد یا دوسری یا کئی بار ڈینگی کا سامنا کرنے والے لوگوں میں ڈینگی ہیمرج بخار کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے

اگر بات کی جائے ڈینگی کی تشخیص اور علاج کی تو ڈاکٹر ڈینگی کی تشخیص ایک بلڈ ٹیسٹ سے کر سکتے ہیں

ابھی ڈینگی انفیکشن کے علاج کے لیے کوئی مخصوص دوا موجود نہیں اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو ڈینگی ہے، درد کش ادویات جیسے پیراسیٹامول استعمال کرسکتے ہیں مگر اسپرین سے گریز کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہ خون کو پتلا کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے  خون کا اخراج بدتر ہو سکتا ہے

مریضوں کو آرام، زیادہ پانی پینے اور ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور اگر بخار کم ہونے کے بعد اولین 24 گھنٹوں میں حالت زیادہ خراب محسوس ہو تو فوری ہسپتال جاکر معائنہ کرانا چاہیے. پاکستان میں ڈینگی کی وجہ سے پلیٹلیٹس کم ہونے پر پپیتے کے پتوں کے رس کا استعمال بھی کیا جاتا ہے، جسے مشاہداتی سطح پر موثر پایا گیا ہے

ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ابھی کوئی ویکسین دستیاب نہیں تو اپنے تحفظ کے لیے موسکیٹو ریپیلنٹس کا استعمال کریں چاہے گھر یا دفتر سے باہر ہو یا چار دیواری کے اندر، گھر سے آستینوں والی قمیض اور پیروں میں جرابیں پہنے، گھر میں اے سی ہو تو اسے چلائیں، کھڑکیاں اور دروازوں میں مچھروں کی آمد روکنا یقینی بنائیں، اے سی نہیں تو مچھروں سے بچاؤ کے نیٹ استعمال کریں

کچھ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈینگی پھیلانے والا مچھر زیادہ اونچا نہیں اڑتا، اس لیےوہ زیادہ تر جسم کے نیچے والے حصے پر زیادہ کاٹتا ہے، اس لیے وہ تجویز کرتے ہیں کہ گھٹنوں سے لے کر پیروں تک ٹانگوں پر ناریل کا تیل لگانے سے بھی ہم ڈینگی کے کاٹنے کے خطرے سے کسی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں

اسی طرح مچھروں کی آبادی کم کرنے کے لیے ان کی افزائش کی روک تھام کی تدابیر پر عمل کریں جیسے پرانے ٹائروں، گلدان اور دیگر میں پانی اکٹھا نہ ہونے دیں۔ واضح رہے کہ اس مچھر کی افزائش صاف پانی میں زیادہ ہوتی ہے.

Tags:

Dengue fever
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آسانی اور سہولت سے پانی صاف کرنے والی ہائیڈروجل ٹکیہ

Next

آسمانی پتھر چھت توڑ کر سوئی ہوئی خاتون کے تکیے پر آ گرا!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme