Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے زہریلی گیس سے اموات پر تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی

By Akhtar Rasool
اپریل 7, 2023 3 Min Read
0

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں مبینہ طور پر زہریلی گیس کے باعث ہونے والی اموات پر پولیس تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے علاقے میں کارخانے قائم کرنے کے اجازت ناموں کے طریقہ کار پر رپورٹ طلب کر لی ہے

گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات سے متعلق بھی رپورٹ طلب کی، جبکہ ایس پی انویسٹیگیشن کی رپورٹ کو مسترد کر دیا

یاد رہے کہ کراچی کے علاقے کیماڑی ٹاؤن میں 5 سے 31 جنوری کے درمیان زہریلی گیس کے اخراج کی وجہ سے کمسن بچوں سمیت اٹھارہ افراد کی اموات اور فروری 2021 میں پراسرار گیس کے اخراج کے بعد بندرگاہ کے قریب آبادیوں میں دس اموات ہوئی تھیں، جبکہ تین سو افراد متاثر ہوئے تھے

ان واقعات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ حسن اکبر نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ 2021 میں نو ہلاک ہونے والوں کی لاشوں میں سے چار کی پوسٹ مارٹم رپورٹس آ چکی ہیں

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سال رواں کے دوران گیس کے اخراج کی وجہ سے ہونے والی اموات کے بعد علاقے میں موجود فیکٹریوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ فیکٹریوں کو سیل کر دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتشی افسر جائے گا اور پانچ ہزار روپے لے کر فیکٹریاں ڈی سیل کر دے گا۔

اسسٹنٹ کمشنر کیماڑی نے بھی عدالت کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے فیکٹریاں سیل کر دی ہیں

عدالت نے متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے دریافت کیا ”ایک غیر قانونی فیکٹری چل رہی ہے، اس کو بند کیوں نہیں کیا گیا؟ فیکٹریاں کیسے سیل کی گئیں ہیں؟ سیل کرنے کے علاوہ کوئی کارروائی ہوئی؟ اتنے طاقتور لوگ ہیں کہ غیر قانونی طریقے سے فیکٹریاں لگا دیں؟ فیکٹریوں کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟ زہریلی گیس سے اتنی اموات ہوئیں، پوری آب و ہوا زہریلی ہو گئی اور آپ نے صرف سیل کر کے جان چھڑا لی؟“

اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت سے اس کیس میں ایکشن کے متعلق ہدایات طلب کیں، جس پر جیف جسٹس نے کہا کسی جگہ کوئی غیر قانونی کام ہو رہا ہے تو کیا جب عدالت ہدایت دے گی تب کاروائی کریں گے؟ ہم نہیں چاہتے کہ انتظامی اختیارات میں مداخلت کریں

عدالت نے کمشنر کراچی، ڈی سی کیماڑی، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) کراچی ساؤتھ کو طلب کر لیا اور سماعت 10 اپریل تک ملتوی کر دی

دوسری جانب کیماڑی کے علاقے مواچھ گوٹھ میں جنوری میں جان سے جانے والے چار سالہ اظہر علی کے والد شکور احمد نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے علاقے میں موجود گودام نما کارخانوں کو حادثات کے بعد محض چند روز کے لیے سیل کیا گیا تھا۔ اب وہ تمام کارخانوں کی سیلیں توڑ دی گئی ہیں اور رات کے اوقات کارخانوں سے سامان بھی نکال لیا گیا ہے

جنوری میں اس خبر کو بریک کرنے والے نجی ٹی وی ’ڈان نیوز‘ کے صحافی اسماعیل ساسولی کے مطابق چند کارخانوں میں دوبارہ سے کام بھی شروع ہو گیا ہے

مواچھ گوٹھ میں اموات کی وجوہات جاننے کے لیے محکمہ صحت کی تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے گزشتہ روز رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ابتدائی طور پر خسرہ سے اموات کی اطلاع ملی تھی، تاہم مرنے والوں کے جسموں پر خسرے کے نشانات نہیں ملے

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر نسیم احمد کی سربراہی میں بنائے جانے والے اس میڈیکل بورڈ میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر مخدوم پرویز احمد، پولیس سرجن سمعیہ سید اور سول اسپتال کراچی کے ڈاکٹر عزیز اللہ خان ڈھلو بھی شامل تھے

میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق : ’مرنے والوں کی پوسٹ مارٹم، ہسٹوپیتھولوجی، ٹاکسیکولوجی اور وائرولوجی رپورٹس کے بعد ممکنہ طور پر تمام اموات علاقے میں موجود غیر قانونی کارخانوں سے نکلنے والی زہریلی گیسوں کے باعث ہوئی تھیں۔‘

میڈیکل بورڈ نے عدالتی اجازت پر آٹھ لاشوں کو قبروں سے نکال کر مختلف میڈیکل ٹیسٹ کیے تھیں

مقامی افراد کے مطابق ان کارخانوں میں مختلف اقسام کے تیل بنائے جاتے ہیں اور حال ہی میں ایک نئی فیکٹری کھولی گئی ہے، جس میں پتھر جلا کر کوئی دھات حاصل کی جاتی ہے

میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے علاقے کے دورے کے دوران وہاں موجود کارخانے بند ہونے کے باعث ہوا میں زہریلی گیس کی موجودگی کے اثرات حاصل نہیں کیے جا سکے

رپورٹ کے مطابق زیادہ اموات ایک ہی فیکٹری سے پانچ جنوری کو ہونے والے گیس کے اخراج کے باعث ہوئیں۔

Tags:

death toll in karachi gas leakKarachikarachi gas leakkarachi newskeamari gas leakkeamari gas leak in karachi claims 14 liveskeamari port karachi pakistanpoisonous gaspoisonous gas claims in kemaripoisonous gas emission in karachipoisonous gas karachipoisonous gas latest newspoisonous gas newspoisonous gas released in karachi's factorypoisonous gas spread in karachipoisonous gas todaypoisonous gas updatestoxic gastoxic gas in karachi
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کوئٹہ: بارکھان سے برآمد لاشیں گراں ناز کے بیٹوں کی تھیں، ڈی این اے رپورٹ

Next

پاک۔بھارت کشیدہ سیاسی تعلقات اور کرکٹ ورلڈ کپ پر چھائے ہوئے بے یقینی کے سیاہ بادل

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme